بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل، کراچی میں طلبہ کا احتجاج

92

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کراچی زون اور پروگریسواسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے بلوچستان یورنیوسٹی میں ہونے والے ویڈیو اسکینڈل کے خلاف کراچی یورنیورسٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں طلباء و طالبات سمیت مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے طلباء رہنماؤں نے کہا کہ گذشتہ دنوں بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی گھناؤنا اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے. بلوچستان یونیورسٹی جیسے مقدس درسگاہ میں انتظامیہ کی جانب سے اس غیر اخلاقی اور گھناؤنے اقدام نے طلباء و طالبات کے ذہنوں میں خوف کے ماحول کو جنم دیا ہے جس کے کافی بھیانک نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں. انتظامیہ کیجانب سے جامعہ بلوچستان میں اس سے پہلے بھی جنسی ہراساں کرنے کے واقعات رونما ہوئے جن کیخلاف کوئی خاطر خواہ کاروائی نہیں کی گئی. انتظامیہ اور حکومتی اداروں کی بے حسی اور نالائقی کا مکمل فائدہ جامعہ میں موجود اس منظم گروہ نے اٹھایا اور طلبہ و طالبات کو مخلتف ذہنی اذیتوں میں مبتلا کرنے میں کوئی کسر تک نہیں چھوڑی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خواتین پر تیزاب پاشی سے لیکر جنسی ہراساں کرنا ایک سنگین مسئلہ اختیار کرچکا ہے۔ ہمیں معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے ہمہ وقت یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ مقدس اداروں میں اس طرح کے واقعات رونما ہونا معاشرے میں پستی اور زوال کی نشانی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس طرح کے واقعات کی جڑیں کہیں اور پنہاں ہیں اور اِن مسائل کا حل صرف انتظامیہ کو بر طرف کرنے میں نہیں بلکہ مستقبل کے ادراک اور پیش بینی کے ساتھ مکمل باعلم اور باخبر ہوکر سیاسی طور پر ان مسائل کا ادارک کرنے سے ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے عہدے سے عارضی دستبرداری اختیار کرلی ہے، جسے جامعہ کے چانسلر گورنر آف بلوچستان نے منظور کرنے کیساتھ ساتھ ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے وی سی سمیت اس سکینڈل میں ملوث تمام کرداروں کو اُن کی عہدوں سے برخاست کیا ہے۔

آخر میں رہنماؤں نے شرکاء کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ہمارا حقیقی جدوجہد وائس چانسلر اور دیگر عہدیداروں کو اُن کے عہدوں سے برطرفی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کی بحالی کیساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں سیاست پر عائد پابندی فی الفور ختم کی جائے اور بلوچستان کے جامعات میں ایک ایسے ماحول کی پرورش کرنے کے لیے جدوجہد ہے جہاں طالبعلم ایک تعلیم دوست فضا میں رہ کر علمی اور فکری حوالے سے نشوونما کرکے ملک و قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں۔