بی ایس او آزاد پر امن سیاست پر یقین رکھتی ہے – ترجمان

101

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے تنظیم پر عائد پابندیوں کو غیر آئینی، غیر قانونی اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی ایس او آزاد بلوچ طالب علموں کی نمائندہ تنظیم ہے جو پر امن سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

بی ایس او آزاد کا منشور سیاسی ہے اور تنظیم کے تمام ممبران اپنے تنظیمی آئین پر کاربند رہتے ہوئے پر امن جدوجہد کررہے ہیں لیکن ریاست نے تنظیم کو کالعدم قرار دیکر اسکی سیاسی اور تعلیمی سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس سال کے عرصے میں تنظیم کے لیڈران و ممبران کو سرچ اینڈ ڈسٹرائے پالیسی کے مطابق ماورائے عدالت گرفتار کرنے کے بعد قتل کردیا گیا ہے اور کئی لیڈران و ممبران آج بھی ریاستی اداروں کے ٹارچر سیلوں میں مقید ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایس او آزاد کے لیڈران اور ممبران نے مشکل ترین معروضی حالات میں بھی دشواریوں، تکلیفوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پر امن جدوجہد کو جاری رکھا، نیشنل ازم کے نظرئیے کو بلوچ عوام تک پہنچانے کے لئے اور اپنے نظریے کی بقا و سلامتی کے لئے بے پناہ قربانی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طلبہ جدوجہد سے خائف ریاست نے پندرہ مارچ دو ہزار تیرہ کو بی ایس او آزاد کو کالعدم قرار دیکر اسکی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی اور لیڈران پر کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے انہیں جبری گمشدگی کا شکار بنایا تاکہ بلوچ سماج میں تنظیم کے اجتماعی مفاد کے عمل کو کاری ضرب لگا کر اس کے نوجوانوں کی طاقت کو منتشر کیا جاسکے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بی ایس او آزاد جیسی پر امن تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا مقصد نوجوانوں میں سیاسی شعور پنپنے نہیں دینا ہے تاکہ بلوچ قوم کے نوجوان غیر سیاسی ہو اور وہ اپنے فرائض سے غافل ہو کر قومی آزادی کی تحریک سے آشنا نہ ہونے پائے۔

ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں، سیاسی پارٹیوں اور ترقی پسند طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بی ایس او آزاد کی پابندی کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ تنظیم اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں جبکہ اس حوالے سے تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا میں آئن لائن کمپئین کیا جائے گا جس کے لئے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہیں کہ وہ بی ایس او آزاد پر لگائی جانے والی پابندی کے خلاف آواز اٹھائیں۔