پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے: سابق امریکی وزیر دفاع

108

امریکہ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے پاکستان کو “دنیا کا خطرناک ترین ملک” قرار دیا ہے۔

جیمز میٹس کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب “کال سائن کیوس” میں انہوں نے پاکستان کے معاشرے میں بنیاد پرستی، جوہری ہتھیاروں میں اضافے سمیت مختلف امور کا ذکر کیا ہے۔

امریکی فوج میں کئی دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد 66 سالہ جیمز میٹس جنوری 2017 سے جنوری 2019 تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں بطور وزیر دفاع بھی کام کرچکے ہیں۔

افغانستان سمیت مختلف امور پر اختلافات کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ مبصرین کے مطابق فوج میں اُن کی طویل عرصے تک خدمات کے باعث اُن سے توقعات بھی بہت زیادہ تھیں۔

روس کے نشریاتی ادارے ‘آر ٹی’ کے مطابق ‘کال سائن کیوس’ میں جیمز میٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی حکومت خطے کی سیاست کو بھارت سے دشمنی کے تناظر میں دیکھتی ہے۔

افغانستان کا حوالہ دے کر انہوں لکھا کہ پاکستان کی حکومت سمجھتی ہے کہ کابل میں ہم خیال و دوستانہ حکومت کے قیام سے بھارت کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ روکا جا سکے گا۔

جیمز میٹس مزید لکھتے ہیں “میں نے جتنے بھی ممالک سے معاملات طے کیے اُن میں پاکستان کو سب سے خطرناک سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ اُس معاشرے میں بنیاد پرستی کے علاوہ ان کے پاس جوہری ہتھیار بھی موجود ہیں۔”

انہوں نے لکھا کہ دنیا میں جوہری ہتھیار تیزی سے بڑھنے نہیں دیے جا سکتے، اگر وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں گئے تو اس کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس جانب اشارہ کر رہے ہیں یا ایسی کون سی انتہا پسندانہ سوچ کے حامل لوگ ہیں جن کی رسائی جوہری ہتھیاروں تک ممکن ہے۔

جمیز میٹس نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر پاکستان اور امریکہ کی فوج کے تعلقات کا ذکر کیا ہے تاہم انہوں نے سیاست دانوں کے حوالے زیادہ مثبت رائے کا اظہار نہیں کیا۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ایسی کوئی بھی قیادت موجود نہیں ہے جو عام پاکستانیوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتی ہو۔

جمیز میٹس نے اپنی کتاب میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ‘بہت پیچیدہ’ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے سابق وزیر دفاع کی کتاب ایسے وقت شائع ہوئی ہے جب امریکی حکومت افغانستان میں امن عمل میں پاکستان پر سب سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔

جیمز میٹس نے کتاب میں مزید لکھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل حل کر سکتے تھے مگر ان مسائل کے حل کے لیے ہمارے درمیان اختلافات بہت گہرے تھے اور اعتماد کی بھی شدید کمی ہے۔