امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 17 – مشتاق علی شان

73

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 17
مصنف: مشتاق علی شان

نظریے کا ہتھیار | حصہ سوئم

ہمارے عوام کے لیے جاننے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ آیا سامراج نے عمل میں آئے ہوئے سرمائے کی حیثیت سے ہمارے ملکوں میں اپنا تاریخی فریضہ سرانجام دیا ہے یا نہیں۔ یعنی پیداواری قوتوں میں ترقی کی رفتار بڑھانے اور طریق ِ پیداوار کو زیادہ پیچیدہ بنا کر پیداواری قوتوں میں تبدیلیاں لانے کا فریضہ، ایک بورژوا طبقہ پیدا کر کے طبقات کے درمیان تفریق گہری کرنے اور طبقاتی جدوجہد تیز کرنے کا فریضہ اور اقوام کی اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی زندگی کا معیار واضح طور پر اونچا کر دینے کا فریضہ۔ جائزہ لینے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ آخر سامراجی عوامل نے ہماری اقوام کے معاشرتی ڈھانچوں اور تاریخی طریق پر کیا اثرات اور نتائج مرتب کیے ہیں۔

ہم یہاں سامراج کی ہجو لکھیں گے نہ مدح۔ ہم محض یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اقتصادی میدان میں بھی اور معاشرتی اور ثقافتی سطح پر بھی سامراجی سرمائے نے دور دور بھی وہ تاریخی فریضہ انجام نہیں دیا جو اپنے سمٹاؤ کے ممالک میں سرمائے نے ادا کیا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بیشتر مقبوضہ ممالک میں ایک طرف تو سامراجی سرمائے کا سادہ سا مقصد یہ رہا ہے کہ اضافی قدر کو کئی گنا بڑھا دیا جائے، دوسری طرف یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ پیداواری قوتوں کی ترقی کا عمل تیز کرنے والی ایک لازوال قوت کی حیثیت سے سرمائے کی تاریخی صلاحیتوں کا دارومدار اس کی آزادی پر ہوتا ہے۔ یعنی اس بات پر کہ اس کے استعمال کی مکمل آزادی ہو۔ ہمیں یہ بھی قبول کرنا چاہیے کہ چند مثالیں ایسی بھی ہیں جہاں سامراجی سرمائے (یا مفلوج سرمایہ داری) کو خو اپنا مفاد پیش نظر ہونے اور طاقت اور وقت کا فی زیادہ ملنے کی وجہ سے پیداوری قوتوں کا معیار ذرا اونچا ہو گیا (اور شہر قصبے وغیرہ بھی بن گئے) اور مقامی آبادی کی ایک اقلیت کو ذرا اونچا اور چند ایک کو تو نہایت اعلیٰ معیار ِ زندگی میسر ہوا۔ چنانچہ زیر غور معاشروں کے تضادات گہرے ہوئے اور اس عمل میں اضافہ ہوا جسے کچھ لوگ تو جدلیاتی کہیں گے۔ دوسری بہت کم مثالیں ایسی بھی ہیں جہاں سرمائے کے سمٹاؤ کا امکان بنا اور ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ایک مقامی بورژوا زی وجود میں آ سکے۔

اب سوال یہ رہتا ہے کہ سامراجی غلبے کے کیا اثرات ہماری اقوام کے معاشرتی ڈھانچوں اور تاریخی عوامل پر مرتب ہوئے۔ ہمیں سب سے پہلے تو سامراجی غلبے کے عمومی سانچوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کم از کم دو روپ ملتے ہیں، پہلا روپ براہِ راست غلبے کا ہے جس میں فوجوں، پولیس، انتظامیہ کے کارندوں اور آباد کاروں کے ذریعے سیاسی طاقت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہتی ہے جو مغلوب لوگوں کے لیے اجنبی اور غیر ملکی ہوتے ہیں۔ اسے عام طور پر کلاسیکی نوآبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ دوسرا روپ بالواسطہ غلبے کا ہے جس میں سیاسی طاقت بیشتر یا مکمل طور پر مقامی باشندوں کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ یہ جدید نوآبادیاتی یا نیم نوآبادیاتی نظام ہے۔

پہلے روپ میں ترقی کے مخصوص مرحلے سے قطعِ نظر مغلوب لوگوں کے معاشرتی ڈھانچے پر تین قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
(ا) مکمل تباہی و بربادی جس کے ذریعے مقامی آبادی فوراََ یا آہستہ آہستہ مار دی جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہر سے ایک آبادی آن کر مقامی آبادی کی جگہ بس جاتی ہے۔
(۲) جزوی بربادی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ باہر سے ایک آبادی کم تعداد میں یا بڑی تعداد میں آن کر بسنے لگتی ہے۔
(۳) ظاہری بقا جس میں مقامی معاشرہ مخصوص علاقوں اور محدود خطوں میں مقید کر دیا جاتا ہے جہاں زندگی کے امکانات بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور باہر کے لوگ بہت بھاری تعداد میں آن کر وہ وسیع علاقے ہتھیا لیتے ہیں جہاں سے مقامی آبادی کو نکال دیا گیا ہو۔

قومی آزادی کی تحریکوں میں جو سنگین مسئلے اٹھتے ہیں ان میں ہمیں دوسری اور تیسری قسموں کے اثرات پر غور کرنا ہوگا۔ افریقہ ان قسموں کے تجربے سے بھرا پڑا ہے۔ ان دونوں حالتوں میں مغلوب لوگوں کے تاریخی عوامل کی نشوونما رک جاتی ہے۔ جیسے معاشرہ مفلوج ہوکر رہ گیا ہو اور بسا اوقات ترقی کی بجائے باضابطہ طور پر تنزل آ جاتا ہے۔ لیکن یہ ٹھہراؤ مکمل نہیں ہوتا۔ معاشرے کے کسی نہ کسی حصے میں کافی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں جن کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یا تو اندرونی (مقامی) عناصر ہی متحرک رہتے ہیں یا ایسے عناصر کا دباؤ ہوتا ہے جو سامراج کے طفیل سے باہر آتے ہیں۔ مثلاََ تجارت روپے پیسے سے ہونے لگتی ہے یا شہری مرکز وغیرہ بن جاتے ہیں۔ جو تبدیلیاں ہمیں زیادہ اہم نظر آتی ہیں وہ یہ کہ مقامی حکمران طبقوں اور ٹکڑیوں کا اثرورسوخ گھٹتا چلا جاتا ہے۔ کسانوں کا ایک حصہ شہری مرکزوں کی طرف آنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس طرح معاشرے میں بالکل نئے طبقے جنم لیتے ہیں جن میں اجرتی مزدور ہوتے ہیں، دفتروں کے کلرک ہوتے ہیں، تجارتی کارندے اور سفید پوش پیشوں میں لگنے والے افراد ہوتے ہیں اور بے روزگاروں کا ایک گھٹتا بڑھتا ہجوم ہوتا ہے۔ دیہات میں بھی چھوٹے مالکوں کی ایک نئی ٹکڑی ابھرتی ہے۔ کسی ملک میں اس ٹکڑی کے افراد کم ہوتے ہیں کسی میں زیادہ، لیکن یہ ٹکڑی قصباتی اور شہری ماحول اور رابطوں کے ساتھ جڑی ہوئی ضرور ہوتی ہے۔ جدید نوآبادیاتی نظام میں محکوم آبادی کا بیشتر حصہ چاہے غیرملکی کسی نسل کا ہو چاہے خالص مقامی نسل کا، سامراجی عمل کا مقصد ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ جو ملک حاوی آ گیا ہے اس حکمران طبقوں کی سرداری میں ایک مقامی بورژوازی یا نام نہاد بورژوازی تیار کی جائے۔

معاشرتی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں آتی ہیں وہ غریب لوگوں بالخصوص دیہات میں زیادہ واضح نہیں ہوتیں اور دیہات کے غریب لوگوں کی بود وباش وہی رہتی ہے جو کلاسیکی نوآبادیاتی نظام میں بن گئی تھی۔ لیکن اس کے پچھلے دور میں نوکر شاہی نے جو نچلی بورژوازی بنائی تھی وہ اب ایک نام نہاد بورژوازی بن بیٹھی ہے۔ یہ نام نہاد بورژوازی مقامی عناصر کی اقتصادی سرگرمیوں میں جان ڈال کر معاشرے کی مختلف پرتوں کے درمیان اور تجارتی نظام کے دلالوں (گماشتوں) کے درمیان سماجی تفریق بڑھا دیتی ہے۔ ساتھ ہی سماج میں حرکت اور تبدیلی کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شہری مزدور طبقہ بڑھتا ہے، نجی زراعتی ملکیت کا نظام شروع ہوتا ہے اور زراعتی پرولتاریہ پیدا ہوتا ہے۔ معاشرتی ڈھانچے کے اندر یہ تبدیلیاں پیداواری قوتوں کا معیار کافی اونچا ہو جانے کی وجہ سے آتی ہیں اور معاشرے کے تاریخی عوامل پہ براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ کلاسیکی نوآبادیاتی نظام میں یہ عوامل ایک ہی مقام پہ تھمے رہتے ہیں مگر نوآبادیوں کے جدید نظام میں مقامی سماجی ٹکڑیوں کے اندر مفادات ٹکرانا شروع ہو جاتے ہیں جن کی بنا پر طبقاتی جدوجہد شروع ہوتی ہے، معاشرتی قوتوں میں دوبارہ حرکت آتی ہے اور یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ شاید تاریخی عوامل میں ارتقا کی قدرتی رفتار دوبارہ لوٹ کر آرہی ہے۔ اس گمان کو زیادہ تقویت اس لیے بھی ملتی ہے کہ سیاسی طاقت (یعنی قومی ریاست) مقامی عناصر کے ہاتھوں میں ہوتی ہے درحقیقت یہ گمان بھی انتہائی بودا ہوتا ہے کیونکہ حاوی ملکوں کے حکمران طبقوں کے سامنے مقامی حکمران طبقوں کا سر دن رات جھکا رہنے کے باعث قومی پیداواری قوتوں کی ترقی یا تو بہت محدود ہو جاتی ہے یا بالکل تھم جاتی ہے۔ موجودہ عالمی معیشت کے ٹھوس حالات میں یہ گماشتگی سخت مہلک ثابت ہوتی ہے اور مقامی نام نہاد بورژوا زی چاہے جتنی قوم پرست ہو اپنا تاریخی فریضہ ہر گز پورا نہیں کر پاتی۔ یعنی یہ قومی بورژوازی نہیں بن سکتی۔ کیونکہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ تاریخ میں حرکت کا انحصار پیداواری قوتوں پہ ہوتا ہے اور یہ قوتیں صحیح طور پر فقط اسی صورت میں آگے بڑھ سکتی ہیں جب انہیں خود مختارترقی کے مواقع میسر ہوں۔

اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام چاہے پرانی طرز کا ہو یانئی طرز کا، سامراجی غلبے کی بنیادی صفت اور خاصیت بہر حال وہی رہتی ہے۔ یعنی پیداواری قوتوں کی آزادانہ ترقی کے مواقع جارحانہ طریقے سے سلب کر لیے جاتے ہیں اور اس تشدد کے ذریعے محکوم عوام کی تاریخی نشوونما ملیا میٹ ہو جاتی ہے۔ اس اصول سے سامراجی غلبے کے دو ظاہری روپ ہمارے سامنے کھل کر سامنے آ جاتے ہیں اور ان کی مشترک صفت معلوم ہو جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی آزادی کی تحریکوں میں عمل اور سوچ کے واسطے یہ بہت اہم اصول ہے اور یہ اصول جدوجہد کے دوران بھی ہمارے سامنے رہنا چاہیے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی۔

اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قومی آزادی وہ چیز ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنے تاریخی عوامل کی نفی سے انکار کرتا ہے۔ یعنی کسی عوام کی قومی آزادی دراصل اپنی تاریخی شخصیت دوبارہ حاصل کر لینے کا نام ہے جس کے ذریعے یہ عوام سامراجی غلبے کو تباہ کر کے اپنی تاریخ میں دوبارہ قدم دھرتے ہیں۔

ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ظاہری روپ کچھ بھی ہو، سامراجی غلبے کا اہم ترین اور سب سے زیادہ پائیدار پہلو یہ ہے کہ محکوم معاشرے کی پیداوری قوتوں کی آزادانہ نشوونما کے مواقع بزور بازو ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ کسی معاشرے میں تاریخی ارتقا کی قدرتی رفتار قائم رکھنے کے لیے یہ آزادانہ نشوونما لازمی ہے چنانچہ ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قومی آزادی وجود میں ہی اس وقت آتی ہے جب قومی پیداواری قوتیں ہر قسم کے غیر ملکی غلبے سے آزاد ہوں۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ قومی آزادی کے معنی یہ ہیں کہ ہر قوم کو اپنے مقدر پہ مکمل قدرت ہو اور قومی خود اختیاری اس آزادی کا مقصد ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت پہلو دار حقیقت کی مبہم اور جذباتی تعریف ہے۔ ہمیں اس تعریف سے اختلاف نہیں لیکن ہم معروضی بیان پسند کرتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون میں چاہے جو فارمولا بنایا گیا ہو ہماری نظر میں قومی آزادی کی اساس اس بات پہ ہے کہ ہر عوام کو اپنی تاریخ خود بنانے کا حق ہونا چاہیے۔ اور قومی آزادی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامراج کے ہاتھوں برباد ہونے والا یہ حق دوبارہ جیت لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی جو تحریک یہ بنیاد اور یہ مقصد اپنے سامنے نہیں رکھ سکتی وہ ہماری رائے میں سامراج کے خلاف جدوجہد تو کرسکتی ہے مگر اس کی جدوجہد قومی آزادی کے لیے ہر گز نہیں ہو سکتی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔