ترکی کا حملہ روکنے کے لیے کردوں کا شامی فوج سے معاہدہ

92

ترکی کے حملے کو روکنے کی آخری کوشش میں، شام میں کردوں کی زیر قیادت فورسز نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے جس کے تحت وہ سرحدی علاقوں کو شامی فوج کے حوالے کر دیں گے۔ 

کردوں کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) داعش کے خلاف جنگ میں مغربی ممالک کے اہم اتحادیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ شام کی ترکی کے ساتھ سرحد پر اب شامیتر فوج تعینات ہوگی تاکہ ’اس جارحاحیت کو پسپا کیا جاسکے اور شامی علاقوں کو ترک فوج اور اس کے کرائے کے جنگجوؤں سے آزاد کرایا جا سکے۔‘

شامی حکومت اور کرد فورسز کے درمیان معاہدہ گذشتہ ہفتے ترکی کی جانب سے ایس ڈیی ایف کے خلاف بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن کے جواب میں کیا گیا ہے۔ آپریشن میں اب تک 60 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نسلی بنیاد پر لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی جانب قدم ہے۔

ترک مسلح افواج اور شام کے متحدہ باغیوں نے اس آپریشن میں گذشتہ ہفتے تیزی سے کامیابیاں حاصل کی تھیں اور دو سرحدی شہروں کا انتظام سنبھال کر مزید پیش قدمی کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر جنرل مظلوم کوبانی عابدی نے ترکی کے فوجی آپریشن کو شامی کردوں کے ’وجود کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

ایس ڈی ایف اور شامی حکومت کے درمیان معاہدے کا مطلب شام کے کردوں کی جانب سے کئی برس سے جاری رہنے والے خود مختاری کے تجربے کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور اس سے متحارب کرد برادری کے اتحادوں میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

ترکی ایک عرصے سے ایس ڈی ایف پر حملے کی دھمکی دیتا آیا ہے کیونکہ وہ اسے ترکی میں کردوں کے علیحدگی پسند گروہ کے ساتھ رابطوں کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ علیحدگی پسند کرد ترکی کے ساتھ کئی دہائیوں سے لڑتے رہے ہیں۔ ترک حکومت نے کہا ہے کہ اس کے فوجی آپریشن شروع کرنے کا مقصد شام کی سرحد پر ’محفوظ علاقے‘ کا قیام ہے جو ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں سے آزاد ہو۔

لیکن ایس ڈی ایف، جس میں زیادہ تر کرد ملیشیا اور چھوٹا سا عرب دستہ شامل ہے، داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اہم اتحادی رہی ہے۔ اس گروپ کے ساتھ شام میں امریکی فوج کی موجودگی ترکی کے حملے میں رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم گذشتہ ہفتے صورت حال اس وقت تیزی سے تبدیل ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اعلان کیا کہ امریکہ ترکی کے شام میں داخلے کے منصوبے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ ایس ڈی ایف نے امریکی پالیسی میں اچانک تبدیلی کو ’پیٹھ میں چھرا گھونپنے‘ کے مترادف قرار دیا۔