علاقائی صحافتی مسائل کے حل کے لیے مکران یونین آف جرنلسٹ کا قیام

28

مکران میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور صحافتی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لیے مکران کے چاروں پریس کلبوں کے درمیاں اتحاد قائم، مکران یونین آف جرنلسٹ قائم کر کے اس کے ذریعے باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے اور مشکلات کو اکھٹے ہو کر دور کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

گذشتہ روز مکران کے چاروں پریس کلب گوادر پریس کلب، تربت پریس کلب، پنجگور پریس کلب اور پسنی کلب کے اراکین اور عہدیداروں کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مکران میں صحافیوں کو دورانِ کام درپیش مشکلات صحافتی پیچیدگیوں اور دیگر مسائل پر غور غوص کیا گیا۔

باہمی مشاورت کے بعد مکران کی سطح پر صحافیوں اور پریس کلبوں کے درمیان یکجہتی پیدا کرنے، ہم آہنگی بڑھانے اور صحافتی پیچیدگیوں کو دور کرانے کے لیے چاروں پریس کلب کے درمیاں ایک اتحاد بنایا گیا جس کا نام باہمی رضامندی سے مکران یونین آف جرنلسٹ رکھا گیا۔

مکران یونین آف جرنلسٹ میں ہر پریس کلب سے دو ممبران کا انتخاب کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں اس کی ایک عبوری آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے آرگنائزر گوادر پریس کلب کے صدر صداقت بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر تربت پریس کلب کے صدر ارشاد اختر چنے گئے۔

مکران یونین آف جرنلسٹ کے ممبران میں گوادر سے نور محسن، تربت سے ماجد صمد، پسنی سے ساجد نور، ریحان بزنجو اور پنجگور سے عمر ماجد اور حاجی رفیق چاکر کا چناؤ کیاگیا۔

عبوری آرگنائزنگ کمیٹی یونین کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے آئین بنائے گی اور دوسرے مرحلے میں یونین کی باقاعدہ کابینہ تشکیل دے گی جس میں برابری کی بنیاد پر چاروں پریس کلب کو نمائندگی دی جائے گی۔

مکران یونین آف جرنسلٹ کے ذریعے مکران کے صحافتی اداروں کو ایک فورم پر اکھٹا کرنے کے ساتھ اسے اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں اور بلوچستان میں کام کرنے والی صحافتی انجمن اور اداروں کے ساتھ رابطہ اور اتحاد قائم کرنے کا ٹاسک دیاگیا۔

اس اہم اجلاس کے بعد گوادر پریس کلب کی جانب سے پکنک پارٹی کی میزبانی بھی کی گئی۔