ایک سو بیس طلبا کے زندگیوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟ – دوستین نور بکش

35

ایک سو بیس طلبا کے زندگیوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟

تحریر: دوستین نور بکش

دی بلوچستان پوسٹ

کچھ دنوں پہلے میری نظر سوشل میڈیا میں موجود ایک پیج پر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا کہ ضلع آواران میں اعلی ثانوی (Intermediate) کے 123 طلباء کو سال 2019 تا 2021 تک کے لیے بورڈ کے امتحانات سے خارج (Resticate) کر دیا گیا ہے- مگر بذات خود مجھے وہ تحریر ایک غلط فہمی محسوس ہوا میں اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ بات دراصل حقیقت ہے۔ کافی دنوں سے مسلسل یہی خبر سننے اور پڑھنے کو مل رہی ہےکہ آواران میں 123 طلباء مسدود کئےگئے ہیں- درست خبر کو جاننے کے لئے من دوستین نوربخش نے کافی افراد سے اس حوالے سے پوچھا اور سوشل میڈیا کے کئی صفحات کا جائزہ لیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ خبر درست ہے مگر مجھے حیرت ہوا اس بات سے کہ کسی پسماندہ اور غربت والے ضلعے میں اس طرح کا واقعہ کیسے پیش آ سکتا ہے؟ میری آنکھیں نم ہو گئں اور ہونٹوں پہ ہنسی بھی تھا- آپ لوگ جاننا چاہتے ہیں آخر ایسا کیوں؟

ضلع آواران میں تعلیمی نظام پہلے سے ہی درہم برہم ہے جہاں نہ اسکولوں میں درست تعلیم طلباء و طالبات کو مل رہی ہے اور نہ ہی وہاں ایک ڈگری کالج موجود ہے میرے کہنے کا مقصد ہے جس ضلع میں بنیادی تعلیم کا نظام ہی درست نیہں ہے بنیاد سے ہی طلباء و طالبات کو نقل کا عادی بنایا جاتا ہے جس وقت ان کو اسکولوں میں بنیادی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تو تب کوئی تعلیمی افسر اسکولوں کا جائزہ نہیں لیتا اور نا ہی نظام درست کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے علاوہ نہ استاد یا اساتذہ طالبعلموں کی بنیادی تربیت کرتا ہے تو اس طرح کے ماحول میں کوئی بھی طالبعلم کیسے مثبت طریقے سے اپنا تعلیم مکمل کر سکتا ہے؟ جس طرح کا نظام بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں چل رہا ہے اس کے ذمہ دار اسی فیصد (80%) تعلیمی افسران ہیں۔

اس قدر پسماندہ اور غربت کا شکار علاقے میں اگر اس طرح کے غلط فیصلے ہوتے گئے تو وہ دن دور نہ ہوگا کہ آواران سے تعلیم کا نظام ہی ختم ہو جائے گا اور وہ طالب علم جو اپنا اور اپنے ملک کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں اس طرح کے غلط فیصلوں سے اپنے ہی ہاتھوں اپنا مستقبل برباد کرینگے وہ اس طرح کہ وہ خود کو تعلیم سے محروم محسوس کرینگے اور احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے تو آخر کار غلط راستوں پر چلنا شروع کرینگے اور خدانخواستہ خود کو منشیات کا عادی بنا لینگے۔

کل کے نیوز میں بتایا گیا کہ “نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل واجہ خیر جان بلوچ گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن آئین کے مرکزی سکریٹری جنرل یار جان بزنجو نے چئرمین بلوچستان بورڈ کے پروفیسر محمد یوسف بلوچ سے ملاقات کرکے FSC 2019 آواران سینٹر کے123 طلباء کو2021 تک رسٹیکیٹ دینےپر تفصیلی تبادلہ خیال کرکے آواران کے طلباء کو انصاف دلانے کی اپیل کی۔ چئرمین بورڈ نے فوری طورپر کنٹرولر بورڈ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو جلد ہی آواران کے طلباء کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورا کردے گا” میں درخواست کرتا ہوں بلوچستان کے باقی تعلیمی افسران سے کہ اس فیصلے کے تہہ تک جا کر معلومات کریں اور تمام طالبعلموں سے بھی میری گذارش ہے کہ ان معصوم طلباء کو انصاف دلوانے کے لیے اگر قانون کی مدد بھی لینا پڑے تو پیچھے نا ہٹے کیونکہ جو آج 123 طلباء کے ساتھ ہوا ہے وہ آنے والے دور میں بلوچستان کے تمام انٹرمیڈیٹ کے طلباء کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر فرد کو اپنا کردار خود نبھانا ہے خاص کر آواران کے عوام کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ہوگا اور اپنے ضلع میں تمام تعلیمی کمزوریوں کو حکومت بلوچستان کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور بتانا ہوگا کہ کس طرح کا تعلیمی نظام چل رہا ہے کس طرح اسکولوں کے اساتذہ غیرحاضر ہیں اور کالجز ویران پڑے ہیں یہ سلسلہ کب تک چلتا رہےگا کیوں کوئی ایکشن نہیں لیتا ان کے خلاف؟ من دوستین نور بخش بلوچستان کے تعلیمی افسران، بلوچستان کے حکمران اور آواران کے چیئرمین سے اپیل کرتا ہوں کہ ان معصوم طلباء کے FSC کے ڈگری کو دوبارہ بحال کرنے میں بھرپود جدوجہد کریں ہم بلوچ نوجوان آپ تمام افسران کے مشکور ہونگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔