ُجھلی: پنکھا چلانے والا گدھا – نادر بلوچ

107

ُجھلی: پنکھا چلانے والا گدھا

تحریر: نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گدھا ہمیشہ سے انسانوں کی خدمت میں پیش پیش رہا ہے۔ انسان نے گدھے کی اس اطاعت گذاری سے من چاہا فائدہ اٹھایا ہے۔ ہرہٹوں، و آسیابوں پر پانی نکالنے و گندم پیس کر آٹا بنانے سمیت سامان لادنے و روز مرہ کی سواری، اینٹوں کے بٹوں پر مٹی ڈھونے کے علاوہ بعض گرم علاقوں میں گدھوں سے تازہ و یخ بستہ ہوا حاصل کرنے کیلے ُجھلی بناکر پنکھے کا کام لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اب پاکستان اور چین نے مشترکہ فارمز بنا کر گدھوں کی نسلی افزائش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان میں سیپیک کی ناکامی کے بعد اب گدھا استان عمران خان کے علاقے میں بنانے کی تیاری جاری ہے۔ بلوچستان والوں کو کوئی اعتراض بھی نہ ہوگا۔ گدھے کو سمجھنے کیلئے گدھا بننے کی ہرگز ضرورت نہیں بس ان اوصاف پر غور کرکے سمجھنا ہوگا کہ گدھا کیسے ہوتا ہے اور کیا انسان بھی گدھا بن سکتا ہے؟ اگر اوصاف و عوامل ہوبہو گدھے جیسے اپنائیں جائیں گے تو گدھا بننے سے انسان کو کوئی نہیں روک پائے گا۔ غلامی کی چاپ نے بلوچ وطن کے ہر حصے و کونے، مش و تلار پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں، ان میں سے ایک جدید سہولیات میں شامل بجلی کے نظام کا اکثریتی بلوچستان میں ناپید ہونا شامل ہے۔ گرم علاقوں کے باسیوں نے بجلی کے متبادل نظام کے طور پر گدھے کو یہ ذمہ داری سونپی ہے۔ گدھا اپنے کفیلوں کی تابعداری کی لاج رکھتے ہوئے پوری رات پنکھا چلاتی ہے۔ مالک سکون سے خراٹے بھرتے نیند پوری کرتے ہیں۔

جیسے گدھا بننے کیلئے گدھا ہونا ضروری نہیں، اسی طرح گدھے اور پنکھے کے تعلق اور اس تعلق کو انسان نما مخلوق کا سامان تعش کے طور پر گدھے کے استعمال کو پرکھنے کیلئے فلسفی ہونا فرض نہیں ٹہرتا۔ یہ وہ مخلوق ہے جو چار ٹانگیں ہونے کے باوجود انسان کے سامنے لاچار ہے۔ اطاعت گذاری، وفاداری، کے باوجود انسان ہمیشہ اس جانور پر غصہ اتارنے کیلئے تشدد کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ تشدد انسان پر ہو یا جانور پر یہ دونوں صورتوں میں ناقابل قبول ہے۔ لیکن تشدد نے گدھے کی عادتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ قدرتی طور پر گدھے کی مزاج اور برتاو میں تشدد نے روز مرہ کی خوراک جیسی جگہ بنالی ہے۔ تشدد کے بنا اب گدھا اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر پاتا۔ پنکھا چلاتے ہوئے اسے رات گئے اس چابک کی ضرورت پڑتی ہے جس کا جلن اسے گھنٹوں پیدل چلنے کی سکت دیتی ہے۔ تخیل میں اس گدھے کو تصور کرنا ہوگا جس کے آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے، ایک ہی دائرے میں شام سے لیکر طلوع صبح تک چلتی رہتی ہے۔ بس ایک چابک کی رات کے ہر پہر رسد ضروری ہے۔

یہاں وضاحت کرنا ضروری ہے کہ راقم خود جانوروں سے پیار کرنے والا آدمی ہے، جانور کا تذلیل مقصود ہے نہ گدھے کی تابعداری اور وفادری پر شک مطلب ہے۔ غور طلب باتوں کا مقصد اس مثال کو سمجھانے کیلئے دی جاری ہے وہ رات کے ہر پہر کے بعد گدھے کی چابک کی چاہ ہے۔ یہاں پر سوچ میں پڑنے کو من کرتا ہے کہ کیوں ایک اطاعت و فرمانبرداری کے نمونے کو پھر سمجھنا پڑتا ہے کہ کام جاری رکھو، یہ تمھاری ذمہ داری ہے، یہ تمھارا کام ہے۔ اسکو تمھیں ہی کرنا ہے۔ یہ ایک خصلت ہی شاید انسان اور گدھے کے درمیان فرق کو واضع کرتی ہو۔ انسان کو اسکی ذمہ داری سمجھانے کی ضرورت بار بار پیش نہیں آتی ہے۔ گدھے کو بار بار الف لیلیٰ کی داستان سنانی پڑتی ہے۔

یہاں ایسے رویئے کی بات ہو رہی ہے جو انسان کو جانور اور جانور کو انسان بناتی ہے۔ یہ رویہ سماج میں جب گھر کرجاتی ہے تو پھر اسی چابک کے وار سے بار بار انسانوں کو انکی ذمہ داریاں سمجھانی پڑتی ہیں۔ سماج کے متحریک کرداروں کو انکے حقیقی کردار کی یاد دلانی پڑتی ہے۔ شعراء، ادیب، سیاسی و سماجی کارکن، اساتذہ، ڈاکٹر،سب کو انکی قومی ذمہ داریوں کا احساس دلانا پڑتا ہے۔ یہ چابک زنی سماجی ترقی کی راہوں کو ہموار کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انقلابی کارکن اور ایک تنخواہ دار میں فرق کردار کا ہے۔ سستی و بے راہ روی کردار کی کردار کشی کرتی ہے۔ صلاحیتوں کو گرد آلود کرتی ہے۔ انسانی کردار کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔ تخلیقی و شعوری سوچ کو مسمار کرتی ہے۔ دماغ سوچنا بند کرتی ہے۔ سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کیلئے مدد لینی پڑتی ہے۔ سچائی پر عمل پیرا ہونے کیلئے زور اور دباو کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکل ایسے جیسے قبض کے مریض کو جلاب کی۔ ایک ایسا کردار جو منجمد ہو جسکو پگھلنے کیلئے حرارت کی ضرورت ہو وہ سماج میں مشین کا ایک پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس سے انقلابی سوچ کی امید رکھنا ناممکن نہیں مگر صبر آزماء اور مشکل کام ہوگا۔

چابک زنی کا یہ کھیل صدیوں پرانی ہے لیکن جن اقوام کو آزادی اور انقلاب کی تمنا ہو انکو انکے ذمہ کام اور زمہ داریوں کے تعین کرنے میں بار بار دشمن کی اور نہ دوستوں کی چپل کی ضرورت رہتی، وہ اپنی منزل کی جانب رواں رہتے ہیں۔ قیادت اور لیڈرشپ کو بار بار اتحاد و یکجہتی کی اہمیت اور سبق بار بار پڑھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انکو جہد کے سیاسی طریقہ کاروں کو مقبول کرنے کیلئے دباو کی ضرورت نہیں رہتی۔ سیاسی و سماجی کارکنوں کی نظریاتی آبیاری کیلئے بار بار شہیدوں کی لہو ٹپکانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ قومی غلامی کا احساس ہوتے ہی قومی منزل آزادی ہوتی ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کیلیے نوجوانوں، سیاسی رہنماوں و پارٹیوں کے کردار سامنے ہوتے ہیں، ان سے عوام کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ادیب، شعراء، لکھاریوں، سماجی و سیاسی کارکنوں کے کردار نبھانے کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ شعور و تجربات سے خود کو لیس کر کے میدان عمل میں زندہ و جاوید کردار کیلئے عمر بھر اسی راستے پر چلنے کی قسم کھائی جاتی ہے۔ تب جاکر قوم کو آزادی و خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔

جو اقوام کمزوری، لاچاری، و بے بسی کی تصویر بنتے ہیں انکو تاریخ کی چابک پڑھتی ہے جو انتہائی دردناک ہوتی ہے پھر نسلوں کو زندانوں میں چابک پڑتی رہتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں تاریخ اور وقت بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ ہر سیاسی و سماجی جہد کار پر فرض ہے کہ وہ اپنی قومی زمہ داریوں کو سمجھے شہداء کی قربانیوں کی لاج رکھتے ہوئے اپنے لیے کوئی ایک کردار چن کر اسی کو نبھاتے ہوئے قومی مقصد کے لیے امر ہوجائیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔