پاکستان : سی پیک اتھارٹی کا قیام مسترد

110

 پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر سی پیک اتھارٹی کا قیام مسترد کردیا۔

رپورٹس کے مطابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے اختیارات پر ارکان پارلیمان کوتحفظات تھے،جبکہ پلاننگ کمیشن، کمیٹی کو مطمئن نہیں کرسکا۔

پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق،سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر سی پیک اتھارٹی کے قیام کو مسترد کردیا ہے،جس کی وجہ سے سی پیک سے متعلق امور ایک چھتری تلے لانے کے حکومتی منصوبے کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔

شیر علی ارباب کی چیئرمین شپ میں سی پیک پر پارلیمانی پینل کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا،اجلاس میں ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کے پاس پرنسپل اکائونٹنگ افسر کے اختیارات ہوں گے ، جس کا سیکرٹری پلاننگ کے ساتھ براہ راست اختلاف ہوگا۔پانچ یا چھ ارکان کے ساتھ سی پیک اتھارٹی ، پلاننگ کمیشن کی طرح ہوگی لہٰذا اداروں یا وزارتوں کی نقول کی ضرورت نہیں ہے۔

پلاننگ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ سی پیک اتھارٹی منصوبوں کی نشاندہی کرے گی تاکہ انہیں سی پیک کی چھترے تلے لایا جاسکے،تاہم یہ بتایا گیا کہ یہ متعلقہ وزارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی نشاندہی کرے اور اس کے بعد چین کے حکام کےساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ میں اس کا اشتراک کرے۔

کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ پلاننگ کمیشن کے اعلیٰ حکام ارکان پارلیمان کو اس بات پر مطمئن نہیں کرسکے کہ سی پیک سے متعلق منصوبوں کے لیے سی پیک اتھارٹی کیوں ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پلاننگ کمیشنکے مطابق سی پیک اب چینی حکام کے ساتھ بزنس ٹو بزنس روابط میں پیش رفت کررہا ہے،اس لیے انہوں نے درخواست کی ہے کہ متعلقہ وزارتوں کو مضبوط بنایا جائے۔طویل مشاورت کے بعد پارلیمانی پینل کے چیئرمین نے کمیٹی ارکان کے سامنے یہ مسئلہ ووٹنگ کے ذریعے حل کرنے کے لیے رکھا ، جس پر ارکان نے متفقہ طور پر سی پیک اتھارٹی کا قیام مسترد کردیا۔