ٹرمپ نے اسامہ بن لادن کے بیٹے کی موت کی تصدیق کردی

75

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی سرحد کے قریب افغانستان کے علاقے میں انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں ‘القاعدہ’ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے بیٹے اور نامزد وارث حمزہ بن لادن کی موت کی تصدیق کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس سے حمزہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق متضاد خبریں گردش کررہی تھیں۔

خبررساں ادارے ’اےایف پی‘ کے مطابق امریکی میڈیا نے جولائی اواخر اور اگست کے اوائل میں خفیہ ایجنسی کے حکام کا حوالہ دے کر رپورٹ دی تھی کہ 2 برس قبل دوران آپریشن حمزہ بن لادن ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سینئر حکام نے عوامی سطح پر اس کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا تھا۔

اس وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ سے صحافیوں نے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا’۔

وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’پاکستان کے سرحد کے قریب افغانستان میں امریکی انسداد دہشت گردی کے آپریشن میں القاعدہ کے اعلیٰ عہدیدار اور اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن مارے گئے‘۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ حمزہ بن لادن کی موت سے القاعدہ ناصرف ایک اہم قائدانہ صلاحیت بلکہ والد کے ’علامتی تعلق‘ سے بھی محروم ہوگئی۔

اعلامیے میں آپریشن سے متعلق وقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

حمزہ بن لادن کو امریکا نے دو سال قبل عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے خطوط سے یہ واضح ہوا تھا کہ حمزہ ان کا پسندیدہ بیٹا تھا جس نے القاعدہ میں ان کی جگہ لینی تھی۔

امریکا نے یکم مارچ کوحمزہ بن لادن سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حمزہ بن لادن، القاعدہ کے سربراہ کے طور پر ابھر رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں حمزہ کی طرف سے کئی آڈیو اور ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے ہیں جن میں اس نے القاعدہ کے جنگجوؤں سے امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں پر اپنے والد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے حملہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے حمزہ بن لادن کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مارچ 2018 میں ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے سعودی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ ملک کے بادشاہ کے خلاف لڑائی کی تیاری کریں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ کبھی کبھی حمزہ کو ‘جہاد کا ولی عہد’ قرار دیا گیا جبکہ انہوں نے مئی 2011 میں پاکستان میں امریکی فورسز کی جانب سے قتل کیے گئے ان کے والد کا بدلہ لینے کے لیے امریکا اور دیگر ممالک پر حملے کے لیے خصوصی طور پر آڈیو اور ویڈیو پیغامات جاری کیے تھے۔

واضح رہے کہ حمزہ بن لادن کو القاعدہ کے سربراہ ایمن الزواہری کی جانب سے 2015 میں ایک آڈیو پیغام کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔

گزشتہ برس اسامہ بن لادن کے اہل خانہ نے انکشاف کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن نے نائن الیون حملے کے اصل کردار محمد عطا کی بیٹی سے شادی کرلی۔

اسامہ بن لادن کے سوتیلے بھائی احمد اور حسن العطاس نے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’حمزہ بن لادن نے القاعدہ میں انتہائی اہم عہدے پر اپنی جگہ بنالی ہے تاکہ اپنے والد کی موت کا بدلہ لے سکے، جنہیں 7 برس قبل پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فوجیوں نے ایک آپریشن کے دوران قتل کردیا تھا‘۔