امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 22 – مشتاق علی شان

48

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 22
مصنف: مشتاق علی شان

ہمارے عوام ہمارے پہاڑ ہیں
(امیلکار کیبرال کی 1971میں کی گئی ایک تقریر سے اقتباس)

ہم افریقہ کے بالکل سپاٹ علاقے میں ہیں۔ ایک اور بات یہ ہے کہ ہمارا ملک بہت ہی چھوٹا سا ہے۔ تحریکِ آزادی سے متعلق گنی کی یہ جغرافیائی خصوصیات نظر میں رکھنا اہم ہے کیوں کہ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ گوریلا جنگ کے نصابوں میں لکھا ہے کہ ملک میں کم از کم اتنا رقبہ ہونا چاہیے کہ جس کو اڈے کا علاقہ کہا جاتا ہے وہ قائم کیا جاسکے اور مزید برآں گوریلا جنگ کی نشوونما کے لیے پہاڑ سب سے زیادہ موزوں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمیں گنی میں یہ چیزیں میسر نہیں ہیں مگر اس کمی کی بنا پر ہم آزادی کے لیے مسلح جدوجہد شروع کرنے سے باز بھی نہیں رہ سکتے۔

جہاں تک پہاڑوں کا تعلق ہے تو ہم نے طے کیا ہے کہ ہمارے عوام کو ان کی جگہ لینی پڑے گی کیوں کہ ایسا کیے بغیر ہماری جدوجہد کی نشوونما ناممکن تھی چنانچہ ہمارے عوام ہمارے پہاڑ ہیں، اس میں کامیابی کے لیے ہم نے ایک اصول اپنایا جو ہماری نظر میں اپنی دلیل آپ تھا یعنی یہ کہ ہماری جدوجہد دراصل ایک سیاسی جدوجہد ہے جو مسلح شکل پرتگیزی نوآبادکاروں کی وجہ سے اختیار کرتی ہے لیکن ابتدا سے آخر تک یہ سیاسی جدوجہد ہی ہے اور رہے گی۔ پہلا کام تو یہ تھا کہ اپنے عوام میں سیاسی حرکت اور تنظیم پیدا کی جائے۔ اس کام میں تقریباََ تین برس لگے۔ اس کام کے لیے ہم نے ایک اور اصول اپنایا جس کی بنیاد ایک قومی کہاوت پہ تھی۔ یعنی ”تم چاول کو ہنڈیا سے باہر نہیں پکا سکتے۔“ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اپنی جدوجہد خود اپنے ملک کے اندر سے جاری کرنا اور رکھنا ہوگی۔ شروع سے ہی ہمیں احتیاط برتنی پڑی کہ ہمسایہ ممالک کو استعمال کرکے ہماری محنت ضائع نہ ہو اور اس سہولت کی خاطر ہم اپنے نصب العین سے نہ پھر جائیں۔ یہ بہت اہم ہے کیوں کہ عام رحجان یہ ہے کہ غیر ملکوں میں سہولتیں استعمال کرکے جنگ باہر کی طرف سے اندر کی طرف لائی جائے۔

ہماری آبادی بہت چھوٹی ہے چنانچہ ہم نے ایک اور اصول اپنایا اور وہ یہ کہ لڑائی میں کم وسائل ضائع کیے جائیں۔ چونکہ ہم زیادہ نقصانات برداشت نہیں کرسکتے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ آزادی کی ایسی کوئی اور جدوجہد میرے علم میں نہیں ہے جہاں نقصانات ہم سے بھی کم ہوئے ہیں۔

ہم نے یہ بھی طے کیا کہ ہماری جدوجہد کو بیچ میں سے کھل کر اطراف میں پھیلنا چاہیے۔ پرتگیزیوں کا خیال کا تھا کہ ہم اپنے دستے باہر سے یعنی ہمسایہ ممالک سے لائیں گے اور اس کے بعد ہی گنی کے وسطی علاقے کی جانب آ سکیں گے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی فوجیں سرحدوں پر لگا دیں تھیں لیکن ہم نے 1963 میں عام مسلح جدوجہد گنی کے وسطی علاقے سے شروع کی۔ ساتھ ہی ہم نے پوری کوشش کی کہ اپنے گوریلا یونٹوں کو زیادہ سے زیادہ اختیار دیں۔ یہ ہمارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ہم اپنے ہر گوریلا یونٹ کو روزانہ ہدایات پہنچا سکیں۔ بہرکیف اس فیصلے میں کچھ خطرے خود ہمارے لیے بھی تھے۔ وہ (پرتگیزی) اپنی فوجیں لے آئے اور دیہات سے لے کر شہروں تک ہر جگہ پھیلا دیں تاکہ ان کا غلبہ جاری رہے۔ لیکن دشمن فوجوں کا اس طرح پھیلا ہونا ہی ایک بہت بڑی کمزوری ہے جبکہ ہماری حکمتِ عملی یہ بنی کہ پرتگیزیوں پہ جگہ جگہ حملے کے لیے ہم نے مخصوص فوجیں خاص جگہوں پر مرکوز کردیں۔ انھیں نقصانات فوراََ اٹھانے پڑے چنانچہ انھوں نے اپنی مدافعت کے لیے خود اپنی فوجیں مرکوز کردیں۔ ان کی یہ تدبیر خود کشی کے مترادف تھی کیوں کہ اس کے معنی یہ بنے کہ ملک کے بڑے بڑے حصے ان کے اختیار اور انتظام سے باہر پڑے رہ گئے۔ یہ ایک ایسا عقدہ تھا اور اب بھی ہے جو نوآبادیاتی جنگ کے اندر حل نہیں ہو سکتا۔ وہ جب اپنا انتظام برقرار رکھنے کے لیے اپنی فوجیں پھیلاتے ہیں تو ہم ان پر حملے کے لیے خود اپنی فوجیں اکھٹی کر لیتے ہیں اور انھیں بھی فوجوں کو اکھٹا کرنا پڑتا ہے لیکن جب وہ اپنی فوجیں خاص خاص جگہوں پہ اکھٹی
کر لیتے ہیں تو ہم دیہات میں نئے ڈھانچے بنانے کے لیے عوام کو منظم کرتے ہیں اور تحریک میں لاتے ہیں چنانچہ ان علاقوں میں دشمن کا لوٹ کر آنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اپنی فوجوں کو کمک اور رسد پہنچانے کے لیے دشمن کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مواصلات کے اہم ذرائع اپنے قبضے میں رکھے۔ گنی میں یہ ذرائع زیادہ تر سڑکوں اور دریاؤں کی شکل میں ہیں۔ کیوں کہ کافی آمد ورفت دریاؤں کے ذریعے سے ہے ابتدا میں ان کے پاس سارے ملک میں ملا کر چھوٹی بڑی 80 سے زیادہ چوکیاں تھیں۔ ساری بڑی بڑی سڑکیں ان کے قبضے میں تھیں اور جن جن دریاؤں میں کشتی چل سکتی تھی ان سب میں وہ آرام سے ادھر اُدھر آتے جاتے تھے۔ یہ سارا انتظام درہم برہم کرنے کے لیے ہم نے شروع میں بس اتنا کیا کی فوجیں اکھٹی کر کے دو چھاؤنیوں پہ بیک وقت حملہ کر دیا۔ پرتگیزیوں کی اکثر فوجیں اس وقت دارالخلافہ بساؤ میں تھیں یا سرحدوں پر پھیلی ہوئی تھیں، وہ فوراََ حرکت میں آئیں اور اور ملک کے وسطی علاقے کی طرف انھوں نے کوچ کیا مگر ہمارے گوریلے ساری سڑکوں پہ حاوی تھے۔ وہ کہیں پیڑ کاٹ کاٹ کر سڑکوں کے بیچ پشتے بنا رہے تھے، کہیں سرنگیں بچھاتے تھے، کہیں شب خون مارتے تھے۔ حملے کے لیے ہم اپنی فوجوں کو اکھٹا کرتے تھے، خاص خاص سڑکیں کاٹنے کے لیے ہم فوجیں پھیلاتے تھے، ساتھ ہی ہم نے دریاؤں کے رستے بند کرنا شروع کر دیے۔
اب مغربی اور مشرقی وسطی علاقوں کے علاوہ ساری اہم سڑکیں ہمارے قبضے میں ہیں۔ اس وقت پرتگیزیوں کی کُل 35 چوکیاں رہ گئیں ہیں لیکن اندرونِ ملک تمام سڑکیں ان کے لیے بند ہیں اور جو شہری مراکز ابھی تک نوآبادکاروں کے قبضے میں ہیں ان پہ حملے اب ہم بتدریج بڑھا رہے ہیں۔ تمام دیہاتی علاقوں میں ہم اب آزاد اور خود مختار ہیں۔ یہ ملک کا دو تہائی حصہ ہے۔

گوریلا جدوجہد کے لیے جس طرز کا مخصوص ڈھانچہ ہوتا ہے ہماری تحریک کی بنیاد اس قسم کے ڈھانچے پہ صرف لڑائی کے پہلے ایک سال ہی رہی ہے۔ کیوں کہ ہماری عوام کی راہنمائی کے لیے ہم نے جو ڈھانچہ استعمال کیا ہے وہ فقط گوریلا جنگ والا ڈھانچہ نہیں ہے۔ ہم نے ابتدا اپنی سیاسی تنظیم سے کی تھی۔ ہماری سب سے پہلی شناخت شروع سے یہ رہی ہے اور آج بھی یہی ہے کہ ہم ایک سیاسی پارٹی ہیں۔ یعنی قومی آزادی کی ایک تحریک جو عوام کو آزادی دلانے کے عمل میں ایک پارٹی کی حیثیت سے قیادت کرتی ہے جن دنوں ہمارے گوریلا یونٹ چھوٹے تھے اور زیادہ خود مختار تھے، اس وقت بھی ان کا قیام پارٹی کے فوجی حصے کے طور پر عمل میں آیا تھا۔ گنی میں یہ سوال کبھی پیدا ہی نہیں ہوا کہ پارٹی کی قیادت گوریلے کریں گے۔ گوریلا ہمیشہ اور ہمہ وقت پارٹی کی ہدایات کے تحت کام کرتا ہے۔

1964میں کساکا میں جو کانگریس ہوئی تھی اسی وقت سے ہم نے پارٹی کے مختلف حصوں اور شعبوں کے درمیان تمیز کرنی شروع کر دی تھی۔ تمیز ہم اس طرح کرتے ہیں کہ ایک تو پارٹی کا واضح فریضہ ہے جس میں سب سے اہم کردار سیاسی کام کے حوالے سے ہے۔ دوسرا مسلح افواج کا کردار ہے، وہ چاہے گوریلے ہوں یا باقاعدہ فوجی تنظیم ہو، جن کا فرض پرتگیزیوں کے خلاف براہِ راست کارروائیوں کا ہے ساتھ ہی ہم نے وہ تمام شعبے قائم کر دیے تھے جو آزاد علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ضروری ہیں۔

دراصل آزاد علاقوں میں ابھی سے وہ تمام عناصر موجود ہیں جن سے مل جل کر ریاست کا ڈھانچہ بنتا ہے۔ انتظامی امور، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبے میں پرتگیزیوں کے حملوں کے خلاف مزاحمت اور دفاع کے لیے مقامی افواج ہیں، جیل خانے اور عدالتیں ہیں۔

1964میں کساکا کی کا نگریس کے بعد ہم نے اپنے لڑائی کے طریقے یکسر بدل ڈالے تھے۔ سب سے پہلے تو ہم نے اپنے گوریلے یونٹوں کی خود اختیاری ختم کی اور ایک رہبر کمیٹی کے تحت انھیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا پھر ہم نے ایک مستقل فوج کے پہلے پہلے یونٹوں کی تنظیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے آزاد علاقوں میں سماجی کام کرنے کا فیصلہ بھی کیا اسکول بنائے، طبی چوکیاں بنائیں، تجارت کا نظام ترتیب دیا، وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ ہی ہم اپنا سیاسی کام بڑھاتے اور مضبوط کرتے گئے۔

ہمارے لوگوں کی اب ایک سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگی ہے اور عوام ہی عوام پہ حکومت کرتے ہیں۔ آزاد علاقوں کے دیہاتوں میں ہماری سیاسی تنظیم اب اچھی طرح جڑ پکڑ گئی ہے۔ ہر گاؤں کی کمیٹی اس گاؤں میں زندگی کے ہر شعبے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ گاؤں کی سطح پہ، تحصیل کی سطح پہ اور اضلاع کی سطح پہ اب عوام براہِ راست ان سب فیصلوں میں حصہ لیتے ہیں جن کا اثر ان کی زندگی پہ پڑتا ہے۔

جہاں تک معاشی زندگی کا تعلق ہے یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیے جو بنیادی غذائیں ضروری ہیں ان کی پیداوار بڑھائیں۔ گاؤں میں ہماری عوامی عدالتیں بھی ہیں۔ ماضی میں ہمارے عوام کو باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کی سہولت حاصل نہیں تھی، وہ انتظامیہ کے افسروں کے روبرو محض فیصلے سننے کے لیے حاضر ہوتے تھے لیکن اب عدالتوں کے لیے انتخاب ہوتے ہیں اور کسان خود عدالتوں میں ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

ہماری افواج اب دو قسموں کی ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جنھیں ہم مقامی افواج کہتے ہیں۔ یہ آزاد علاقوں میں مقامی مدافعت سے متعلق ہیں۔ دوسری وہ افواج ہیں جن کا کام یہ ہے کہ جو جو علاقے پر تگیزیوں کے قبضے میں رہ گئے ہیں ا ن پر حملوں کی تعداد اور رفتار بڑھائیں۔ یہ دونوں قسموں کی فوجیں آبادی سے علیحدہ کسی صورت میں بھی نہیں ہیں۔ ان کے نوے فیصد یا زیادہ ارکان کسانوں پر مشتمل ہیں اور اگر ابتدا میں جدوجہد کے اکثر راہنما نچلی بورژوازی کے افراد تھے (جیسے میں خود ہوں) اور مزدور بہت کم تھے۔ تو اب آہستہ آہستہ نئے لوگ نکل کر پارٹی کی رہنمائی کرنے لگے ہیں اور آج زیادہ تر راہنما مزودر یا کسان ہیں۔

ہم نے اپنے اسکولوں کا نیا نصاب خود تیار کیا ہے اور ہم بہت سے نئے کارکنوں کی تربیت کر رہے ہیں۔ 1960میں اپنے ملک میں، میں دیہی معاشیات کا اکیلا ماہر تھا مگر اب 12 ایسے ماہرین موجود ہیں اور سب کی تربیت جدوجہد کے دوران ہوئی ہے۔ اب ہمارے پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو وکیل، ٹیچر، انجینئر، ڈاکٹر وغیرہ بننے کی تربیت حاصل کر کے آئے ہیں۔ ہماری جنگی کامیابیاں تو فیصلہ کن ہیں مگر ہماری سب سے اہم کامیابی یہ ہے کہ لڑائی جاری رکھنے اور پرتگال کی فوجوں کو ہرانے کے دوران بھی ہمارے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوئی ہے کہ آزاد علاقوں میں ایک نئی زندگی تخلیق کرسکیں لیکن ہمیں بہت ہوش مندی سے کام لینا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ دشمن کے خلاف جدوجہد کا سوال نچلی بورژوازی کے، بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ انقلابی نچلی بورژوازی کے عناصر کی جانب سے اٹھایا گیا تھا جبکہ کسان اور شہری مزودروں نے بعد میں شرکت کر کے جدوجہد کی اہم ترین بنیادیں بنائی تھیں لیکن نچلی بورژوازی کا عام رحجان بورژوا حرکتوں کی جانب ہوتا ہے اور حاکم بن بیٹھنے کی خواہش شدید ہوتی ہے چنانچہ خدشہ ہے کہ جدوجہد کا ڈھانچہ کہیں اس پیرائے کا نہ بن کے رہ جائے۔ درحقیقت یہ رحجان فقط نچلی بورژوازی کے عناصر میں ہی نہیں بلکہ کسانوں میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک بورژوا صورت و سیرت اختیار کر جانے کا رحجان تحریک کے ڈھانچے میں ہمیشہ مضبوط رہتا ہے۔ یہ بات ہمیں آج بھی نظر میں رکھنی چاہیے اور آئندہ چل کر تو یہ سوال اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جائے گا۔

کیا اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے؟ خطرہ کم فقط اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہم پوری تحریک ِ آزادی میں عوام کی شرکت اور رہنمائی متواتر مضبوط کرتے چلے جائیں۔ جب ہم نے ابتدا کی تو بساؤ میں ہم فقط چھ آدمی تھے۔ چار نچلے بورژوا اور دو مزودر، بعد میں جوں جوں شہری مزدور تحریک کے اندر آتے گئے ہمارے گروہ میں نمایاں تبدیلیاں آئیں اور آج ہماری پارٹی رہنماؤں کی اکثریت کسان عناصر میں سے نکلی ہے۔ جدوجہد میں ہمارے بیشتر ساتھی کسان ہیں اور ہمارے
تمام آزاد علاقوں میں کسان مسلح ہیں۔ شروع میں جب ہمارا آدمی بندوق لے کر گاؤں میں داخل ہوتا تھا تو بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا تھا۔ ہتھیار کی وجہ سے اسے بڑا امتیازی مقام حاصل تھا۔ اب ہتھیار کے کوئی معنی نہیں رہ گئے ہیں۔ گاؤں میں سب لوگوں کے پاس ہتھیار ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔