مسئلہ کشمیر اور بلوچستان کا مختصر تقابلی جائزہ – گہرام اسلم بلوچ

87

مسئلہ کشمیر اور بلوچستان کا مختصر تقابلی جائزہ

 تحریر: گہرام اسلم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

اگر موجودہ ملکی سیاسی پس منظر اور کشمیر کی حالیہ بحران پر نظر دوڑائیں تو ادھر بلوچستان میں بھی ستر سالوں سے کمشیر کی سی صورت حال ہے۔ ہم نے جب سے اپنا ہوش سنبھالا ہے یہی سُنتے آرہے ہیں کہ کشمیر کے مسلمانوں پہ انڈیا کی جارحیت کے خلاف پاکستانی عوام اور دنیا کے مسلم اُمہ کو مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز بلند کرنا چاہیئے۔ پچھلے مہینے سے یہ مسئلہ اُس وقت زیادہ شدت اختیار کرگئی جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی انفرادی اور خصوصی آئینی حیثیت ملک کے آئین کے آرٹیکل 370کو(مودی سرکار) اور مودی نے ختم کر دیا۔ اس طرح موقعے پر اسطرح کی بیانات دینے سے ضرور متعلقہ فریقین اور خود کشمیری عوام کے احساسوں کو بہت ٹھیس پُہنچا ہوگا۔ ْ

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کو پارٹیشن کے بعد کشمیر کے حکمران راجہ سنگھ نے مشروط طور پر انڈیا سے الحاق کیا۔ جسکے مطالبات یہ تھے کہ کشمیر کا آئین ساز اسمبلی اور حیثیت ہندوستان کے باقی اسٹیٹس سے الگ ہوگی، جس پہ 1951 میں عملدرآمد ہوا اور آئین ساز اسمبلی بنی، جسکے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت و اختیار دیئے گئے اور کشمیر کو انڈیا کے باقی اسٹیٹس سے Art 370 کی رو ح سے منفرد آئینی حیثیت حاصل تھی، جسکو مودی سرکار نے غلط موقعے پر احمقانہ فیصلہ کرکے ختم کردیا۔ اسی کی رد عمل میں پاکستان اور انڈیا کے ملکی میڈیا کے تمام ٹاک شوز، تجزیہ نگار، کالم نویسوں کا موضوع بحث ہے۔ مگر جہاں تک میری ناقص رائے ہے کہ اگر بات کشمیر کی خودمختار حیثیت کی ہے یا مسلمانوں کی ہے تو بات کو 5 اگست سے شروع کرنا خود ایک تضاد ہے اور نا ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے محدود کرنا چاہیئے کشمیر گذشتہ ستر سالوں سے انڈیا کی جارحیت سے مظلومی اور غلامی کی سی ز ندگی گذار رہا ہے۔

اگر غیر جانبدار ہو کر انسان سوچتا ہے تو دوسری جانب پاکستان کے کشمیری عوام کا بھی یہی رونا ہے کہ ہم نا گھر کے ہیں نا گھاٹ کے، مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کا موقع ملا، جس میں میرے کولیگز پاکستان کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے، پاکستانی سماج کے سُلجھے اور سنجیدہ ترین نوجوان تھے، اسی ٹیم میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے نوجوان بھی شامل تھے۔ اسی اثناء میں ایک دن شیڈول کے مطابق ہمارا وزٹ سینیٹ آف پاکستان میں ہوا تو سینیٹ کے وزٹ کے دورا ن سینیٹر کرشنا کماری صاحبہ نے ٹیم پارٹی کا اہتمام کیا تھا، ایک کشمیری نوجوان نے احتجاجاً کچھ نہیں پیا کہ اس ایوان میں میری نمائندگی نہیں، تو میرا اس ایوان میں کچھ بھی کھانے پینے کا جواز نہیں بنتا اور میرا ضمیر بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ جہاں میرا کوئی کردار نہیں، میرا حق بھی نہیں بنتا۔ تو کہنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کی جو تحفظات ہیں ان پہ بروقت نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

کشمیری اور بلتی عوام کو اب مزید شناخت کی ضرورت ہے۔ کل ایسا نہ ہو کہ یہ تحریک سرحدوں کا خیال کئے بغیر بارڈر لائن کراس کر کے یہاں داخل ہوجائے تو کیا ہوگا ہمارے دعووں کا؟ گلگت بلتستان کے بلتی و دیگر اقوام شناخت کے بحران کا شکار ہیں۔ اگر آج ہم اس بنیاد پر کشمیر کے لیئے نعرہ لگاتے ہیں کہ انڈیا ہمارا دشمن ہے؟ یا کشمیری مسلمانوں پہ انڈیا اپنی ابربریت بند کرے؟ یا کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔؟ یا انڈیا ہمارا مستقل دشمن ہے؟ یا انڈیا اپنے عوام اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف لڑنا ہر ہندوستانی پر فرض ہے، جس نے ہندوستان میں اپنی آ نکھیں کھولی ہیں۔۔۔۔؟ تو یہاں مجھ سمیت بے شمار معصوم انسانوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگی کہ مسئلہ Dehli – Islamabadکی ہے۔ کیونکہ اس تمام صورت حال پہ چالیس دن گذرنے کے باوجود اب بھی کشمیر میدان جنگ ہے۔ تمام مواصلاتی نظام منقطع ہیں، نا وہاں پینے کے لیئے پانی، نا کھانے کے لیئے کھانا نا رابطہ، تعلیمی ادارے بند ہیں تمام معمولات زندگی معطل ہیں، مگر ہم یہاں روزانہ کی بنیاد ہر یہی سُنتے آرہے کہ کشمیر کے حق میں ریلی نکالی جا رہی یا کشمیر بنے گا پاکستان۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے عمران سرکار کا مسلسل یہی بیانیہ سامنے آرہا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں پہ ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، ان کیساتھ ہمدردی کر رہے ہیں۔ تو کیا دنیا میں باقی مسلمانوں پہ ظلم نہیں ہورہا؟ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے عوام مسلمان نہیں ہیں؟ کیا اس وقت بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ بلوچستان میں روز اول سے اسلام آباد نے بلوچ و پشتون قوم کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک روا نہیں رکھا ہے؟ بلوچ اپنی شناخت کی خاطر ستر سالوں سے زائد سے پاکستان سے ناراض نہیں ہیں؟ بلوچستان کا مسئلہ اس وقت بھی باقی قوموں کی طرح بلوچستان میں بھی شناخت کا بحران ہے، کسی نے اس پہ کبھی سوچا ہے کہ بلوچ کیا چاہتے ہیں اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ لاپتہ افراد، ساحل وسائل سے مالا مال بلوچ عوام دو وقت کی روٹی کے مستحق ہیں؟ ایک فیڈریشن کے اندر رہتے ہوئے بھی انکو حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ کیا بلوچستان کے عوام مسلمان نہیں ہیں؟ کس بنیاد پر وہ ہمدردیاں کشمیر کے ساتھ ہیں اور اپنے صوبے کیساتھ اس کے برعکس ہیں؟ اس لیئے کہ ہم مظلوم بلوچستانی ہیں؟ اس لیئے کہ اپنی خودمختارانہ حیثیت کے لیئے سوچتے ہیں اوریہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا یہ حاکمانہ رویہ مستقل رہے گا؟ اپنے وجود کے لیئے سوال کرنے کے حق کو مسلسل چھیننے کی کوشش کی گئی ہے، مگر ہر بچہ پیدائشی اور بالغ ہونے کی صورت میں انکو شدت سے احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ ایک کالونی کے اندر پیدا ہوئے ہو۔ بالکل یہی صورت حال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی ہے، وہ بھی سالوں سے غلامی اور ایک کالونی کی سی زندگی گذار رہے ہیں۔

کشمیری عوام اس وقت مظلوم ہیں، اچھی بات ہے پاکستان جیسا منظم ملک انکی پشت پناہی کر رہا ہے، مگر اسوقت کوئی ہے بلوچستان کے ستر سالوں میں سے صرف ستر دنوں کی داستان سُننے کی سکت رکھتا ہو؟

دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔