عالمی قوتیں کردوں کے حوالے پالیسی پر نظر ثانی کرے – ڈاکٹر اللہ نذر

86

ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے مجھے یقین ہے کہ عالمی یا امریکی امداد کے بغیر کرد اپنی سرزمین اور قومی وقار کے لئے لڑتے رہیں گے لیکن تاریخ امریکہ اور دوسری مغرب ممالک کو کردوں کی قرضدار ٹھہرائے گی۔

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹراللہ بلوچ نے ترکی کی جانب سے شام کے زیر انتظام علاقوں میں کردوں پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کردوں نے مغربی اسلحے اور امداد کے لئے نہیں بلکہ اپنی قومی اقدار اور سرزمین کی دفاع کے لئے داعش کے خلاف تاریخی جنگ لڑی ہے۔ ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے مجھے یقین ہے کہ عالمی یا امریکی امداد کے بغیر کرد اپنی سرزمین اور قومی وقار کے لئے لڑتے رہیں گے، لیکن تاریخ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو کردوں کی قرضدار ٹھہرائے گی۔

ڈاکٹراللہ نذر بلوچ نے کہا کہ ترکی جارح قوت اور کرد اپنی سرزمین کے لئے جنگ لڑرہے ہیں۔ جب عراق اور شام جیسی ریاستیں داعش کے سامنے ڈھیر ہورہی تھیں تو یہ کرد قوم تھا جس نے آگے بڑھ کر اپنے گیارہ ہزار بیٹوں اور بیٹیوں کی لہو کا نذرانہ پیش کرکے داعش کو پسپا کردیا۔ انہوں نے دنیا کو محفوط بنانے میں ناقابل بیان کردار ادا کی۔ کرد سرزمین بھی داعش سے متاثر ہوسکتا تھا کیونکہ طاقت کے توازن اور چند ممالک کی پشت پناہی کے تناظر میں دیکھا جائے تو داعش ہر اعتبار سے کردوں کے مقابلے میں طاقتور تھا۔ یہ قوم پرستی کا طاقتور جذبہ ہے جس نے داعش کو شکست سے دوچار کیا اور انسانیت کا سر فخر سے بلند کیا۔

ڈاکٹراللہ نذر بلوچ نے کہا میں کردوں کو مغرب کا اتحادی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں انسانی افتخار اور قوم پرستی کا مضبوط مورچہ سمجھتا ہوں۔ وہ نیشنلزم کے نظریے پر کاربند ہوکر اپنی قومی وقار، قومی سرزمین اور انسانی افتخار کے لئے بدی کے محور داعش بشمول ترکی جیسے غاصبوں سے لڑرہے ہیں۔ جب مغرب داعش کے سامنے بے بس رہا تو کردوں نے تاریخی لڑائی لڑکر داعش کو شکست دی۔ اگر مشرق وسطیٰ میں کردوں کی انسانی افتخار اور قوم پرستی کا مضبوط مورچہ موجود نہ ہوتا تو اس وقت مذہبی دہشت گرد نہ صرف مشرق وسطیٰ کو ہڑپ کرچکے ہوتے بلکہ عالم انسانیت داعش کے رحم و کرم پر ہوتا۔

ڈاکٹراللہ نذر بلوچ نے کہا امریکہ سمیت عالمی قوتوں کو کردوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر فوری نظر ثانی کرنا چاہئے۔ اگر امریکہ نے کردوں کو تنہا چھوڑ دیا تو اس سے کردوں کو ضرور نقصان ہوگا لیکن یہ بہادر قوم ترکی سمیت کسی بھی جارح کا مقابلہ جاری رکھے گا مگر اس کا سب سے زیادہ نقصان عالمی امن کو ہوگا۔ یوں اس کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑے گا۔ مستقل میں ان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اتحاد کا حصہ بننے کے لئے قوم پرست قوتوں کو ہزار بار سوچنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ چند یورپی ممالک کی جانب سے ترکی پر اسلحہ فروخت کی پابندی گوکہ ایک اچھی پیشرفت ہے مگر یہ ناکافی ہے۔ ترکی کے بارے میں مسلسل تحفظات اور داعش سے روابط کے باوجود نرم برتاؤ مستقبل میں مزید پیچیدگیاں جنم دے گا۔ ترکی صدر طیب اردگان کے خاندان کے قریبی ارکان کی جانب سے داعش کی تیل کی فروخت اور باربرداری میں مدد عالمی میڈیا کی زینت بن چکی مگر عالمی طاقتوں کی جانب سے رد عمل صفر کے برابر رہا۔ اس سے فائدہ اٹھا کر ترکی نے کرد آبادیوں پر حالیہ حملہ شروع کیا ہے۔ اب تک پانچ دنوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور سینکڑوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ گوکہ کردوں کے خلاف ترکی کا نفرت اور بدلہ نئی نہیں ہے لیکن دنیا کے بڑی قوموں میں سے ایک ہونے کے ناطے کردستان کا ایک ملک بننا اور ریاست قائم کرنا عالمی اصولوں کے مطابق اور اس خطے میں امن کی ضامن ہے۔

آزادی پسند رہنما نے کہا کہ ترکی کی جارحیت میں پاکستان کی جانب سے حمایت اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ دونوں ممالک دوسری قوموں کو غلام رکھنے اور جبر کی پالیسی کے ساتھ مذہبی شدت پسندی میں بھی ایک ہی طریقہ کار اپنائے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کا اولین دوست مذہبی انتہا پسند ثابت ہوچکی ہیں۔ ترکی داعش جیسی عالمی دہشت گرد کا پشت پناہ اور پاکستان مذہبی جنونی دہشت گرد تنظیموں کا خالق اور موجودہ سہولت کار۔ عالمی قوتوں کو ایسی ممالک کے خلاف فوری اور سخت اقدام اُٹھانی چاہیئے۔