کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج

75

پاکستان بلوچ قوم کو انصاف کی فراہمی کا ڈھنڈورا پیٹھ کر بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تنظیموں اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی بھر پور کوشش کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3703 دن مکمل ہوگئے۔ قلات سے میر نبی بخش بلوچ، داد محمد اور ان کے ساتھیوں نے، جبکہ کوئٹہ سے وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کے رہنماء اور سماجی کارکن ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریاست جس کی بنیادیں ٹیڑی ہوں تو وہ کسی قوم کو کیا انصاف دلاسکتی ہے، عدلیہ ایک ایسا ستون ہے جو ریاست کو ایک اصول کے تحت چلانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کی بندش کے خلاف پرامن جدوجہد جاری ہے تو دوسری جانب ریاستی مشینری ان کوششوں میں مصروف ہے کہ کسی طرح ان گمشدگیوں کے خلاف عالمی سطح پر بڑھتی توجہ کی شدت کو کم کرکے اسے ایک تحریک کی بجائے ایک عام اور انتظامی مسئلے کا درجہ دے کر ایک اندرونی مسئلہ ثابت کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست نے بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے لہٰذا بلوچ قوم سمیت دیگر افراد وی بی ایم پی کے ساتھ ملکر اس تنظیم کو مزید مضبوط کریں تاکہ کوئی ہمارے فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی دوبارہ کوئی جرات نہ کرسکے۔