قومی فریضہ – سیف بلوچ

37

قومی فریضہ

تحریر: سیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب بات قومی فریضے کی آتی ہے تو وہاں چند سوالات دماغ کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں کہ قوموں میں وہ کون سے فرد یا اشخاص ہیں جو سامراجی قوتوں سے اپنی قومی شناخت اور بقاء کی حفاظت کرتے ہیں؟ اگر وہ اس ذمہ داری کو اپنے سر لیں بھی تو وہ کس حد تک اسے نبھا پائیں گے؟ وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو نا قومی ذمہ داری جانتے ہیں نا فرض اور وہ کیسے اس سے منہ موڑتے ہیں؟ قومی فریضہ اور ذمہ داری کس لئے؟ اور اس پورے معاملے میں کامیابی کس کے قدم چومے گی؟

اب آتے ہیں ان سوالوں کے جواب کی جانب کہ جو اپنے قوم پر ہونے والے ظلم کا احساس رکھتے ہیں، شعوری طور پر تیار رہتے ہیں، قومی جذبہ رکھتے ہیں، ہمت کا دامن تھام لیتے ہیں، موت سے نہیں گھبراتے، موت کو بھی مات دیتے ہیں، مسلسل جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، ہر مشکل سے نپٹ لیتے ہیں، رسک لینا جانتے ہیں، ڈر سے کوسوں دور رہتے ہیں- یہ وہی ہیں جو اپنی قوم کو مشکل حالات سے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں-

جو موت کے منہ سے نکل کر بھی وہی ہمت، جذبہ اور احساس کے ساتھ مسلسل جدوجہد کو جاری رکھتے ہیں- برداشت کا دامن تھامے رکھتے ہیں، اپنے فرض اور ذمہ داری سے کبھی غافل نہیں ہوتے اور جدوجہد کے اس سنہرے موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے- ایسے لوگ اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں- یہی وہ لوگ ہیں جو قومی ذمہ داری نبھا کر اپنا فرض ادا کرتے ہیں-

وہ لوگ جو دنیا میں قومی فرائض اور ذمہ داری سے لاتعلق رہتے ہیں، ظلم کی شب کو امن کی صبح سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں، صحیح اور غلط کے مابین فرق نہیں کرتے، صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دیتے ہیں، ایسے لوگ بـے احساس لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور تاریخ کے سب سے نکمے انسان تصور کئے جاتے ہیں-

یہ لوگ کاہلوں کی دنیا جیتے ہیں، سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں- جب فرض اور ذمہ داری کی بات آئے تو بہانے کا بازار گرم کرتے ہیں- فرائض اور ذمہ داریوں کو بـے بنیاد قرار دے کر اپنی جان چھڑاتے ہیں-

جو لوگ ظلم کے ماحول میں خاموشی کا مظاہرہ کریں تو سمجھ جانا کہ ایسے انسان حیوان کا روپ دھار لیتے ہیں- ایسے لوگ انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلاتے ہیں-

آج بلوچستان سنگین حالات سے گذر رہا ہے- ہر طرف تاریکی کا بادل چھایا ہوا ہے، خوف کا سماں ہے- لاپتہ ہونے کا سلسلہ شدت سے جاری ہے، کسی کو بھی نہیں پتا کل کس کی باری ہے، گھروں کا نذر آتش ہونا، بستیوں کا اجڑنا، نکل مکانی پر مجبور ہونا، کسمپرسی کی زندگی جینا، تشدد زدہ لاشیں برآمد ہونا یا سالوں سال اپنے پیاروں کا نا مل پانا- یہ بلوچ قوم کو انسانیت سے عاری ریاست پاکستان کی طرف سے دی گئی غلامی کے تحفے ہیں-
جس کے ذمہ دار پہلے تو ہم خود ہیں کہ ظلم سہنے کی بری بیماری لگی ہے، دوسرے وہ لالچی لوگ ہیں جو دو پیسے کی خاطر اپنی قوم کا سودا کر رہے ہیں- ہم خود اس لئے کہ ہم منہ پر تو بولتے ہیں کہ ہمیں غلامی قبول نہیں پر غلامی کیخلاف برسرپیکار نہیں ہوتے- جب ہم سے کوئی غیرت مند بلوچ یہ کہے کہ چلو غلامی کیخلاف دشمن سے نپٹیں تو ہم یہ کہہ کر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں کہ “اڑے منی فیملی ئے چے بیت؟”

ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیئے کہ آج وہ سرفروش جو قومی غلامی کا احساس کرتے ہوئے بلا جھجھک اپنی سروں کی قربانی دے رہے ہیں، اس لیئے کہ ان کی آج کی قربانی قوم کی کل کا ایک روشن مستقبل ہوگا اور وہ اس ظلم سے نجات پائیں گے-

وقت جیسا بھی ہو، حالات جیسے بھی ہوں، مایوسی کے سائے کو اپنی طرف بھٹکنے نہ دینا، کبھی بھی اپنی ذمہ داریوں سے مت بھاگنا، کبھی بھی فرائض سے منہ نہ موڑنا-

برے وقت اور حالات ہمارے برداشت کا امتحان لیتے ہیں کہ ہم کس حد تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے- ایسے وقت میں ذمہ داریوں سے بھاگنے کے بجائے ثابت قدم رہنے میں بھلائی ہے- اگر ہم ثابت قدم رہیں گے تو انقلاب لانا کوئی مشکل کام نہیں-

آج ہم سب کی پوری قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس قابض ریاست پاکستان اور اس کے ظالمانہ نظام کو بلوچ سماج سے مکمل طور پر خاتمہ کریں اور اسے شکست سے دوچار کریں، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے قوم کو اس ظالمانہ نظام سے چھٹکارا دلا کر ایک خودمختار اور آزاد ریاست دیں، جہاں امن، انصاف اور برابری کا نظام ہو-

اگر ہمیں ظالم ریاست کی ظلم سے نجات پانا ہے تو آج ہی سے ہمیں اپنے ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنا قومی فرض ادا کرنا چاہیئے- جب تک ہم ظلم کے سائے تلے رہیں گے تب تک ہماری زندگی حیوانوں سے بدتر ہوگی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے- اور ایسا نہ ہو کہ کل ہم تاریخ میں مورخ تصور کئے جائیں-

جو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے کبھی غافل نہیں ہوتے اور مسلسل جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہیں کامیابی انہی کا مقدر بنتی ہے-


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔