امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 18 – مشتاق علی شان

40

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 18
مصنف: مشتاق علی شان

نظریے کا ہتھیار | حصہ چہارم

موجودہ عالمی معیشت کی اہم ترین خصوصیات اگر ہم ذہن میں رکھیں اور سامراج کے خلاف تحریکوں میں جو تجربہ ہوچکا ہے اس کا بغور تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جدید نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد دراصل قومی آزادی کی جدوجہد کا اہم ترین پہلو ہے۔ علاوہ ازیں اگر ہم یہ مان چکے ہیں کہ قومی آزادی فقط تب ہی میسر ہوگی جب پیداواری قوتوں کی ترقی کے طریقوں میں بنیادی تبدیلی پیدا ہو تو ہمیں پتہ چلے گا کہ جس چیز کا نام قومی آزادی ہے وہ دراصل انقلاب کے ہم پلہ اور ہم معنی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان معروضی اور داخلی حالات کا شعور ہو جن میں یہ انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور اس انقلاب کے لیے جدوجہد کے سب سے زیادہ موزوں طریقوں کی صحیح پہچان ہو۔

یہاں ہم یہ بات نہیں دہرائیں گے کہ انسانی تاریخ کے موجودہ دور میں انقلاب کے لیے حالات سازگار ہیں۔ یہ یاددہانی ہی کافی ہے
کہ ناسازگار حالات میں بھی موجود ہیں یہ ناسازگار عناصر بین الاقوامی سطح پہ بھی موجود ہیں اور جو بھی قوم فی الوقت آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اس کے اندر یہ عناصر قومی سطح پہ بھی پائے جاتے ہیں۔

ہمارے خیال میں بین الاقومی سطح پہ کم ازکم مندرجہ ذیل عناصر ضرور قومی آزادی کی تحریکوں کے رستے میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ اول بہت سی ایسی ریاستوں کی جدید نوآبادیاتی نظام میں شمولیت جو سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد اس نظام میں جکڑی ہوئی ریاستوں کے ساتھ جتھے بنا رہی ہیں۔ دوئم جدید طرز کی سرمایہ داری کا فروغ جو یورپ میں بالخصوص بڑھ گئی ہے اور تخصیصی سرمایہ کاری کر رہی ہے، پرولتاریہ کے اندر ہی ایسی ٹکڑیاں پیدا کر رہی ہے جسے بہت زیادہ مراعات حاصل ہیں اور اس طرح مزدور طبقے کی انقلابی امنگ اور لگن میں کمی پیدا کررہی ہے۔ سوئم خود یورپ کے اندر چند ایسے ممالک کی موجودگی جو کسی نہ کسی طرح جدید نوآبادیاتی نظام میں شرکت کرتے ہیں اور مثلاََ پرتگال کی طرح نوآبادیاں رکھتے ہیں۔ چہارم، پسماندہ ممالک کے لیے نام نہاد ”امداد“ کی پالیسی جو سامراج نے اس لیے رائج کی ہے کہ ایسی بین الاقوامی بورژوازی پیدا کی جائے یا زیادہ طاقت ور بنائی جائے جو بین الاقوامی بورژوازی کے دست نگر ہو اور اس طرح انقلاب کے رستے میں نئی دیوار کھڑی کی جائے۔ پنجم، بہت سی ایسی نوآزاد ریاستوں کی بزدلی جو اپنے خوف میں ہی بند ہو کر بیٹھ گئی ہیں اور جہاں اندرونی اقتصادی اور سیاسی حالات انقلاب کے لیے موزوں ہیں، مگر دشمنوں اور ان کے دلالوں کے ساتھ ساز باز جاری ہے۔ ششم، سامراج کے خلاف ریاستوں کے مابین بڑھتے ہوئے تضادات۔ ہفتم، یہ امکان کہ سامراج ایٹمی جنگ چھیڑ کر عالمی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

عالمی عوام کے خلاف سامراج کی بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیوں اور بار بار کی مداخلتوں کا اگر ایک طرف یہ مفہوم نکلتا ہے کہ قومی آزادی کی تحریکیں بڑھنے سے سامراج بڑی بھاری پیچ وتاب میں مبتلا ہو گیا ہے، تو دوسری طرف یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ سامراج کے خلاف جدوجہد کے عام محاذ میں مندرجہ بالا سازگار عناصر سے پیدا ہونے والی کمزوریوں نے سامراج کی ہمت بڑھائی ہے۔

اندرونی سطح پہ ہمارے خیال میں سب سے زیادہ اہم خرابیاں یا سب سے زیادہ ناسازگار حالات معاشی اور معاشرتی ڈھانچوں کے اندر ہی موجود ہیں اور سامراجی دباؤ تلے ان ڈھانچوں کے ارتقا کا جو پیرایہ بنا ہے وہ خود جدوجہد کے لیے موزوں نہیں ہے، بلکہ صاف صاف یوں کہیے کہ قومی آزادی کی تحریکوں کی یہ خصلت بن کے رہ گئی ہے کہ جدوجہد کی حکمت ِ عملی بناتے وقت یہ غور نہیں کرتی ہیں کہ معاشرتی ڈھانچوں کی خصوصیات کیا ہیں اور ان کا ارتقا کیسے ہو رہا ہے۔

مندرجہ بالا بیان سے ہمارا منشا یہ نہیں ہے کہ جو دیگر داخلی عناصر قومی آزادی کی جدوجہد میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان کی اہمیت کو گھٹا کر بیان کیا جائے۔ مثلاََ معاشی پسماندگی کا مسئلہ ہے اور معاشی پسماندگی کی بنا پر عوام الناس کا سماجی اور ثقافتی معیار بھی بہت پست ہو گیا ہے۔ قبائلیت ہے اسی طرح کے دیگر کم اہم تضادات ہیں۔ ساتھ ہی ہم یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ قبائل کا وجود ایک اہم تضاد فقط ان حالات میں بنتا ہے جب قومی آزدی کی تحریکوں میں ایسے موقع پرست لوگ گھس آئیں جو خود تو دراصل قبائلی نظام اور قدروں سے کٹ چکے ہوتے ہیں مگر قبائل کے اختلافات کو ذاتی غرض اور مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ طبقات کے درمیان تضادات اپنی بالکل ابتدائی شکل میں بھی قبائل کے درمیان تضادات سے زیادہ اہم ہے۔

نوآبادیاتی نظام کی پرانی اور نئی طرز بنیادی طور پر یکساں ہوتی ہے اور سامراج کے خلاف جدوجہد بنیادی طور پر جدید نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد ہوتی ہے۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ عمل میں نظام کی ان ہر دو قسموں کے درمیان تمیز ضروری ہے۔ قومی آزادی کی تحریک کے لیے اتحاد اور جدوجہد کا وسیع ترین محاذ ضروری ہوتا ہے۔ اور اتنا وسیع محاذ بنانا پرانی طرز کے اس نوآبادیاتی نظام میں نسبتاََ آسان ہوتا ہے جس میں قومی عناصر سے بنی ہوئی سیاسی طاقت موجود نہ ہو اور ریاستی ڈھانچہ مقامی معاشرے سے بالکل مختلف ہونے کے باوجود عمودی اور ہموار ہو۔ ظاہر ہے کہ اس ڈھانچے میں بھی مقامی معاشرتی ڈھانچے کے نہایت فکر طلب تجزیے کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ یہ سمجھنا لازمی ہوتا ہے کہ معاشرے کا ارتقا کس طرح ہو رہا ہے اور یہ ضرورت بدستور رہتی ہے کہ سچی قومی آزادی کے لیے بالکل صحیح اور موزوں اقدامات عملی طور پر کیے جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر تحریک اپنے حالات کو اور ان حالات کے تحت طریق ِ کار کی ضرورت کو خود سب سے بہتر طور پہ سمجھ سکتی ہے۔ مگر ان اقدامات میں ایک چیز ایسی بھی ہے جو ہم بہر کیف لازمی سمجھتے ہیں اور وہ ہے ایک ایسی ہر اول قوت کی تشکیل جو اندرونی طور پر بالکل متحد ہو، قومی آزادی کی جدوجہد کے صحیح معنی  اور مقصد جانتی ہو اور اس جدوجہد کی رہنمائی پر کمر بستہ ہو۔ یہ ضرورت اور بھی زیادہ اہم اس لیے ہو جاتی ہے کہ ہمیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ نوآبادیاتی حالات میں نہ اتنی گنجائش ہوتی ہے نہ اجازت کہ زیادہ اہم ہر اول طبقے (مزدور طبقہ جو اپنے وجود کا شعور رکھتا ہو اور زراعتی پرولتاریہ) وجود میں آئیں اور تحریکِ آزادی کے ارتقا پر عوام کی پوری دسترس کی ضمانت بنیں۔ اس کے برعکس مزودر طبقہ ابھی بن ہی رہا ہوتا ہے اور کسان جو کہ قومی تحریک ِ آزادی کی سب سے اہم طبعی طاقت ہوتے ہیں سماجی اور ثقافتی طور پر بہت پسماندہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ تحریک کے یہ ہر اول طبقے اکثر اس قابل نہیں ہوتے ہیں کہ سچی قومی آزادی اور افسانوی سیاسی آزادی کے مابین تمیز کر سکیں۔ صرف ایک انقلابی ہر اول طاقت جو عموماََ ایک متحرک اقلیت پر مشتمل ہوتی ہے ابتدا سے ہی اس فرق کو پہچان سکتی ہے اور جدوجہد کے ذریعے عوام کو سکھلا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی تحریک بنیادی طور پہ ایک سیاسی تحریک ہوتی ہے اور یہی حقیقت ہے جس کی بنا پہ جدوجہد کے طریق کار کا سوال بھی بہت اہم بن جاتا ہے،بلکہ اتنی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ قومی آزادی کے معنی اور نتیجے کا دارومدار جدوجہد کے طریق ِ کار پہ ہی ہوتا ہے۔

جدید نوآبادیاتی نظام میں مقامی معاشرہ کم وبیش عمودی ہوتا ہے۔ اس کے اندر اونچ نیچ زیادہ بڑھ جاتی ہے اور مقامی عناصر سے بنی ہوئی ایک سیاسی طاقت یعنی قومی ریاست موجود ہوتی ہے۔ چنانچہ اس معاشرے کے اندرونی تضادات بہت شدید ہو جاتے ہیں اور اتنا وسیع محاذ بنانا ممکن نہیں ہوتا جیسا پرانے کلاسیکی سامراجی غلبے کے دوران ممکن تھا۔ اول تو مادی اثرات ہوتے ہیں مثلاََ نوکریاں اور پیشے قومیالیے جاتے ہیں اور مقامی عناصر کی اقتصادی طاقت بالخصوص تجارت کے میدان میں تو بہت بڑھ جاتی ہے۔ دوئم، نفسیاتی اثرات کے بھی کافی گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ مثلاََ خود اپنے ملک کے باشندوں کے ہاتھ میں حکومت آ جائے تو فخر ہوتا ہے۔ عوام کی ٹکڑیاں اور گنے چنے لیڈروں کے درمیان مذہبی یا قبائلی رشتوں کو بڑھ جڑھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مادی اور نفسیاتی عناصر مل جل کر قوم پسند طاقتوں کے بڑے حصے کو بے عمل بنا دیتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی طبقوں کے درمیان تضاد شدید تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ غیر ملکی آبادکاروں فوجی افسروں، نسلی امتیازت وغیرہ کی شکل میں غیر ملک غلبے کی معروضی نشانیاں اور اس غلبے کے اہلکار برقرار رہتے ہیں۔ کسانوں کی غریبی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ خارجی اثرات کم یا زیادہ شدت کے ساتھ اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔ ان سارے عنصر کی بنا پر قومی جذبے کا دیا جلتا رہتا ہے۔ عوامی طبقات کا شعور بڑھتا رہتا ہے۔ نوآبادیاتی استحصال کے تجربے سے عوام کی اکثریت میں دوبارہ اتحاد قائم کرنے کی ضرورت کا احساس شدت پکڑتا ہے تاکہ قومی آزادی کے پاکیزہ خواب کی صحیح تعبیر کی جا سکے۔ مزید برآں ایک طرف تو مقامی حکمران طبقے میں بورژوا پن بڑھتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ شہری مزدور بھی اور زراعتی پرولتاریہ پہ مشتمل ایک محنت کش طبقہ پھیلتا ہے اور یہ پورا طبقہ یعنی شہری مزدوروں اور زراعتی پرولتاریہ بھی سامراجی استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ چاہے یہ استحصال بالواسطہ ہو یا براہِ راست، اس صورتحال میں قومی آزادی میں فروغ کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔مزودر طبقے میں سیاسی شعور کا معیار کچھ بھی ہو (تھوڑا بہت شعور، یعنی کم از کم خود اپنی ضرورتوں کا شعور ہونا تو خیر ضروری ہے) ہمیں نظر یہ آتا ہے کہ یہی واحد طبقہ ہے جو نوآبادیاتی نظام میں قومی آزادی کی جدوجہد کے لیے عوامی ہر اول بن سکتا ہے۔ لیکن یہ طبقہ اس وقت تک اپنا تاریخی فرض پورا نہیں کرسکتا جب تک استحصال میں جکڑے ہوئے دیگر طبقوں کے ساتھ مستحکم اتحاد نہیں بنا لیتا۔ یہ اتحاد ایک طرف تو عام کسانوں کے ساتھ بنتا ہے یعنی اجرتی محنت فروشوں، بٹائی دینے والوں، زمین لگان پہ لینے والوں اور چھوٹے مالکان کے ساتھ بنتا ہے اور دوسری طرف یہ اتحاد وطن پرست نچلی بورژوازی کے ساتھ بنتا ہے۔ یہ اتحاد پیدا کرنے کے لیے واضح اصولوں پر بنی ہوئی ایک مضبوط سیاسی تنظیم درکار ہوتی ہے جس کے تحت (اور جس کے عمل کے ذریعے) ملک کی وطن پرست طاقتوں کو متحرک اور منظم کیا جاسکے۔

پرانی اور نئی طرز کے نوآبادیاتی نظاموں میں تمیز کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جدوجہد کے امکانات اور امکانی مستقبل کا تجزیہ کیا جائے۔ پرانی طرز کے نوآبادیاتی نظام میں سامراجی ملک کی بورژوازی کے استحصالی ڈھانچوں کے خلاف قومی طبقہ لڑتا ہے۔ اس ٹکراؤ کا نتیجہ ایک قوم پرست حل (قومی انقلاب) کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔ یعنی قوم کو آزادی مل جاتی ہے اور کم از کم کتابی اور کاغذی طور پہ اپنی مرضی اور ضرورت کے موافق اقتصادی نظام چن کر رائج کر دیا جاتا ہے۔ نئی طرز کے نوآبادیاتی نظام میں محنت کش اور ان کے اتحادی طبقے، سامراجی بورژوازی اور مقامی حکمران طبقوں کے خلاف جدوجہد بیک وقت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس جدوجہد کا محض ایک قوم پرست حل ممکن نہیں ہوتا۔ یہاں مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ سامراج نے قومی زمین پہ جو سرمایہ دار ڈھانچے کا بیج ڈالا ہے وہ اکھاڑ پھینکا جائے۔ چنانچہ سوشلزم کے سوا اس جدوجہد کا کوئی نتیجہ ممکن نہیں ہوتا۔

جدوجہد کے طریقوں اور مقاصد میں یہ فرق اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہر دو نظاموں کے تحت پیداواری قوتوں کا معیار مختلف ہوتا ہے چنانچہ طبقاتی جدوجہد کی رفتار اور شدت بھی مختلف ہوتی ہے ہم آسانی سے ثابت کر سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فرق بھی مٹتا چلا جاتا ہے۔ ہماری موجودہ تاریخ کی صورتحال کی دو خصوصیتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ سامراج
جو ہمارے لوگوں پر تسلط قائم رکھنے کے صد ہزار گُر جانتا تھا خود ہی مٹتا جارہا ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کے بہت بڑے حصے میں سوشلزم رائج ہو چکا ہے۔ ان حالات میں ایک خود مختار قوم کے سامنے فقط دوراستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ راستہ ہے کہ سرمایہ داری، ریاستی سرمایہ داری یا جدید طرز کے نوآبادیاتی نظام میں سامراج کے ساتھ گٹھ کر کے بیٹھ جائے دوسرا رستہ یہ ہے سوشلزم اختیار کرے۔

جدوجہد کے دوران عوام جتنی بھی جانفشانی کا مظاہرہ کریں، جتنی بھی قربانیاں دیں دارو مدار آخر انہی دو رستوں کے مابین انتخاب پہ ہوتا ہے۔ اور انتخاب ازخود منحصر ہوتا ہے اس بات پہ کہ جدوجہد تھا۔ حقیقتوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ثابت کر دکھائیں کہ تشدد ہی سامراجی غلبے کا سب سے بنیادی اور لازمی ہتھیار ہے۔ ہمیں یہ اصول قبول کرنا چاہیے کہ ّآزادی کی جدوجہد ایک انقلاب کا درجہ رکھتی ہے اور قومی جھنڈا لہرانے یا قومی ترانہ گانے سے اس جدوجہد کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ سامراجی دلالوں کے مجرمانہ تشدد کے جواب میں وطن پرست قوتوں کے حریت پسند تشدد کے استعمال کے بغیر قومی آزادی نہ ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے۔ سامراجی غلبے کے مقامی خواص کچھ بھی ہوں یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ سامراجی غلبہ از خود وطن پرست قوتوں کے خلاف ایک مستقل تشدد کی حیثیت رکھتا ہے۔ سامراج پرانی طرز کا ہو یا نئی طرز کا تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم پر سامراجی تسلط قائم ہونے کے بعد اس قوم نے دشمن کو نشانہ بنائے بغیر آزادی حاصل کر لی ہو۔ اہم فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف سامراجی تشدد کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کے ذریعے اپنا مقصد یعنی سچی قومی آزادی حاصل کرنے کے لیے وطن پرست عناصر کو تشدد کے کون سے طریقے اپنانے چاہیں۔ مختلف اقوام کو بہت سے تجربے ہوچکے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں۔ ویت نام، کانگو اور زمبابوے کی قومی آزادی کی تحریکوں کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جن ملکوں نے نام نہاد امن پسند طریقے سے آزادی حاصل کی تھی وہاں تشدد کا مستقل راج ہے یا تضادات اور معاشرے کی اتھل پتھل میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نہ صرف سامراج کے ساتھ سمجھوتوں سے معاملہ حل نہیں ہوتا بلکہ سامراجی استحصال خود ہی اس ضرورت کو بھی جنم دیتا ہے کہ قومی آزادی مسلح جدوجہد کے ذریعے حاصل کی جائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔