شہید حمید پھرجنم لیکر شہید ہوگا – سمیر جیئند بلوچ

91

شہید حمید پھرجنم لیکر شہید ہوگا

تحریر: سمیر جیئند بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا، یہ کلمات عظیم لیڈر آزادی پسند دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے انسانیت کے ہیرو، جس نے غلامی کو کبھی قبول نہ کیا۔ ناہی اپنے متزلزل، جنگ سے کنارہ کشی کرنے والے پارٹی کے لیڈر اور ایک گال پر تھپڑ کھاکر دوسرا گال پیش کرنے والے رہنما، ہندوستان کے بٹوارے کا ذمہ دار اور پاکستان جیسے منحوس ملک کو دنیا کے تہذیب یافتہ جغرافیہ پر جنم کا موقع دینے والے گاندھی جی کی غیر منتقی باتوں کی پرواہ کی، جسے دنیا کے تمام آزادی پسند قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور غلام قومیں کسی بھی قابض کے خلاف جنگ سے پہلے اس عظیم ہستی کے فلسفہ آزادی کو سامنے رکھ کر حوصلہ پاکر دشمن کے خلاف سر پر کفن باندھتے ہیں۔ دنیا انہیں سبھاش چندر بوس کے نام سے یاد کرتی ہے۔ سبھاش نے نہ صرف باتیں کی بلکہ تاریخ کو وہ سمت دی جس کے سبب انگریز جیسے مکار استحصالی ریاست گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو کر ہندوستان کو آزادی دینے پر مجبور ہوگئی۔ وہ تاریخ کا حصہ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سرخرو ہوئے اور فرنگی بھاگنے پر مجبور۔ ویسے دنیا کے مختلف غلام ممالک میں سبھاش جیسے عظیم ہستیاں ملتے ہیں، جن پر غلام اقوام کو ناز ہے۔

جب ہم اپنے مادر وطن بلوچستان پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہاں بھی تاریخ انمول انمٹ ہیروز و ہیروئینز سے بھری پڑی ملتی ہے۔ بلوچ کی تاریخ گواہ ہے جب جب بھی بلوچستان پر کسی نے بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو بلوچ خواتین و حضرات نے نہ صرف ان سے آنکھیں ملائیں بلکہ انھیں وہ سبق سکھائے جو تاریخ کا انمول خزینہ ہیں۔ سکندر جیسے فاشسٹ کو یہاں شکست ہوئی نتیجے میں وہ اپنے ستر ہزار فوجیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے اور سترہزار کے بجائے صرف سات نفری پر مشتمل اپنی زندہ مردہ جسم ایران پہنچانے میں بال بال کامیاب ہوئے۔عرب آئے انھیں بھی بلوچستان میں منہ کی کھانی پڑی، منگول آئے منہ لٹکائے بھاگ گئے۔ الغرض جس جس نے بلوچ سرزمین پر بری نگاہ ڈالی انکی آنکھیں پھوڑدیئے گئے۔ حتیٰ کہ ملک پر قبضہ اپنی جگہ جب خلیج جیسے ملکوں نے صرف یہ چاہا کہ ہمیں بلوچ سپاہی بطور کرایہ پاکستان کے زریعے چاہئیں، تو بلوچ نے مزاحمت کی، اور انھیں مجبور کیا کہ وہ اپنے ناپاک ارادے اور فیصلے واپس لینے پر مجبور ہوں، جس کی واضح مثال شہید حمید بلوچ کی ملتی ہے جنھوں نے استحصالی خلیجی ممالک کے تربت آنے والے کمانڈ پر جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ تو بچ گئے مگر اس کے بعد انھوں نے ناپاک قابض ملک کو صاف صاف بتادیا کہ بیشک تونے بلوچ قوم پر بندوق کے نوک پر غاصب ہوکر اپنے فوجیوں کا نظرانہ دیکروسائل لوٹ رہے ہو، مگر ہمارے لیئے یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملکی لوگ آپ کے کرایہ کے سپاہیوں کی طرح بلوچ کے ہاتھوں مریں۔

ان باتوں کے علاوہ بھی ناپاک ریاست اپنی وحشت پراڑی رہی کہ کسی طرح خلیجی ممالک ناراض نہ ہوں، اور نہ خوف کھاکر ڈریں میرے ساتھ بلوچ کے انسانی سمگلنگ میں ساتھ دیں، نتیجے میں انھوں نے بلوچ قومی سپوت حمید جان کو گرفتار کرکے بدو کے اوپر حملہ کرنے کے پاداش میں پھانسی کی سزا سنادی، اور بعد میں اس پر عملدرآمد بھی کرایا، مگر قابض ریاست پاکستان کو اس وقت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑاجب حمید بلوچ نے پھانسی کے پھندے کو بوسہ دیکر خود اپنے گلے میں ڈالا۔ یہ دیکھ کر قابض پنجابی کے پاووں کے نیچے سے زمین کھسک گئی۔ انکا خیال تھا کہ حمید بلوچ پھانسی کے دوران ہم سے اپنی جان بخشی کی التجا کریں گے اوراسی طرح ہم عرب ممالک کو قائل کر نے میں کامیاب ہوں گے کہ بس یہ ایک انفرادی عمل ہی تھا۔ آئندہ یہاں کوئی ایسا جان لیوا حملہ نہیں ہوگا، اوراگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بلوچوں کی ایک منظم آزادی کی تحریک ہے تو وہ قطعاَ غلط ہے۔ وہ اب بھی ہمیں آقا تسلیم کرتے ہیں اور ہم سے التجاء کہ آپ اپنی حکمرانی ہم پر کرتے رہے ہیں ہم غلام رہ کر وسائل لوٹنے میں کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے۔

ماضی میں پلٹ کر دیکھا جائے تویہ واقعہ آج سے تقریباَ اکتیس سال پرانا ہے، مگر اس تسلسل کو کئی حمید بلوچوں نے اپنے پاک خون سے جاری رکھا ہوا ہے، اور چندر بوس کے فلسفہ تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دونگا پر عمل پیرا چلے آرہے ہیں اور کل ہی کی بات ہے ایک اور حمید بلوچ اس نام کو دوبارہ دوبالا کرگیا۔ اس نوجوان نے قابض ریاست کے یزیدی فوج کے ساتھ دوبدو لڑائی میں جام شہادت نوش کرکے پاکستان کو واضح پیغام دیا کہ بلوچ کے وسائل، بلوچ سرزمین اور بلوچ قوم کو غلام بنانے کاخواب تمہارا کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، کیونکہ یہاں ہر گھر میں پھانسی کے پھندے اور بندوق سے نکلنے والی گولی کو بوسہ دینے والے حمیدوں کی کمی نہیں ہے۔ وہ اپنے سینوں میں اس وقت تک بندوق سے نکلنے والی گولیوں کو پیوستہ کرواتے رہیں گے، جب تک فرنگی کا ناجائز نومولود بچہ پاکستان اور اس کا پنجابی غلام ابن غلام رنجیت سنگھ کی پیداوار ہمارے پاک دھرتی بلوچستان سے نہیں نکلتی، اس وقت تک اپنی جان نچھاور کرتے رہیں گے۔

قارئین کرام آج کے قومی ہیرو، اس حمید بلوچ شہید کا اصل نام عبدالطیف بلوچ اور عمر اٹھارہ سے بیس سال تھا، اورحمید بلوچ انھوں نے اپنا کوڈ نام پسند کیا تھا، جب وہ محض چودہ سال کے تھے تو انہیں یزیدی پاکستانی فوج نے دوسرے چند بلوچوں کے ہمراہ مشکے میں ایک خونی آپریشن کے دوران حراست میں لیکر مشکے کالج کے میں کیمپ لے جاکر اذیت کا نشانہ بنانے بعد انہیں نیم مردہ حالت میں یہ کہہ کر چھوڑدیا تھا کہ آپ جاکر اپنے بھائی اور باپ وغیرہ کو پیغام دیں کہ آکر کیمپ سرینڈر کریں، اگر نہیں آئے تو آپ کے ماں باپ سمیت پورے خاندان کو بھی اٹھایا جائے گا۔ جب یہ گھر پہنچے تو واقعے بابت اپنے والدین کو آگاہ کردیا اور خود اپنی علاج کروانے بلوچ سرمچاروں کے کیمپ چلا گیا۔ کچھ دن بعد وحشی فوج نے انکے گھر پر چھاپہ مار کر انکے ماں بہن بھائیوں کو اٹھاکر کیمپ میں بند کردیا اور دھمکی دی کہ جب تک آپ کا حمید نامی بیٹا سرینڈر نہیں کرتا اس وقت تک آپ تمام بند رہیں گے، مگر اس نوجوان نے اس بات کو اہمیت نہ دی اور اپنے قومی خدمت میں اور مضبوطی سے جت گئے۔

وہ باقاعدہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کا حصہ بنے اور مسلح جہد شروع کی۔ یہ مرد مجاہد چار سال کے عرصے کے دوران انتہائی بے باکی سے اپنے قومی فرائض سر انجام دیتے رہے اور اپنے جہد اور مقصد کے ساتھ ایسے جڑے رہے کہ وہ فوجی کیمپ سے آزاد ہونے والے اپنے خاندان والوں کے ساتھ خاص ملاقات بھی نہ کرسکے۔ دن رات وہ قومی خدمت میں مگن رہے۔ اس دوران یہ وطن کا پروانہ مرکزی کیمپ اور گشتی پارٹیوں کا حصہ رہے۔ شہید حمید بلوچ کو دوسرے سرمچاروں سے یہ بات منفرد کرتی ہے کہ وہ جہد و قومی خدمت دوران جہاں بھی جاتے دوسرے بلوچ سرمچار اسے انکی محنت جفا کشی اور ملنساری کے سبب اپنے آنکھوں پر بٹھا دیتے۔ جفا کشی کا عالم یہ تھا کہ وہ اپنے کامریڈ ساتھیوں کے ہمراہ داری میں اگر ایک ماہ کے پیدل سفر پر روانہ ہوتے بھی تو دوستوں کو ایسے مسکراکر اللہ حافط کہتے جیسے محض پانچ منٹ کے دوری پر جارہے ہوں۔

شہادت کے دن یعنی اٹھارہ اکتوبر کے دن بھی وہ پارٹی مشن پر ہی تھے کہ دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا، جہاں وہ جام شہادت نوش کرکے امر ہوگئے۔ اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ بزدل یزیدی،اور قابض فوج کتنے حمید بلوچ شہید کروگے؟ انکے سینے اپنے بلوچ وطن اور ننگ ناموس ساحل وسائل کیلئے حاضر ہیں اور یہ حمید بلوچ جسمانی طورپر تو اپنے دوستوں سے الگ ہونگے، مگر فکری حوالے سے ان کا رشتہ مزید چپک جائے گا۔ جسے دور کرنا کسی بھی طاقتور قابض دشمن کے کیلئے ناممکن ہوگا ۔ ان کا کہنا تھا”وہ جتنے بھی حمید بلوچ شہید کریں گے پھر حمید بلوچ جنم لیگا اور پھراپنے وطن کے آزادی کیلے دشمن کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شہید ہوگا۔“ ہماری تمنا ہے کہ اللہ پاک ہر بلوچ سرمچار کو شہید عبداللطیف عرف حمید بلوچ جیسا حوصلہ، ہمت لگن اور بے لوث ،جفاکش اور صابر بنائے تاکہ آزادی کی منزل نزیک سے نزدیک تر ہو اور آزاد خیالی سرمچار کے نزدیک نہ بھٹکنے پائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔