ہماری ترجیحات اجتماعی مفادات ہیں – سردار اختر مینگل

51

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کی جذبات کو کبھی ٹہس نہیں پہنچائینگے الیکشن ترجیحات کے 6 نکات کی شکل میں ہم نے اسمبلی فلور اور معاہدے کی صورت میں حکومت وقت کے سامنے رکھ دی ہے جس کا پہلا پوائنٹ بلا رنگ ونسل اور مذہب لاپتہ افراد کی بازیابی کا ہے جس پر اب تک صحیح معنی میں عمل درآمد نہیں ہوپا رہا البتہ چند ماؤں اور ان کے خاندانوں کو ان کی خوشیاں لوٹا دی گئی ہیں لیکن اس سلسلے پیش رفت سے ہم مکمل طور پر مطمئن نہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے نوشکی کیشنگی کے مقام پر بی این پی نوشکی کی ضلعی کابینہ کے اجلاس کے صدارتی خطاب میں کیا۔

مرکزی نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ممبران سی سی اور ایم پی اے بابو میر محمد رحیم مینگل، حاجی میر بہادر خان مینگل، میر خورشید جمالدینی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ ہماری ترجیحات صرف پارٹی یا ایک علاقہ تک محدود نہیں بلکہ ہم نے شروع دن سے ہی اجتماعی جہدوجہد کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے 6 نکات کی ترتیب و تشکیل بھی اجتماعیت کی بنیاد پر دی جس میں مذہب رنگ و نسل اور علاقاہیت و لسانیت کو بالائے طاق رکھ کر دکھی انسانیت اور پسماندہ عوام کی حالت زار کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ہم نے ان علاقوں کے لئے جہاں سے ہماری پارٹی کے نماہندے منتخب نہیں ہوئے ہیں یا انھیں منتخب ہونے نہیں دیا گیا ہم نے بلا تخصیص ان علاقوں کے لئے بھی ترقیاتی اسکیمیں رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کی پی ایس ڈی پی میں بہت سے ترقیاتی اسکیمیں رکھ دی ہیں جن میں چمن کراچی دہری شاہراہ، سلطان پاس، مکران کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنا،نوشکی کے لئے تین گرڈ اسٹیشن، قلات، خاران (گرک)، نوشکی چاغی و دیگر علاقوں میں ڈیمز کی تعمیر چند ایک مثالیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوباہی حکومت اب عوام میں پارٹی کی مقبولیت کو کم کرنے کیلئے نئی چال اپناہی ہے جس کے تحت پارٹی کے منتخب عوامی نماہندوں کے فنڈز پر کٹ لگا کر غیر منتخب افراد کو ترقیاتی اور انتظامی اختیارات دے کر بی این پی دشمنی کی انتہا کی گئی ہے لیکن عوام باشعور ہیں انہیں اچھی اور کوٹھے کی پہچان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین کی سیاست کا محور ہی در اصل مخالفت برائے مخالفت ہوتی ہے یہ پارٹی عہدیداروں اور ورکرز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کو حقیقت سے آگاہ رکھیں اور پارٹی اداروں کو مضبوط کر کے پارٹی پالیسی اور پروگرام کو گھر گھر پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔