لاپتہ راشد حسین کو کسی عدالت میں تاحال پیش نہیں کیا گیا – لواحقین

75

دیگر تمام لاپتہ افراد کے لواحقین سے مشاورت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائیگا – لواحقین

انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین بلوچ کے لواحقین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں ان کے گمشدگی اور عدم بازیابی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے احتجاجی اعلامیہ جاری کیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لواحقین کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے متحرک کارکن 23 سالہ راشد حسین بلوچ جو کہ 2017 سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے اور ایک نجی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کرتے تھے جنہیں 26 دسمبر 2018 کو صبح 9 بجے کے وقت شارجہ سے اماراتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کرکے 6 ماہ تک لاپتہ رکھا گیا اور اس طویل دورانیہ میں نہ ہی ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی فورم پر لایا گیا، لواحقین کو ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چلایا گیا بلکہ عالمی بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے راشد کو نصف سال تک پابند سلاسل رکھا گیا چونکہ نہ وہ کسی غیرقانونی فعل میں ملوث پایا گیا اور نہ ہی اماراتی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے مرتکب ہوئے اس کے باوجود ان کے تمام حقوق سلب کرکے بغیر سفری دستاویزات کے 22 جون 2019 کو ایک نجی طیارے کے ذریعے پاکستان منتقل کیا گیا جس کے تمام کاغذی ثبوت بھی ہے جنہیں ملک میں عدالت عالیہ و لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سپریم کورٹ کی قائم کردہ کمیشن سمیت مختلف فورمز پر کیئے گئے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ راشد حسین بلوچ کو حال تاحال کسی عدالت میں لایا گیا اور نہ ہی اب تک ان کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہے جس طرح امارات میں انہیں 6 ماہ تک لاپتہ رکھا گیا اسی تسلسل کو یہاں پاکستان میں بھی جاری رکھا گیا ہے اور امارت سے منتقلی کو آج چار ماہ کا عرصہ گزر گیا جو کہ مجموعی طور پر 10 ماہ کا عرصہ بنتا ہے کہ کسی ماں کے لخت جگر کو لاپتہ رکھا گیا ہے جس کی راہ کو ان کے بوڑھے والدین آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کا لخت جگر جو ان کے بڑھاپے کا سہارہ تھا لیکن آج اپنی نا کردہ گناہوں کی سزا نہ جانے کس نا معلوم زندان میں دیگر لاپتہ نوجوانوں کی طرح گزار رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے راشد حسین کی بازیابی کیلئے مختلف دروازے کھٹکھٹائے، آئینی قانونی فورمز پر گئے لیکن اب تک کوئی توجہ نہیں مل سکی ہے اور نہ ہی اس غیر قانونی گرفتاری و گمشدگی کا کسی نے نوٹس لیا ہے، انہیں منظر عام پر لانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں ۔ ان کی بوڑھی والدہ ضعیفی عمر میں بھی بیٹے کی بازیابی کیلئے پریس کلب کے سامنے قائم کیمپ میں احتجاجی بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہے اور حکمرانوں سے احتجاج کررہی ہے کہ ہمیں جینے دو اور میرے بڑھاپے کے سہارے کو منظرعام پر لایا جائے اور اگر اس پر کوئی جرم ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، اگر بے گناہ ہے تو اسے غیر مشروط طور پر رہا کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیئے جائیں۔

لواحقین نے کہا اس حوالے سے آنے والے ہفتے میں دیگر تمام لاپتہ افراد کے لواحقین سے مشاورت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائیگا آپ تمام روشن فکر ترقی پسند سوچ رکھنے والے دوستوں، جمہوری سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں، سول سوسائٹی سمیت تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں سے تعاون کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اعلان کردہ احتجاجی شیڈول میں بھرپور شرکت کرکے راشد بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرکے انسان دوست ہونے کا ثبوت دیں۔