علی وزیر اور محسن داوڑ کیخلاف فوج کی ایف آئی آر جھوٹی ثابت ہوگئی – منظور پشتین

113

پی ٹی ایم رہنماوں کی ضمانت ہوگئی۔

پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ نے شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ کمر میں فوجی چوکی پر حملے کے کیس کی سماعت کی، عدالت عالیہ کے جج جسٹس ناصر محمود نے اراکین شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب اراکین قومی اسمبلی کی دوسرے مقدمے میں ضمانت منظور کی، دونوں ملزمان کو 5، 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے علی وزیر اور محسن داوڑ کو مہینے میں ایک بار پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کا حکم دیا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماوں اور اراکینِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو خڑکمر واقعے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

رہنماوں کے ضمانت کی تصدیق کرتے ہوئے پی ٹی ایم رہنما منظور پشتین کا کہنا ہے کہ علی وزیر اور محسین داوڑ کی ضمانت منظور ہوگئی۔

ان کا کہنا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کو پاکستانی فوجی نے خڑ کمر میں عام پشتونوں کے ایک مظاہرے کے قتلِ عام کے بعد جھوٹے اور فریبی ایف آئی آر میں گرفتار کیا تھا مگر اب تک فوج کے وہ ایف آئی آر عدالت میں جھوٹ اور فریب ہی ثابت ہوئی ہے۔

علی وزیر و محسن داوڑ کے وکیل سنگین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ منتخب اراکین اسمبلی کیخلاف مزید کوئی کیس نہیں، رہائی کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت بنوں ان کے مقدمے کی سماعت کرے گا۔

خڑکمر میں چیک پوسٹ پر حملے کا واقعہ 26 مئی 2019ء کو پیش آیا تھا، علی وزیر کو واقعے کے روز جبکہ محسن داوڑ کو 30 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔