لاڑکانہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کا احتجاج

86

سندھ بھر سے جبری گمشدگیوں کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی – سورٹھ لوہار

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق وائس فار مسنگ پرسنس آف سندھ کی جانب سے لاپتا سندھی کارکنان کی بازیابی کے لیئے لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا جس کی رہنمائی وی ایم پی رہنما شاہد ایوب کاندھڑو، آکاش ٹگڑ، جیئے سندھ تحریک کے رہنما عبدالفتاح چنا، عبدالخالق خاصخیلی اور لاپتا افراد کے لواحقین سمیت دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔

اس موقع پر شرکاء نے جبری طور پر گمشدہ افراد کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر سے درجنوں سندھی سیاسی قومپرست کارکنان پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں اٹھاکر لاپتا کیئے گئے ہیں جن میں میں جیئے سندھ تحریک کے رہنما مسعود شاہ، شوکت مرکھنڈ، کاشف ٹگڑ، ایوب کاندھڑو، گلشیر ٹگڑ، بلاول چانڈیو، پرفیسر شبیر کلھوڑو، مرتضٰی جونیجو، شاہد جونیجو، انصاف دایو، شادی خان سومرو، باسط کلہوڑو، مرتضیٰ سولنگی، رفیق عمرانی، علی احمد بگھیو، اعجاز گاہو، سہیل بھٹی اور دیگر درجنوں سندھی کارکنان شامل ہیں۔

مقررین نے کہ کہ ہم دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی ریاست کی جانب سے جاری سندھ میں انسانی حقوق کی سنگین پائمالیوں کا نوٹس لیں اور لاپتا سندھی کارکنان کی آزادی کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر وائس فار مسنگ پرسنس آف سندھ کی رہنما سورٹھ لوہار نے اپنے پریس بیان کہا کہ سندھ سے درجنوں سندھی قومپرست کارکنان ریاستی اداروں کے ہاتھوں اٹھاکر لاپتا کیئے گئے ہیں جن کو کسی عدالت میں بھی نہیں پیش کیا جا رہا۔ سندھ بھر سے جبری گمشدگیوں کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی، اس سلسلے میں ہمارا اگلا احتجاج 12 اکتوبر کے دن کراچی پریس کلب کے سامنے ہوگا۔