پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ طلباء پر حملہ اسٹبلشمنٹ کی بلوچ فوبیا پالیسوں کا تسلسل ہے – گورگین بلوچ

51

بی ایس او پجار کے صوبائی صدر گورگین بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طلباء گزشتہ کئی عرصے سے اسٹبلشمنٹ کے روح روان مذہبی تنظیم کے ہاتھوں یرغمال قیدی بن چکے ہیں یہ تسلسل کے ساتھ روز بروز بڑھتی جارہی ہے، یہ پاکستان میں رہنے والے تمام مظلوم اقوام کے لیے نیک شگون نہیں۔

انہوں نے کہا جماعت اسلامی کے ذیلی ونگ تنظیم تمام تر روایات کی پامالی کرتے ہوئے بلوچ طلباء پر حملے میں شدت لارہا ہے، جماعت اسلامی اپنی ذیلی ونگ کو بلوچ کش پالیسوں سے دور رکھیں اور یونیورسٹی انتظامیہ بلوچ طلباء و طالبات کو تحفظ فراہم کریں یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے روز بروز ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں اسے ہم بلوچ کش اور بلوچ فوبیا پالیسوں کی کھڑی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا بلوچستان میں تعلیم نا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر طلباء پنجاب اور کراچی کا رخ کرتے ہیں مگر وہاں موجود نام نہاد مذہبی تنظیمیں بجائے تعاون اور حوصلہ افزائی کے بلوچ طلبا کو ہراسان کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی ہم شدید سے مذمت کرتے ہیں اور جماعت اسلامی سے اپیل کرتے ہیں وہ اپنی ذیلی ونگ تنظیم کو لگام دیں۔