ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم – سلمان حمل

156

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تحریر: سلمان حمل

دی بلوچستان پوسٹ

پسنی کے پُرنم ہواؤں میں پَل کر جوان ہونے والا نوجوان لازماً خداداد صلاحیتوں کا مالک ہوگا ہی مگر کسے پتہ کہ وہ تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر بچھڑ جائے گا۔ بات ہو رہی ہے کمبر مبارک کا جو آج سے پانچ سال پہلے دوہزار چودہ کو ساتھیوں سے جسمانی طور پر بچھڑ گئے، مگر رہتی دنیا تک یاد رکھے جائینگے۔ وہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باعلم و با ہنر نوجوان تھے، جو تحریک کے ہر پیچدگی سے بخوبی واقف تھے۔ سیاست سے لے کر مزاحمت تک، مزاحمت سے لے کر فلسفے تک۔ وہ ایک فلسفی تھا، ہر وقت کسی نہ کسی طرح کچھ نیا کرنے کے درپے تھا۔

اس سے ملاقات مکران کے مضبوط محاذ ساہیجی میں ہوا۔ وہ کتب بینی میں مصروف ایک تلار کے سائے میں بیٹھا تھا، دیکھ کر ایسا لگا کہ پہلے سے ملے ہیں۔ اس کی وجوہات شاید انکی سیاسی بلوغت تھی اور ہوتی بھی کیوں نہ کہ وہ زمانہ طالب علمی سے سیاست سے وابسطہ رہے۔ بی ایس او کے پلیٹ فارم سے تربیت پاکر عمل کے میدان میں آئے تھے۔ وہ قدآور نقاد تھے، جو تحریک کے ہر پہلو اور فیصلہ و پالیسی پر ایک تنقیدی نظر رکھتے تھے۔ دونوں پہلوؤں پر غور و فکر اور مباحثے کے بعد ہی وہ اس پر اتفاق یا اختلاف کرتے۔ سطحی اور فضول مباحثوں سے اکثر گریزاں رہے۔ تاکہ الجھنوں میں نہ پڑیں اور دوسروں کو بھی نہ اُلجھائے ۔ دلائل کے انبار پڑے ہوئے تھے ان کے پاس، وہ محنت اور محنت پر یقین رکھنے والا جھد مسلسل کا قائل تھا۔ مصائب و حالات کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے رہے اور محاذ پر ڈٹے رہے۔ شاید ان کی مضبوطی اور فکری بلوغت کی وجہ واجہ مبارک قاضی کے سر سجتا ہے کیونکہ گھر میں ایک آزاد اور انقلابی ماحول ہی انقلابی قدآور شخصیات کو جنم دیتا ہے اور کمبر بھی ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوا، جس میں بڑوں کی جیل و زنداں میں ہونا، عقوبت خانوں میں مقید ہونا اور پھر بھی قومپرستی کی دعوے سے پیچھے نہیں ہٹنا ہی انقلابی فولادوں کا جنم دیتا ہے۔

شاعری کے زیر و زبر تک سے واقف تھے اور خوبصورت انداز میں اپنے خیالات کو الفاظ کی چادر میں اوڑھ کر پیش کیا کرتے تھے، جسے بڑے بڑے ادیب داد دیئے بغیر نہ رہ سکتے۔ بات کمبر کی ہو تو ان کی مخلصی اور ایمانداری کی نہ ہو تو سراسر ناانصافی ہوگی، ان کی ذات سے، ان کی فکر سے، انکی دی ہوئی راہ سے۔ وہ تنظیم اور تحریک سے انتہا کی حد تک محبت کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ جب میں نے ڈاکٹر منان جان سے کمبر کی شھادت کے بعد سوال کیا تو اس نے خاموش ہوکر ایک آہ بھری اور کہا کہ یہ وقت ان کے شھادت کا نہیں تھا، وہ تنظیم و تحریک کا ایک انمول ہیرہ تھا، جو نقد پر بہتر دسترس رکھتا تھا اور منظم پالیسی ساز تھا، مگر زندگی نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ ہم سے راستے ہی میں جدا ہوگئے۔ یقیناً اس سفر میں کوئی تا ابد زندہ نہیں رہ سکتا مگر امر ہوسکتا ہے، ایک بہتر و برتر کردار ادا کرسکتا ہے اور کمبر جان بھی برتر او بہتر کردار تھا۔

اگر زندہ ہوتے، ہمارے درمیان ہوتے تو اس سے بھی بہتر کردار ادا کرتے، ہماری راہ نمائی کرتے، ماضی کی تلخ حقائق سے تجربہ حاصل کرتے اور مستقبل کیلئے بہتر صف بندی کرسکتے۔ وہ ایک ایسا انمول شخص تھا بقول ِ شاعر “ملنے کے نہیں نایاب تھے” صدیوں میں ان کا خلا پُر نہیں کیا جاسکتا، ان کی جگہ کل بھی خالی تھا آج بھی خالی ہے اور کل بھی خالی رہے گا کیونکہ ہرکسی کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے اپنا ایک جگہ ہوتا ہے، شاید بلوچ تحریک کو ان سے برتر کردار ملے ہیں اور ملیں گے مگر وہ کردار جو کمبر کا تھا وہ عمل جو ڈاکٹر علی کا تھا، وہ اب بھی وہیں کا وہیں ہے۔

آج ان کی پانچویں برسی پر جب میں انہیں یاد کرتا ہوں تو ایک مہربان دوست، ایک شفیق بھائی اور ایک عظیم جہدکار سے اپنے آپکو محروم تصور کرتا ہوں۔ آج تو ان کی یاد بھی مزید شدت سے آتی ہے، جب ہم ایک ہیں ہم متحد ہیں۔ اور یہی ان کا خواب تھا یہی ان کا انقلاب در انقلاب کا خواہش تھا، آرزو تھا، جسے تکمیل تک پہنچانا ہے۔ آزادی کو پانا ہے، غلامی کو کھونا ہے، سادگی کو ساتھ لے کر چلنا ہے، آزادی تک کارواں کا ہمسفر رہنا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔