کیچ میں برطرف خواتین اساتذہ کے بحالی میں تاخیر تشویشناک ہے – بی این پی عوامی

22

ضلع کیچ کی خواتین سمیت 114 اساتذہ کو غیرقانونی برطرفی کے بعد بحالی میں تاخری حربہ تشویشناک ہے، ضلع کیچ کے 114 گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں، معاشرے میں اساتذہ کی تذلیل کی پالیسی ہرگز قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی رہنما قاضی نور احمد بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ضلع کیچ سے 114 اساتذہ کی برطرفی اور ان کے بحالی میں بلاوجہ تاخیری حربے قابل مذمت ہے، صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری تحقیقات مکمل کر کے ان اساتذہ کو بحال کریں جنہیں بلاوجہ ذہنی اذیت کا شکار بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں جتنی توقیر اورعزت اساتذہ کو حاصل ہے ہمارے ہاں ان کا عشر عشیر ملنا مشکل ہے یہاں اساتذہ کو خامخواہ کے مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے، صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم ثانوی نے چھان بین، تحقیقات اور قانونی تقاضے کے بغیر ضلع کیچ سے 114 اساتذہ کو نوکری سے نکال کر نہ صرف اس شعبے کی تذلیل کی ہے بلکہ 114گھرانوں کو معاشی حوالے سے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے، صوبائی حکومت روزگار دینے کے بجائے  برسر روزگا رخواتین سمیت نوجوانوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت ان اساتذہ کے معاملے میں کوئی تحقیقات کرنا چاہتی ہے تو بلا شک کرے مگر یہ عمل فوری طور پر انجام دے کر اساتذہ کو بحال کرے تاکہ انہیں مزید ذہنی اذیت اور مشکل حالات کا سامنا کرنا نا پڑے اور دیگراساتذہ کی حوصلہ شکنی نہ ہوسکے۔