بلوچ کے پاس ہے کیا؟ – نادر بلوچ

75

بلوچ کے پاس ہے کیا؟

تحریر: نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ کرہ ارض پر موجود انسانوں کی کل چھ ارب آبادی میں سے لگ بھگ تین کروڑ ہے۔ بلوچ قوم جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی کی ریاستوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مستقل طور پر بلوچ تین ممالک پاکستان، افغانستان، ایران میں آباد ہیں۔ بلوچ قوم سے بزور شمشیر چھینی گئی آزادی آج تک سلب ہے۔ جس سرزمین پر بلوچ آباد ہیں یہاں زندگی خود انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے۔ سماجی، معاشی مسائل کا اس خطے میں انبار ہے۔ بلوچ کی تعمیری ترقی سے کسی کو کوئی سروکار نہیں، نہ ایران کو نہ پاکستان کو بلوچ کے انسانی حقوق کا خیال ہے نہ ہی کسی انسانی اقدار کے بلوچ کو قابل سمجھا جاتا ہے۔ بلوچ ہر سو ریزہ ریزہ بکھری پڑی ہے یہ قوم اب تک اپنی شناخت وسائل و طاقت کے صحیع استعمال سے بے بہرہ و نا آشنا کیوں ہے؟

ایک چھبتا ہوا سوال بلوچ سیاسی کارکنوں سے ہمیشہ کی جاتی ہے کہ بلوچ کے پاس ہے کیا؟ کیا وسائل ہیں؟ کونسے ادارے ہیں، افرادی قوت کہاں ہے؟ ایک ریاست کیسے چلا پاو گے؟ وغیرہ وغرہ ۔ اب ذرا ہم ان سوالات کا جواب تلاشنے کی کوشش کریں تو معلوم پڑئے گا کہ متوقع جواب ہے کیا؟ کسی قوم کے اثاثہ جات کو مختلف حصوں میں بانٹ کر اسکی قومی طاقت کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جدید دنیا میں سماجی و معاشی نظام کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جس سے اقوام اپنی سماجی و معاشی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ صنعت و تجارتی اداروں کی قومی سطح پر معاشی، فلاحی و تعمیری کردار سے قومی ترقی کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا۔ بلوچ قوم ان تمام شعبوں میں آٹے میں نمک برابر کردار بھی نہیں رکھتا، جو لوگ اس شعبہ سے منسلک ہیں ان میں قومی شعور و قومی سوچ کا اتنا فقدان ہے کہ وہ ان وسائل کو قومی ترقی و قومی سوچ کی پروان چڑھانے سے قاصر ہیں۔

تعلیم کا زیور دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کا سب سے انمول اثاثہ ہے۔ اس نعمت سے محروم اقوام سماجی، معاشی، انسانی آزادی کے میدان میں کافی پیچھے رہ گئی ہیں۔ تعلیم کیلئے دو چیزوں کا ہونا انتہائی ضروری ہے ایک جدید تعلیمی نظام و سہولیات دوئم قومی زبان میں سلیبس کی تشکیل اہم پہلو ہے۔ قومی غلامی کے خلاف بر سرپیکار بلوچ قوم کی ریاستی تعلیمی نظام قطعا” قومی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے بلکہ فرسودہ سلیبس سوائے غلام و اطاعت گزار بنانے کے سماج میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی ہے۔ یہ نظام صرف انفرادیت و مادہ پرست بنانے کی سکت رکھتی ہے۔اس لیے اگر ہم بلوچ قوم کی تعلیمی میدان میں کارکردگی کو دیکھتے ہیں تو مایوس کن نظر آتی ہے۔ یہاں قابض سے گلہ کرنا بے سود رہے گا لیکن اسکے لیے قوم پرست کارکنوں کو سوچنا ہوگا کہ طویل منصوبہ بندی کرکے تعلیمی سلیبس تشیکل دیکر بہترین و جدید سہولیات سے آراستہ اسکولنگ نیٹ ورک کا قیام عمل میں لائی جائے جس میں قومی زبانوں پر مشتمل کتب بھی نصاب کا حصہ ہوں۔

سماجی اداروں کا سماجی ترقی و سماجی مساہل کے حل میں کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر متحرک سماجی ادارے تشکیل دی جائیں تو اس سے قبضہ گیر کے قائم اداروں پر انحصار میں کمی ہوجاتی ہے۔جس سے قبضہ گیر کا مقامی آبادی سے فاصلہ بڑھانے میں مدد ملتی ہے تاکہ قبضہ گیر کی عوام کو ورغلانے و استعمال کرنے کی کوششوں کو کم کی جاسکے۔ بلوچ سماج میں دیہات سے لیکر شہروں تک ایسے اداروں کی کمی ہے۔ سماجی اداروں کو عوام سے قربت و انکی مساہل کے حل کیلیے استعمال میں لانے سے ریاست کے مدمقابل ریاست قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ عوام کا ریاست پر انحصار کم ہوکر قومی سوچ و فکر کے تحت قاہم اداروں پر بروسہ بڑھ جاتی ہے۔

قابض کے اداروں میں بھرتی ہونے والے بیورکریٹس، انتظامیہ کی دیگر اداروں میں انفرادیت کے ایسے تیزاب سے دھو لیے جاتے ہیں کہ پھر قوم اور وطن کے بچوں کو قبضہ گیر ریاست سے حب الوطنی کیلیے لیکچر دینے شروع کردیتے ہیں۔ حالانکہ دیگر محکوم اقوام کی تاریخ یا حال دیکھیں تو وہ کہیں بھی اپنے قومی مفادات کی دفاع کرتے ہیں۔ قوم کیلیے جیتے اور قوم کے لیے مرتے ہیں۔

قوم پرست کردار ہی ان ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جو بے غرض و بے مفاد ہوکر قومی سوچ رکھتے ہیں۔ قوم پرست بننے کیلئے بارہ سینگھا ہونا ضروری نہیں بلکہ قومی جذبہ کا ہونا ضروری ہے جو اس مشکل راہ پر چلنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ان ذمہ داریوں کا ادا کرنا ناممکن نہیں بلکہ ایک موثر سوچ جو انفرادی کی نفی کرکے اجتماعی سوچ کو فروغ کا ذریعہ بنے درکار ہوگی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔