مظلوم قومیتوں کی جدوجہد اور سامراجی یلغار – زلمی پاسون

62

مظلوم قومیتوں کی جدوجہد اور سامراجی یلغار

تحریر: زلمی پاسون

دی بلوچستان پوسٹ

سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں روز نت نئے ایسے مسائل جنم لے رہے ہیں جن کی مثال بعض اوقات انسانی تاریخ میں نہیں ملتی، مگر اکثر ایسے مسائل اور ایشوز سر اٹھا تے ہیں کہ جن کا حل کرنا سرمایہ دارانہ نظام یا بورژوا انقلابات کی اولین ذمہ داری تھی۔ ان سب ایشوز کے ساتھ ساتھ قومی سوال کا مسئلہ آج کل دنیا بھر میں واپس سر اٹھا چکا ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ نظام اپنی کمزوری اور خصی پن کے باعث ایسے مسائل حل کرنے سے محروم ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اپنی حتمی منزل پر پہنچ کر سامراج کی ظالمانہ و جابرانہ شکل اختیار کر لی تھی، جس کی شکل روز بروز بگڑتی مزید ظلم اختیار کر رہی ہے اور دنیا بھر میں ہر قسم کی تحریکوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے میں مختلف سامراجی قوتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں لگی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں ہم مظلوم قومیتوں کی جدوجہد جس میں (حق خودارادیت بشمول حق آزادی) شامل ہیں کے سلسلے میں سامراج کے کردار کو دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

نیا عہد اور امڈتے طوفان

2008ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد دنیا بھر میں ایک ایسے عہد کا آغاز ہوا جو کہ اس عالمی سامراجی پروپیگنڈے کے لئے زہر قاتل ثابت ہوا جس میں یہ کہا جاتا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی و ترویج انسانیت کی آخری منزل ہے اور انسانی تاریخ کی مزید ترقی تہذیبوں کی لڑائی پر مرکوز ہوگی۔ 2011ء میں عرب بہار نے اس پروپیگنڈے کے جھوٹے اور غیر سائنسی ہونے کا پول کھول دیا۔ عرب بہار نے جہاں اس نظام کے خصی ہونے کی قلعی کھول دی وہاں اس انقلابی دور نے پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں ایک نئی بحث کے آغاز کو جنم دیا، جس میں اس نظام کی ناکامی اور انسانیت کے پاس کسی دوسرے راستے کی تلاش کو عوام کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر رکھ دیا۔

علاوہ ازیں، اگر ہم اپنی بحث کی طرف واپس آجائیں تو ہمیں دنیا بھر میں 2008ء کے بعد نئی تحریکوں کا جنم دیکھنے کو ملتا ہے اور ان تحریکوں نے اب تک موجودہ نظام کے ناکارہ ہونے اور متبادل نظام کے لیے راہیں ہموار کرنا شروع کیں۔ 2008ء کے بعد جتنی بھی عوامی تحریکیں چلی ہیں ان میں سے زیادہ تر اپنے جوہر میں انقلابی تھیں مگر موضوعی عنصر (انقلابی پارٹی) کی کمی کی وجہ سے ساری تحریکیں زائل ہوکر رد انقلابی قوتوں کے نرغے میں پھنس کر بربریت پر منتج ہوئیں۔ اس حوالے سے مشرق وسطیٰ کی مثالیں کافی ہیں۔

مظلوم قومیتوں کی جدوجہد

ہم نے اپنی بحث کے آغاز میں واضح کیا تھا کہ بورژوا انقلابات جو کہ ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یورپ میں بعض جگہوں پر کلاسیکل طریقوں سے رونما ہوئے اور جن کے نتیجے میں ان مخصوص علاقوں میں جمہوری سوالات جس میں قومی سوال کو ایک حد تک حل کیا تھا مگر جونہی اس نظام نے اپنے حدود پار کرتے ہوئے سامراج کی شکل لے کر دنیا بھر کے پسماندہ خطوں پر قبضے شروع کیے جہاں پر انہوں نے سرمائے کی ترویج کیلئے اپنی اپنی کالونیاں بنائیں اور یوں وہاں پر بورژوا انقلابات نہ ہونے کی وجہ سے جمہوری سوال جن میں سے ایک اہم سوال قومی مسئلہ نہ صرف یہ کہ حل نہیں ہوا بلکہ زیادہ زور اور شدت سے ابھرتا گیا جس کی شدت میں سامراجی ہولناکیوں کے کردار کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جدید دنیا میں مظلوم قومیتوں نے اپنے جمہوری حقوق کے لیے کافی جدوجہد کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں جس میں بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ جیسا کی یورپ میں آئرش، اسکاٹش، کیٹالونیا؛ مشرقِ وسطیٰ میں کردوں کی تحریک؛ جنوبی ایشیا میں ہندوستان، سری لنکا اور دیگر ممالک میں بہت سی ایسی تحریکیں ہیں جو کہ اب تک قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کو مظلوم قومیتوں کاقیدخانہ قرار دیا جاسکتا ہے جن میں بلوچ، سندھی، پشتون، کشمیری اور دیگر مظلوم قومیتیں شامل ہیں۔ اور قومی جبر کیخلاف بلوچ اور پشتون اقوام اس وقت اپنے اپنے طریقوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

پاکستانی ریاست کی تخلیق جو کہ برطانوی سامراج کے سنگین جرائم میں سے ایک ہے اور یہ ریاست مصنوعی بنیادوں پر بنائی گئی ہے جو کہ آج تک ایک مستحکم اور متحد ریاست نہیں بن سکی۔ 1947ء سے لے کر آج تک یہ امریکی سامراج اور دیگر عالمی و علاقائی سامراجی آقاؤں کی غلامی کے طوق پہنے ہوئے ہے۔ یہاں پر پچھلے 72 سالوں میں مختلف تحریکیں اٹھی ہیں جن میں مظلوم قومیتوں کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، گو کہ ان تحریکوں کے تاریخی ادوار کو چھوڑ کر ان قومی یا جمہوری آزادی کی تحریکوں کی جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی اور سامراجی یلغار کے تناظر میں ان پر بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پشتون قومی سوال

پاکستان میں پشتون قوم بھی ایک مظلوم قوم کی حیثیت سے جی رہی ہے اور اس قوم نے بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف کافی تحریکوں کو جنم دیا ہے مگر جنوری 2018ء میں کراچی میں نقیب محسود کے ظالمانہ قتل کے بعد جو تحریک اٹھی، اس تحریک نے پاکستانی ریاست کی بنیادوں کو ہلا ڈالا، جہاں پر ایک طرف اگر انہوں نے بحیثیت مظلوم قوم اپنے اوپر مظالم کا اظہار کیا جبکہ دوسری طرف ریاست پاکستان کی ان پالیسیوں کو بھی آشکار کیا جن میں سامراجی عزائم اور سٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسیاں شامل تھیں، دوسری طرف ریاستی اداروں کے ان مظالم اور جبر کا پردہ فاش کیا جس کی وجہ سے سابقہ فاٹا کے لاکھوں لوگ دربدر ہوگئے تھے۔

9/11 کے بعد پاکستانی ریاست نے امریکی سامراج کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک غیر نیٹو اتحادی کا کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں امریکی سامراج کے ایما پر بنائے گئے طالبان نے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں سابقہ فاٹا کا رخ کیا۔ اور یوں 2004ء میں انہی طالبان کے خلاف نام نہاد فوجی آپریشنز کی بھرمار کر دی گئی جس کے نتیجے میں سابقہ فاٹا کے مظلوم عوام دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے مگر پاکستان کے حکمران اور فوجی اشرافیہ ان تمام تر مصائب اور مشکلات سے نہ صرف آنکھیں چھپاتے رہے بلکہ الٹا ان پر ریاستی جبر بڑھاتے رہے۔ 2018ء میں ابھرتی ہوئی اس تحریک نے ریاست پاکستان کے مقتدر اداروں جن میں فوج، عدلیہ، میڈیا اور خفیہ اداروں کے کردار کو سب کے سامنے واضح کردیا۔ فوج اور خفیہ اداروں نے مختلف حربے استعمال کیے مگر جبری گمشدگی، لینڈ مائنز، کرفیو اور چیک پوسٹوں پر تذلیل کے مخالف لگائے گئے بنیادی نعروں کے گرد پشتون قوم متحرک ہوئی اور ایک عوامی مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کرلی۔

اس تحریک نے جونہی عوامی قوت کو سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لئے احتجاجی جلسوں کی روش اپنائی توں توں ریاستی جبر کی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملا جس کی واضح مثالیں جعلی و غیر قانونی ایف آئی آر اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ سانحہ خڑکمر میں 14 کے قریب معصوم اور نہتے عوام کی ظالمانہ قتل کے خلاف پاکستان بھر کی سیاسی پارٹیوں نے آہ تک نہیں بھری مگر الٹا تحریک کے دو ممبران قومی اسمبلی اور دیگر قیادت کو مختلف جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر جیلوں اور عدالتوں کے جنجال میں ڈال دیا ہے، باقی قیادت کو چھوڑ کر ان دو ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے حوالے سے پارلیمنٹ کی بالادستی پر سوالیہ نشان موجود ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اقرار کیا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے وہ بے اختیار ہیں۔

بلوچ قومی سوال

بلوچ قومی جدوجہد پاکستان کے معرض وجود آنے کے بعد مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں برسرپیکار رہی ہے۔ اس جدوجہد میں مسلح جدوجہد کی کئی مثالیں موجود ہیں، جس کے ذریعے بلوچ قوم نے اپنے جمہوری حقوق کی لڑائی لڑی۔ مگر آج تک وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہونے سے دور ہیں، ان سارے عوامل پر بحث کرنے سے پہلے ہم جدید مسلح جدوجہد پر نظر دوڑائیں گے۔

2006ء میں بلوچستان کے اندر نواب اکبر بگٹی کے ریاستی قتل کے بعد بلوچ آزادی پسند تحریک نے ایک نئی اٹھان لی جو کہ آج تک مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے قومی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد کا سہارا لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں ایک طرف اگر لازوال قربانیاں ہیں تو دوسری طرف ریاستی جبر میں نرمی کے بجائے شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ریاستی جبر کی واضح مثالیں فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں اور روزانہ کی بنیاد پر لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ یہاں پر ہم مارکسی نقطہ نظر سے مسلح جدوجہد کے حوالے سے موقف بیان کرتے ہوئے حق بجانب ہیں کہ مارکس وادی جہاں مظلوم قومیتوں کے حق خود ارادیت بشمول آزادی کی حمایت کرتے ہیں وہاں پر مسلح جدوجہد کے طریقہ کار سے یکسر اختلاف کرتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلح جدوجہد کی وجہ سے کوئی بھی تحریک ایک طرف اگر اپنے سماج سے کٹ جاتی ہے تو دوسری طرف وہ ریاستی جبر میں اضافے اور شدت کو مزید جواز فراہم کرتی ہے۔ مسلح جدوجہد کے حالیہ واقعات کے پیش نظر بلوچ قوم جن جن اذیتوں اور تکلیفوں سے گزرا ہے اور گزر رہا ہے ان کا حال وہی لوگ اچھی طرح جانتے ہیں۔

سامراجی پکار یا سامراجی یلغار

مظلوم قومیتوں کی تحریکوں میں ہمیشہ ایک رجعتی عنصر موجود رہا ہے کہ یہ ایک ظالم قوم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے دوسرے ظالم قوم یا ملک سے مدد کی اپیل کرتے ہیں، یا ان سے کسی بھی قسم کی حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔ اس عمل کو اگر آسان الفاظ میں لکھا یا سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان تحریکوں کی قیادت کا اپنی عوام اور عوامی طاقت پر بھروسہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک ان کا ساتھ دے سکتے ہیں، کیونکہ اس چیز کی کمی نہ صرف قیادت کے اندر ہوتی ہے بلکہ ان کے نظریات کا بھی یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی تحریک کو عالمی یا علاقائی سامراجی ملک کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے۔

دوسری بات ان تحریکوں کے اندر وہ نظریاتی فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی جدوجہد میں بیگانگی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کو راستہ نظر نہیں آتا کہ وہ اب کیا کریں۔ تیسرا نکتہ یہ کہ وہ اس رسمی منطق کو اپنی طاقت بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ ’دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے‘۔ چوتھا اور آخری نکتہ کہ ان تحریکوں کی قیادت ان تمام سامراجی ممالک اور نام نہاد انٹرنیشنل کمیونٹی کو اپنے دکھوں کا آخری مداوا سمجھتی ہے، جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تمام سامراجی ممالک اور نام نہاد انٹرنیشنل کمیونٹی اپنے اپنے خطے میں ان تمام جرائم میں شامل ہوتے ہیں جو کہ شاید ان جرائم کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ ہوتے ہیں۔

سامراجی ممالک کی بحث پر جانے سے پہلے مظلوم قومیتوں کی قیادتوں کا سامراجی ادارے اقوام متحدہ سے بار بار مدد کی اپیل کرنا خود اس ادارے کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے کیونکہ اس سامراجی ادارے کے اندر موجود بڑی بڑی طاقتیں وہ سامراجی عزائم رکھنے والے ممالک ہیں، جو کہ اس پوری دنیا میں دہشت گردی، بدامنی، بنیاد پرستی اور نسل پرستی سمیت دیگر جرائم کے بانی اور موجد ہیں۔ دنیا بھر میں کہیں پر بھی جو آگ لگی ہوتی ہے ان میں ان تمام سامراجی ممالک بالخصوص امریکی سامراج کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہوتا ہے۔

بلوچ قومی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیمیں جن کی اکثریت مختلف سامراجی ممالک بالخصوص امریکہ سے پاکستانی ریاست کے جبر کے خلاف ہر فورم پر امداد کی اپیل کرتے رہے ہیں، ان کو نہ صرف یہ کہ مثبت جواب ملا ہے بلکہ امریکی سامراج اپنے سامراجی مفادات کی خاطر ان کو استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ امریکی سامراج کے سٹیٹ آف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بلوچ لبریشن آرمی کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں ڈالنا امریکی سامراج کے عزائم کا کھلم کھلا ثبوت ہے، اس پابندی کو مختلف سیاسی تجزیہ نگار مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، جن میں ایک طرف افغانستان کے اندر طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستانی ریاست اپنی سفارتی کامیابی تصور کرتے ہیں تو دوسری طرف امریکی و چینی تجارتی جنگ کے سلسلے میں اس پابندی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ چین کی سامراجی سرمایہ کاری کو بلوچستان میں مسلح آزادی پسند تنظیموں کی طرف سے شدید خطرات لاحق ہیں، جس میں گوادر پی سی ہوٹل اور کراچی میں چائنیز قونصلیٹ پر حملے کے حالیہ واقعات قابل ذکر ہیں۔ مگر ان دو پہلوؤں میں موخرالذکر کافی حد تک درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس وقت امریکی سامراج اور چینی سامراج کی تجارتی جنگ ایک ایسے موڑ میں داخل ہوچکی ہے جہاں پر امریکی سامراج اور چینی سامراج اپنے اپنے مفادات کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے خطہ ہذٰا میں اس قسم کے جز وقتی مفاہمتی عمل کو فروغ دے سکتے ہیں جس کا خمیازہ امریکہ پر اکتفا کرنے والی پراکسیوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

بلوچ آزادی پسند مسلح تحریکوں کے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت بھی اپنے اوپر مظالم کے سلسلے میں امریکی سامراج، نام نہاد انٹرنیشنل کمیونٹی اور اقوام متحدہ کے دروازے پر بار بار دستک دے چکی ہے، مگر باوجود اس کے پشتون قوم پر ریاست پاکستان کے سکیورٹی و خفیہ اداروں کی طرف سے مظالم میں کمی کے بجائے شدت آئی ہے گو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی طرف سے خط کا اجراہو چکا ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد کرنا اقوام متحدہ کے جیسے سامراجی ادارے کے بس کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ اس طرح کے کئی سامراجی معاہدے اس خطے سمیت دیگر خطوں کے مظلوم قومیتوں کے حوالے سے ہو چکے ہیں جس کی مثال کشمیر کے ایشو کے اوپر اقوامِ متحدہ کا چارٹرآف ڈیمانڈ ہے۔

سامراجی ممالک بالخصوص امریکی سامراج نے دو سال پہلے مشرق وسطیٰ میں کرد قوم کی آزادی اور اتحاد کے لیے کردوں کی آزادی یا متحدہ کرد قوم کے لیے ریفرنڈم کی حمایت کے لیے اپنی بنائی گئی دہشت گرد تنظیم داعش کو شکست دینے کے نتیجے میں مشروط کیا، مگر جونہی کرد ملیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں داعش کو شکست فاش کرنے کے بعد اکتوبر 2017ء میں اکثریتی رائے کے ساتھ کامیاب ریفرنڈم کا انعقاد کیا اور 93فیصد کے قریب لوگوں نے متحدہ اور آزاد کرد ریاست کے لیے ووٹ دیا، مگر اس کے بعد کیا ہوا، بجائے اس کے کہ امریکی سامراج کرد قومی سوال کو قبول کرکے مجوزہ حل پیش کرتا انہوں نے کردوں کو ترکی سامراج کے سامنے پلیٹ میں کباب کی طرح پیش کیا، یوں کردوں کو عراق میں عراقی پارلیمنٹ واپس جانا پڑا جبکہ شام کے اندر وہ ترکی کی مسلط کردہ بربریت کا سامنا کررہے ہیں۔

سامراجی ممالک اور سامراجی اداروں سے مدد کی اپیل کرنا جہاں عوامی طاقت کی توہین کے مترادف ہے، وہاں یہ عمل لوگوں میں اس رجحان کو فروغ دیتا ہے کہ امریکہ جیسے سامراجی ممالک اور ان کے غلام اداروں کی مدد کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا، جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی پھیل جانا ایک حتمی سبب بن جاتا ہے جو کسی بھی سیاسی عمل کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔

اس سلسلے میں جہاں تک سامراجی ممالک کے سامراجی مفادات اور سامراجی عزائم کارفرما ہوتے ہیں وہاں اس نظام کی زوال پذیری اور خصی پن کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس ظالم نظام کے اندر وہ سکت نہیں رہی کہ وہ مظلوم قوموں اور محروم و محکوم طبقات کو اس ظلم، بربریت اور استحصال سے آزادی دے سکے، جس کی تازہ ترین مثال سپین میں کیٹالونیا کا آزاد ریاست کے لیے 2017ء میں ریفرنڈم کا انعقاد ہے۔

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے ہم آخر میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سامراجی ممالک کے اپنے اپنے سامراجی عزائم اور مفادات ہوتے ہیں جن کی کسی بھی جمہوری یا معاشی تحریک کے حوالے سے حمایت یا مدد بغیر کسی شرط کے نہیں ہو سکتی۔ جب کہ دوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ مظلوم قومیتوں سمیت مظلوم طبقات کی اس ظلم، جبر، استحصال اور بربریت سے آزادی حاصل کرنا اس بوسیدہ اور گلے سڑے نظام کے گرانے سے جڑا ہوا ہے، جب تک یہ نظام رہے گا تب تک یہ ظلم اور بربریت رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔