تعلیمی اداروں میں علم دشمن اقدامات کی مذمت کرتے ہیں ۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لیاری

61

لاہور میں بھی بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کے خلاف مظاہرہ کیا جائے گا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لیاری کے چئیرمین عقیل عقیل بلوچ نے ایک مذمتی بیان میں بلوچستان یونیورسٹی میں بلیک میلنگ اور طالبات کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات میں انتظامیہ کے ملوث ہونے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف علم دشمنی بلکہ انسانیت دشمنی جیسے اقدامات ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ہراسگی جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ طالب علموں کو ہراساں کرکے انہیں خوف کے ماحول میں رکھنا کسی درندگی سے کم نہیں۔ جہاں خاندان کے لوگ بلخصوص وہ والدہ جو اپنی جوان بیٹی کو ملک کا معمار بنے کے لئے اور ایک بہتر انسان بننے کے لئے بھیجتی ہے، اسی مقدس ادارے میں اس کی بیٹی کی عزت پامال کی جائے گی، یہ کسی بھی والدہ نے نہ سوچا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان کے تعلیمی ادارے ویسے سہولیات کی عدم دستیابی سمیت دیگر کئی مسائل سے دوچار ہے جس کی وجہ سے طالب علم مختلف مسائل کا سامنا کررہے ہیں اور طالب علموں میں خود کشی جیسے واقعات کا بڑھتا رحجان بھی دیکھنے میں لیکن انتظامیہ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے طلبا و طالبات کو مذید الجھنوں کا شکار بنا رہی ہیں۔

حالیہ بلوچستان یونیورسٹی واقعہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے کہ پسماندہ بلوچستان کے طالبات کے ساتھ جنسی ہراسگی اور بلیک میلنگ جیسے واقعات کا انکشاف ہوا ہے جس میں یونیورسٹی انتظامیہ ملوث پائی گئی ہیں، اداروں کے اندر ایسے واقعات کا رونماء ہونا انتہائی شرمناک اور گھناؤنا فعل ہے جسکی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ ایسے واقعات کے خلاف عملی کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہم اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ عورت کی تذلیل نہ قابل برداشت ہے۔ اگر ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو بلوچستان کے تعلیمی ادارے بد سے بدتر رخ اختیار کر سکتے ہیں اور تعلیمی ماحول خراب ہوسکتا ہے۔ منشیات کے اڈے آباد ہونگے اور انکی ذمہ داری بھی بلوچستان یونیورسٹی کی ایڈمن اور بلوچستان حکومت ہوگی۔

آخر میں چئیرمین عقیل بلوچ نے تمام طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران کو بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کو اجاگر کرنے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام طلبہ تنظیمیں اس واقعے کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی وجہ سے طالب علم مذید پریشانی کا شکار نہ ہو اور اپنے تعلیم پر بہتر طریقے سے توجہ دے سکے۔

دریں اثنا بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کے خلاف لاہور میں مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے، ایک اعلامیے کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کے خلاف کل چار بچے لاہور پریس کلب پر مظاہرہ کیا جائے گا جس میں سول سوسائٹی، طلبہ اور دیگر افراد شرکت کرینگے۔