شہید اُستاد قاسم جلے کی یاد – گزّو بلوچ

70

شہید اُستاد قاسم جلے کی یاد

تحریر: گزّو بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں بے شمار انسان ہیں لیکن انسانوں میں سے کُچھ ایسے ھوتے ھیں کہ وہ کبھی فراموش نھی ھوتے، موت سب پہ لازمی ھے لیکن کسی کسی کو موت گلے لگاکر ھمیشہ کے لئے زندہ کردیتا ہے، وہ انسان بہت بڑا خوش نصیب ہوتا ہے۔ شھید قاسم جلے ایک مھربان دوست تھے، وہ ہمیشہ اپنی قوم، اپنی سرزمیں کی آزادی کے خاطر جدوجِہدکرتے رہے۔ شھید قاسم جان 2011 کو بلوچ قومی فوج میں شامل ھوئے۔

ایک دفعہ میرا ملاقات شھید قاسم سے ھوا، میرے خیال میں کسی دوست کی شادی تھی، اُدھر شادی میں ڈھول اور ناچ بھی تھا، کُچھ لوگ ناچ رھے تھے، تو میرے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، سب لوگ گروپ کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھےاور مزاق شُغل کررھے تھے۔ شھید قاسم جلے مجھ سے مخاطب ھوکر بولا یار چلو چار دیوالی کے باھر بیٹھتے ھیں، ادھر نفسا نفسی ھے، تو میں نے کہا ٹھیک ھے چلیں، تو میں باھر چلا گیا۔ قاسم جان نے مُجھ سے کھا یار میں حیران ھوں کہ ھمارے بلوچ نوجوان کیؤں اتنے آزاد خیالی میں ہیں۔ کیا ان لوگوں کو اتنا معلوم ہی نہیں ھے کہ بلوچ قوم کس حالت میں ھے اور کیا یہ بلوچ نہیں ہیں؟ بس اپنے چند ذاتی خواھشات کے ساتھ کھیل رھے ھیں اور اس حد تک اپنے آپکو بے خبر کیئے ہوئے ہیں کہ ھمیں ایسا لگتا ھے کہ یہ لوگ بلوچ کے فرزند ہی نہیں۔ غلامی کا سب سے بڑا سبب یہی ھے، کاش یہ تعلیم یافتہ نوجوان بلوچ قوم کا آواز ھوتے، بلوچ قوم کے ماں بہنوں کے درد و غمّ میں شریک ھوتے تو کتنا اچھا تھا، بس ھر کسی کو دیکھو بڑے بڑے شلوار، بڑے بڑے بال، سائیکل اور گاڑیوں میں سوار ھوکر شراب کا شیشہ ھاتھ میں اِدھر اُدھر بلا وجہ گھومتا ہیں۔ اپنے آپکو دنیا سے بے خبر کرکے بس اس حد تک محدود ہیں۔ یہ تو ریاست کی چال ھے کہ بلوچ قوم کے نوجوانوں کو نشے میں مبتلا کرکے نیست و نابود کرے اور یہ لوگ اس ماحول کو اپنی زندگی سمجھ کر فخر سے سر اونچا کرکے گھومتے ہیں۔ میرے خیال میں ان لوگوں کو ابھی تک معلوم بھی نہیں ھے کہ یہ بری عادت ھماری غلامی کو مزید مضبوط بنائے گی اور ہماری زندگی کی تباہی کا سب سے بڑا سبب یھی رواج ھے۔

جب غیر فطری ریاست پاکستان نے بلوچ سرزمیں پر قبضہ کیا تو اُس وقت بلوچ کی نفسیات کو سمجھ کر بلوچ کو مختلف شکلوں میں بانٹ دیا، کسی کو سردار کی شکل کسی کو وڈیرہ کی شکل میں، کسی کو مُلا کی شکل، کسی کو میر معتبر کی شکل میں۔ جب بلوچستان کی جنگ پاکستانی قبضہ کے خلاف شروع ھوئی تو ریاست پاکستان نے ایک اور چال چلایا، ہمارے بلوچ بھائیوں کو اسلام اور قرآن مجید کا واسطہ دیکر پہاڑوں سے اُتار کر پھانسی کے پھندے پر ڈال کر شھید کیا گیا کیونکہ بلوچ قوم نے اسلام و قرآن پاک اور اللہ تعالیٰ کے ہر حُکُم کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ پاکستان اور اُسکی ناپاک فوج نے ھمیشہ اسلام کے نام کو بیچ کر اپنے کاروبار چلایا اور لوگوں کو اپنا غلام بنا ئے رکھا ھوا ھے۔

میں خود اس بات سے ھیران ھوں، یھی تعلیم یافتہ نوجواں ابھی تک اپنے آپکو نہیں پہچانتے، اپنی شناخت اور پہچان کو بُھول گئے ہیں، خدا کی قسم اگر ھم نے اس بار جنگ نہیں کی تو چند مُدت کے بعد بلوچ کا شناخت سو فیصد مٹّ جائیگا، ھمیشہ کے لئے، آج کل سوشل میڈیا بلوچ نوجوانوں کی آنکھوں کے سامنے آئینے جیسا ھے، پھر بھی اپنی قوم اور اپنی سرزمیں بلوچستان کے شھیدوں کے لیئے ایک پوسٹ و کمنٹ یا لا ئیک بھی نہیں کرسکتے ۔ اگر یہ جنگ جاری نہ رھا تو ہم ختم ہوجائیں گے۔

آئے روز ہمارے بلوچوں کے گھروں کو جلایا جارھا ھے، لوگوں کو اغواہ اور قتل بھی کررھے ھیں، ماں بہنوں کو اُٹھا کر غائب کررھے ھیں، مال مویشیوں کو بھی لوٹا جارھا ھے، پاکستان دُنیا کی جنگی جرائم کا مرتکب ہورہاہے، بلوچوں پر ظُلم کے پھاڑ دن بہ دن توڑ رھا ھے، بلوچوں کی نسل کُشی بھی کررھے ھیں، بلوچستان کے شھر تو اپنی جگہ دیھاتوں میں 20 -25چوکیاں قائم ہیں، سکولوں پر قبضہ کرکے اپنا چوکی بنایا ہوا ہے، اتنے ظُلم کے باوجود پھر بھی ھم خاموشی اختیار کریں؟ یہ کیسے اور کیوں ؟

آخر کار 20 جنوری 2013 کو سنگت شھید قاسم جلے بلوچستان کے ضلعء واشُک تحصیل بیسمہ میں شہید ہوئے۔ ریاستی ایجنٹ خدا رحم عیسیٰ زئی اور پاکستانی ناپاک آرمی نے اُنکے گھر پر چھاپہ مار کر ایک بہن ریحانہ بلوچ کے ساتھ انہیں شھید کردیا۔ شھید قاسُم جان تقریباً 12 گھنٹے تک دُژمن سے لڑتے رہے، سنگت قاسم جان بانُک ریحانہ اور باقی شھیدوں کی شھادت بلوچ قوم کے نوجوانوں کے لئے مشعلء راہ ھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔