لاپتہ افراد کی بازیابی کےلئے احتجاج جاری

57

 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3721 دن مکمل ہوگئے ۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3721 دن مکمل ہوگئے۔ تربت سے چراغ بلوچ، دیدگ بلوچ اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے اس مرحلے پر جہاں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنی قوت کو اکھٹا کرچکی ہے اور پاکستان گوناگو چیلنجز میں گرا ہوا ہے پاکستان اپنی ناکامیوں کے بڑھتے ہوئے تسلسل کو روکنے اور بلوچ قوم کی جدوجہد کو اپنے روایتی حربوں سے ختم کرنے کے لیے اپنے شب و روز ایک کررہا ہے لیکن پرامن جدوجہد یہ ثابت کرچکی ہے کہ وقت اور حالات بلوچ قوم کے ساتھ ہیں جس کا اظہار قومی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے مثبت سیاسی پیش رفتوں سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز جس طرح عالمی دنیا تک پہنچ رہی ہے اگرچہ اب تک دنیا کی طرف سے موثر جواب نہیں مل سکی ہے لیکن سیاسی سفارتی پیش رفت کے حوالے سے بلوچوں کی پرامن جدوجہد واضح کامیابیاں حاصل کرچکی ہے۔

ماما قدیر نے مزید کہا کہ بلوچستان میں غیر انسانی طرزعمل کے خلاف وی بی ایم پی ہر فورم پر آواز بلند کرچکی ہے، عالمی انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالمی امن فورسز سے فوری مدد اور مداخلت کی اپیل کی، خود پاکستان کے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکٹایا اُس وقت یہ انسانی بحران اپنی ابتدائی مرحلے میں تھا اور لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی تعداد اتنی نہیں تھی اُس وقت ہم نے دیکھا کہ کسی طرف سے بھی بلوچ مظلوم اور محکوموں کی بات نہیں کی گئی اب جب کہ بلوچ لاپتہ افراد کی اور مسخ شدہ لاشوں کے ساتھ ساتھ انہی لاپتہ اور لاشوں کے لواحقین کی احتجاج کو بھی ہزاروں دن بیت چکے ہیں اب انسانی حقوق کی سوئی ہوئی ضمیر جھاگ چکی ہے اب اقوام متحدہ خواب غفلت سے بیدار ہوئی ہے اور اب وہ تمام ہمدردیاں مقامی علاقائی اور عالمی سطح پر ہمیں نظر آرہی ہے۔