ایک سال سے لاپتہ بیٹے کو عدالت میں پیش کیا جائے – والدہ، لاپتہ ضیاالحق

52

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ایک سال کے عرصے سے جبری گمشدگی کے شکار ضیاالحق کے لواحقین نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور ان کے گمشدگی کے کوائف جمع کیئے۔

وی بی ایم پی کیمپ میں موجود لاپتہ ضیاالحق کے والدہ کا کہنا تھا کہ ایک سال کا عرصہ مکمل ہورہا ہے لیکن ضیاالحق کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے، ضیاالحق شادی شدہ ہے جس کی ایک چھوٹی بچی بھی ہے جبکہ دکانداری کرکے وہ گھر چلاتا تھا ان کے گمشدگی کے باعث گھر والے نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں۔

ضیا الحق ولد میر امام بخش کے لواحقین کے مطابق انہیں 20 اکتوبر 2018 کو نوشکی کے علاقے مَل سے فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دو کزنوں شعیب ولد حاجی کمال خان اور داد محمد ولد غلام کے ہمراہ رات کے 9 بجے ان کے دکان سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، ضیاالحق کے ہمراہ لاپتہ کیے جانے والے دو افراد کو بعدازاں رہا کردیا گیا تاہم ضیاالحق تاحال لاپتہ ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ ضیاالحق کو حراست میں لینے کے لیے فرنٹیئر کور کے اہلکار دو گاڑیوں میں آئے تھے جن کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ اداروں کے اہلکار بھی تھے جبکہ یہ سب علاقہ مکینوں سمیت قریبی دکانداروں نے دیکھا تھا۔

ضیاالحق کے لواحقین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر اس بات کا اقرار کیا جاچکا ہے لیکن ضیاالحق ان کے تحویل میں ہے جبکہ فورسز کے خلاف ایف آئی درج کرنے سے انتظامیہ انکار کرچکے ہیں علاوہ ازیں اس حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے بھی لواحقین ملاقات کرچکے ہیں۔

لاپتہ ضیاالحق کے والدہ نے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو منظر عام پر لایا جائے، اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کرکے اس پر کیس چلایا جائے۔