نازی کیمپ – انور ساجدی

225

نازی کیمپ

تحریر: انور ساجدی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان یونیورسٹی کے دیرینہ حالات سے پتہ چلا ہے کہ یہ کوئی علمی درسگاہ نہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ کے اندر جو نازی کیمپ تھا اس کی حیثیت بھی کم و بیش وہی تھی نہ جانے کن لوگوں نے ایک پراسرار مخلوق یہاں تعینات کی تھی جن کے اندر نہ کوئی انسانیت تھی نہ بطور انسان ان کی کوئی ساکھ تھی اور نہ ہی درس و تدریس سے ان کا تعلق تھا یہ تو شرمناک افسوسناک اور ہولناک اسکینڈل کا ایک پہلو ہے جو اصل پہلو ہے اس کے بارے میں بات کرنا پل صراط کے اوپر گزرنا ہے اگر یہ آسان کام ہوتا اس کے بے حد نازک پہلو نہ ہوتے تو درجن بھر سیاسی جماعتیں محض اخباری بیانات پر اکتفا نہ کرتیں بلکہ وہ اس شرمناک اسکینڈل کو سیاسی نہ صحیح بنیادی انسانی حقوق کی بنیاد پر اٹھاکر ایک ملک گیر مہم کا آغاز کرتیں۔

کس نے بلوچستان کی سب سے بڑی علمی درسگاہ کو قلی کیمپ میں تبدیل کیا اس کی تحقیقات کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب جانتے ہیں یونیورسٹی کے اسٹاف کے جو لوگ استعمال ہوئے ان سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ان کا انفرادی عمل تھا یا اس کے پیچھے کوئی طاقتور گینگ تھا طالبات کو کمفرٹ گرل بنانا جنسی طور پر ان کا استحصال کرنا انہیں خفیہ کیمرے لگاکر بلیک میل کرنا ہر حوالے سے سنگین جرم ہے اس ریاست کی کسی یونیورسٹی میں آج تک ایسا واقعہ نہیں ہوا اگر بعض طالبات ہائیکورٹ نہ جاتیں تو نہ جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا یہ واقعی ذہنی غلامی کی کریہہ انگریز ایکٹ ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ انکوائری کی تکمیل تک وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن اس ملک کی جو روایت ہے اس کے مطابق طاقتور عناصر وی سی کو بچانے کی بھر پور کوشش کریں گے تاکہ اسکینڈل کے اصل محرکات منظر عام پر نہ آسکیں ایسا تو ممکن نہیں کہ معطل وی سی دو بارہ عہدے پر آجائے لیکن اس ملک میں کوئی چیز بعید نہیں ایک افسوس کی بات یہ ہے کہ تاریخ کے اتنے سنجیدہ واقعہ کو بعض لوگ عاصیانہ طور پر لے رہے ہیں ایسے بیانات بھی آئے کہ ملزمان کو سنگسار کیا جائے اگر ریاست مدینہ ہوتی تو ایسا ممکن تھا لیکن مروجہ قوانین کے تحت ایسا ممکن نہیں، مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ قانون حرکت میں آئے اور عدالت عالیہ کے چیف جسٹس جنہوں نے ازراہ مہربانی سوموٹو لے کر جاری ظلم روک دیا ہے۔ مظلوموں کو انصاف دلائیں بلکہ خود انصاف فراہم کریں تاکہ آئندہ بدمعاشوں کے کسی ٹولے کی یہ جرات نہ ہو کہ وہ یونیورسٹی کی طالبات کا ویڈیو بناکر انہیں بلیک میل کرسکے چونکہ مسئلہ نازک ہے اس لیے وی سی اور دیگر ملزمان کو حفاظتی تحویل میں لیا جائے تاکہ کوئی اشتعال میں آکر قانون اپنے ہاتھوں میں نہ لے تام ملزمان کا بلوچستان میں رہ کر معمول کی زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہے لازمی طور پر یہ لوگ کہیں اور مراجعت کریں گے لیکن یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ لوگ انکوائری مکمل ہونے سے پہلے فرار نہ ہونے پائیں، وی سی کے لیے اپنے آبائی علاقہ میں جاکر آباد ہونا نسبتاً آسان ہے جبکہ دیگر ملزمان کے لیے بیرون ملک جانے کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے جو لوگ نشانہ بنے انہیں جرأت کا مظاہرہ کرکے سامنے آنا چاہیے کیونکہ اسکینڈل کے بے نقاب ہونے کے بعد پانی سر سے اونچا چلاگیا ہے اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکینڈل کے تمام شیطانی کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ کوئٹہ میں قائم بلوچستان یونیورسٹی کو جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت تباہ کیا گیا گوکہ بظاہر تربت، خضدار اور لورالائی میں کیمپس کا قیام اچھا اقدام ہے لیکن بادی النظر یہ اسی گہری سازش کا حصہ ہے تاکہ بلوچستان بھر کے طلباء کوئٹہ میں اکٹھ نہ ہو اور طلباء مختلف علاقوں میں منتشر رہیں اس خیال کو بولان میڈیکل کالج کے ان طالبات سے روا رکھے سلوک سے تقویت ملتی ہے جو ہاسٹل میں مقیم ہیں خاص طور پر مخصوص علاقوں کی طالبات کی بار بار حوصلہ شکنی اور توہین کی جاتی ہے تاکہ وہ ہاسٹل بدر ہوں یا انتظامیہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوں ان اقدامات کا مقصد کوئٹہ کو علاقہ غیر بنانا ہے حالانکہ حکومت نے خود تمام تعلیمی ادارے اسی ایک شہر میں اکھٹے کیے تھے بلوچستان یونیورسٹی، آئی ٹی یونیورسٹی، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی سب یہیں پر ہیں شروع سے ہی حکمرانوں کی پالیسی رہی ہے کہ کوئٹہ بلوچستان کا حصہ نہیں ہے۔
بلکہ یہ الگ اور جداگانہ تشخص کا حامل علاقہ ہے آج تک کسی گورنر کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ ان جامعات اور دیگر اداروں کی تہہ تک جھانکے اور اصل معاملات کا کھوج لگائے مثال کے طور پر موجود گورنر کے علم میں بارہا لایا گیا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے لیکن انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا شائد ہر گورنر مجبور اور بے بس تھا کیونکہ کسی گورنر نے بحیثیت چانسلر کبھی ڈھنگ کا کام نہیں کیا حالانکہ گورنر کا اور کوئی کام نہیں وہ صبح سے شام تک فارغ بیٹھا رہتا ہے اسے صرف چانسلر ہونے کی فضیلت حاصل ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کی طاقت کو تقسیم کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی لیکن درمیان میں جو بلیک میلنگ کا گھٹیا طریقہ استعال کیا گیا وہ نہ صرف سنگین جرم ہے بلکہ بذات خود لڑکیوں کی تعلیم کیخلاف سازش ہے شائد کچھ عناصر کا خیال تھا کہ یونیورسٹی کو رفتہ رفتہ مالی انتظامی اور اخلاقی طور پر ناکارہ کرکے بند کردیا جائے تاکہ نہ صرف نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

یونیورسٹی کی بربادی کی داغ بیل تو 2006ء میں پڑی تھی جب یہاں طلباء تنظیموں کی گرفت مضبوط تھی اس گرفت کو کمزور کرنے کیلئے ان کے یونیورسٹی میں پڑھنا اور آزادانہ نقل و حرکت کرنا نامکن بنادیا گیا اس کے بعد تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت دیگر علاقوں میں ادارے بنائے گئے حالانکہ یونیورسٹی کی مالی حالت اچھی نہ تھی اور نئے اداروں کی بجائے اس کو ٹھیک بنانے کی ضرورتی تھی، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے فنڈز کم کردیئے صوبہ کی مالی پوزیشن بھی کمزور تھی اس لیے یونیورسٹی کے ذمہ دار دیگر کاموں میں لگ گئے۔ یہاں پر توہین انسانیت اور تذلیل آدمیت تو جاری و ساری رہی لیکن جس طرح اقربا پروری کی گئی اور جس طرح میرٹ کی دھجیاں اڑادی گئیں اس کی مثال شائد ہی ملے۔

مولانا نے واضح طور پر کہا تھا کہ حکومت سے مذاکرات صرف اس صورت میں ہوسکتے ہیں جب مذاکراتی ٹیم اپنے ساتھ وزیراعظم کا استعفیٰ لائے لیکن لگتا ہے کہ جے یو آئی نے اپنے سخت رویہ میں تبدیلی پیدا کی ہے پارٹی کے سیکرٹری جنرل عبدالغفور حیدری نے اچانک استعفے کے بغیر بات چیت شروع کرنے کا عندیہ دیدیا ہے لگتا ہے کہ حکام بالا نے طاقت کے استعمال کا جو فیصلہ کیا ہے اس کے بعد جے یو آئی اپنا سخت بے لچک اور جارحانہ رویہ کو تبدیل کرنے پر مجبور ہے حکومت نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین کی دفعہ 245کے تحت اسلام آباد کو فوج کے حوالے کردیا جائیگا اب ظاہر ہے کہ سیاسی کارکن پولیس سے تو دو دو ہاتھ کرسکتے ہیں فوج سے نہیں اوپر سے شیخ رشید کی یہ دھمکی منظر عام پر آئی کہ جب بھی علماء نے تحریک چلائی ملک میں مارشل لاء لگا حالانکہ یہ دھمکی اپوزیشن کیلئے کارگر نہیں، حکومت کیخلاف زیادہ کارگر ہے معلوم نہیں کہ شیخ رشید اتنے پریشان کیوں ہیں شائد 68 سال کی عمر میں ان کا خیال ہے کہ یہ ان کی آخری باری ہے اس کے بعد وہ شائد ہی پارلیمنٹ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں ادھر حکومتی ٹیم کا رویہ بھی عجیب ہے وہ ایک ہی نشست میں اپوزیشن کو دھمکی دیتی ہے اور مذاکرات کی دعوت بھی اس سے ان کی سیاسی ناپختگی اور اناڑی پن ظاہر ہوتا ہے حالانکہ پرویز خٹک نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے وہ پیپلز پارٹی، اے این پی، شیرپاؤ اور تحریک انصاف میں شامل رہے ہیں لیکن ایسے دکھائی دیتے ہے کہ انہوں نے کوئی سیاسی تجربہ حاصل نہیں کیا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔