چیئرمین سینٹ کے جھروکوں سے – الیاس بلوچ

52

چیئرمین سینٹ کے جھروکوں سے

الیاس بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

چیئرمین سینٹ بننے سے پہلے صادق سنجرانی کا کیریئر سب کے سامنے عیاں تھا۔ انہوں نےمیٹرک تک کا تعلیم اپنے آبائی گاؤں نوکنڈی ہی میں حاصل کیا۔مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیئے بلوچستان یونیورسٹی کوئیٹہ چلا گیا۔ اہل علاقہ کے مطابق وہ اپنے علاقے میں خان فیملی سے تعلق رکھتا ہے ۔ انگریزوں کے دور اقتدار میں” خان” کا لقب ایک اعزازی نام ہے جو کہ انگریز اپنے ماتحت کام کرنے والے ایجنٹوں اور دلالوں کو عزت بخشنے کے لیئے دیا کرتے تھے۔ یہی لقب شاید ان کے دادا یا پردادا کو ملی ہو یا پھر “خان ” زمانہ قدیم میں ترکمن اور افغانستان میں ایک مہذب نام رہ چکی ہے
1960 کے بعد لفظ خان عام ہوکر مالک اور نواب کی حیثیت حاصل کرگیا۔

بلوچستان سے منتخب ہونے والے ہر نمائندے کے لیے منتخب ہوتے ہی نہ صرف ان کے اپنے ہی، خاندان بلکہ پورے بلوچستان میں بلوچ عوام خوشی سے دھول کے تھاپ پر رقص کرتے ہیں اور آپس میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں۔ چیئرمین سینٹ کے علاوہ جب ظفراللہ جمالی وزیراعظم منتخب ہوا، سردار اختر جان مینگل وزیراعلی منتخب ہوئے، جب نواب اسلم رہیسانی وزیراعلی بنا تو ان سب کی خوشی میں سادہ لوح بلوچ خوشی میں آپس میں مٹھائیاں بانٹنے لگے، لیکن جب بلوچستان میں حالات خراب ہونے لگے تو سب سے پہلے عوام نے ان ہی پر انگلیاں اٹھائیں اور عوام کی نا ختم ہونے والا غصہ پروان چڑھا۔ ان ہی رقص کرنے والوں نے ان کو” پٹھو” اور دلال جیسے القابات سے یاد کیئے ۔

ان سے قطع نظر ، پسماندہ ترین علاقہ نوکنڈی ضلع چاغی سے چیئرمین سینٹ نے مختصر وقت میں عصائے شاہی اٹھا کر “منِ حکمرانی” کا وہ گراں پایہ کارنامہ دکھایا جس سے بلوچستان کے تمام سیاسی پارٹیاں ششدر رہ کر آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے حتیٰ کہ بلوچستان کے قوم پرست نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل خان بزنجو نے یہاں تک بتا دیا کہ اب پارلیمنٹ میں بیٹھنا ہمارے لیئے شرمندگی ہے، کیوں کہ سنجرانی مختصر وقت میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، 1998 میں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر اور پھر یوسف رضا گیلانی کے دور اقتدار میں شکایات سیل کا انچارج بنایا گیا، اور آخر کار 2018 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے پسماندہ علاقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے چیئرمین سینٹ بنا۔

اسکا ایک بھائی اعجاز سنجرانی نواب ثنا ءُ اللہ زہری کے وزات اعلیٰ کے دور میں محکمہ ریونیو کے افسر بھی رہ چکا تھا، جب کہ تیسرا بھائی بلوچستان کے عظیم پروجیکٹ سیندک گولڈ پروجیکٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہے اور تاحال اپنے عہدے پر فائز ہے۔
چیئرمین سینٹ کی جیت سیاسی پارٹیوں کے لیئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔

سنجرانی صاحب کی جیت پر قوم پرست پارٹیوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے لیئے ایک دن ایک مہینے کے برابر ہوتا جارہا تھا، ایسے میں نیشنل پارٹی تحریک عدم اعتماد کو موت اور زیست کا مسئلہ قرار دیتے رہے۔آخر کار 9 جولائی کو تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرائی گئی، اپوزیشن رہنماوں کا خیال تھا کہ ان کو ہٹا کر کشادہ نظر اور لبرل شخص کو چیئرمین سینٹ بنائیں گے ۔لیکن ان سب کا منصوبہ “پیش از مرگ واویلہ” ثابت ہوا ۔

ایسے میں اپوزیشن کو ناکامی ہوئی حاصل بزنجو نے اسے ملکی خفیہ اداروں کا عمل دخل قرار دیا ۔چیئرمین سینٹ کو دوبارہ کامیابی حاصل ہوئی چاغی اور پورے بلوچستان میں رقص اور مٹھائیاں بانٹے گئے۔لوگوں کی نظریں دوبارہ چیئرمین سینٹ پر” ٹکٹکی کا کھیل” کھیلنے لگی ۔عوام کے توقعات بڑھنے لگے کہ نوشکی اور چاغی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا ۔تفتان زیرو پوائنٹ کو عام مزدوروں کے لیئے کھول دیا جائے گا جسے ایران انتظامیہ نے دہشت گردی کے پیش نظر دیوار بناکر خاردار تاریں لگائی تھیں، جن سے چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کا زندگی داؤ پر لگ گیا، سیندک پروجیکٹ کے فنڈ سے بلوچستان اور خصوصا چاغی کو ترقی دے گی ۔لوگوں کو روزگار دی جائے گی آر سی ڈی شاہراہ بنے گی مسئلہ آب کو حل کی جائے گی کیونکہ موصوف کا حلقہ انتخاب یہی ہے ۔اب دیکھنا ہوگا ایک سال گذر چکا ہے آئندہ ترقی کے حوالے سے کیا پالیسی ہوگا۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔