بلوچستان یونیورسٹی جیسے واقعات پر  خاموشی قومی جرم ہے – خلیل بلوچ

83

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کا واقعہ قومی عزت پر حملہ اور ہماری اجتماعی روح پر گہری چرکہ ہے۔ بلوچ اس واقعے کو صدیوں تک نہیں بھولیں گے اور ریاست پاکستان سے اس کا تاریخی انتقام لیں گے۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے چند بلوچ بیٹیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ یہ ہماری پوری قوم کے اجتماعی عزت، غیرت و وقار پر حملہ ہے۔ پاکستان نے یہ گھناؤنی حرکت کرکے ہم پر عیاں کردیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک گرسکتا ہے۔ بلوچ قوم کو پاکستان کے تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھ کر ادراک کرکے یہ بات ذہن نشین کرنا چاہیئے کہ یہ ناپاک دشمن ایسے مزید حرکات کا ارتکاب کرے گی جس کا تدارک قومی آزادی کے جدوجہد میں تیزی لانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا بلوچ صدیوں سے اپنی قومی وقار اور بقا کے لئے جنگ لڑتے آرہے ہیں۔ لیکن آج تک تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ بلوچ نے اپنے خونی و قومی دشمن کی عزت کو پائمال کیا ہو۔ بلوچ جنگی ادوار میں بھی مدمقابل کے اقدار اور عزت کا احترام کرتے ہیں۔ یہ غلیظ حرکت کرکے پاکستان نے بلوچ قوم کی اس یقین کو مزید پختہ کردیا ہے کہ پاکستان غیرت و عزت کے معاملے میں بھی تہی دامن ہے۔

انہوں نے کہا ”کاش ہمیں ایسا دشمن ملتا جو اپنی بہادری کا جوہر میدان جنگ میں دکھاتا“۔ لیکن افسوس کہ ہماری دشمن نے بے غیرتی کی انتہا کرکے ہماری عزت کو پائمال کرنے کی کوشش کی، لیکن بلوچ قوم کی بہادر بیٹیوں نے دشمن کے غلیظ چہرے کو دنیا کے سامنے عیاں کردیا۔ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ پاکستان نے بلوچستان کے مادر علمی کو پہلے اذیت گاہ میں تبدیل کردی۔ وہاں سینکڑوں درندے تعینات کردیئے گئے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں سے بلوچستان کے گوشے گوشے سے نوجوانوں کو گرفتار کرکے یہاں منتقل کرکے انہیں غیر انسانی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ اب فوجی حصار میں بلوچ بیٹیوں کی عصمت کو تارتار کیا گیا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے علاوہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ لیکن فوجی جبر و دہشت اور زبان کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکیوں کی وجہ سے یہ واقعات دبتے چلے گئے ہیں۔ ایسے واقعات کی منظر عام پر نہ آنے سے دشمن اس انتہا تک پہنچی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس پر خاموشی ایک قومی جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کی نوآبادیاتی تعلیم ترقی پسند اور سوچنے والے اذہان کے بجائے نوآبادیاتی نظام کو چلانے کے لئے کل پرزہ تیار کرتا ہے۔ لیکن بلوچ قوم پرستی ایک ایسی طاقتور نظریہ ہے کہ دشمن کے مکروہ نوآبادیاتی نظام تعلیم بلوچ نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نوجوانوں نے اسی کی نوآبادیاتی نظام تعلیم میں بھی قومی نظریے کی آبیاری کے لئے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ جب دشمن کے تمام حربے ناکام ہوئے تویونیورسٹی سمیت بلوچستان بھر میں بیشتر سکولوں پر قبضہ کرکے انہیں فوجی چوکیوں میں تبدیل کردیا گیا۔ مختلف علاقوں میں ایف سی کے سکول کھولے اور آواران میں ایک ایسے ہی سکول میں فوجی درندوں نے ایک بچی سے جنسی زیادتی کی۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے ان گھناؤنے حرکات سے اس کے عزائم انتہائی واضح ہیں۔ پاکستان کی بنیادی کوشش ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کیا جائے۔ ان کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو نفسیاتی طورپر مفلوج کرنا ہے تاکہ وہ آزادی کے جدوجہد میں عملی کردار ادا کرنے کے بارے میں سوچ نہ سکیں اور پورے تعلیمی نظام کو لپیٹ کر لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ انتہا پسندی و مذہبی جنونیت کے فیکٹری ”مدارس“ میں اپنے بچوں کو بھیج دیں جہاں پاکستان کے پراکسی جنگوں کے لئے روبوٹ تیار کئے جاتے ہیں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بلوچ قوم کا ہر فرد اس سنگین اور گھناؤنی جرم کے خلاف آواز بلند کرکے پاکستان کے حیوانیت و درندگی اور انسانی اقدار سے محرومی کو عالمی دنیا کے سامنے عیاں کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔