شہید رزاق و محراب بلوچ زندہ ہیں – دوستین بلوچ

91

شہید رزاق و محراب بلوچ زندہ ہیں

تحریر: دوستین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گُذشتہ کئی سالوں سے بلوچ قوم اپنے سرزمین کے دفاع کیلئے قبضہ گیر ریاست پاکستان سے لڑتے آرہے ہیں, اور اپنے سرزمین کیلئے ہزاروں بلوچ فرزندوں نے جامِ شہادت نوش کی اور بلوچ قومی تحریک کو نئی روح بخش دی. آج جب ہم جہدے آزادی کی یہ نئی بلندیاں دیکھ رہے ہیں یہ سب ان شہیدوں کی لاشوں سے کے بدولت ہے، جنہوں نے اپنے خون سے اس پرچم کو سرخ رنگ دیا، ہم سرخ سلام پیش کرتے ہیں شہید رزاق جان بلوچ اور شہید محراب جان بلوچ کی ماؤں کو جنھوں نے ایسے بہادر بیٹے پیدا کیئے اور وطن پر فدا بھی کر دیئے۔

ان شہیدوں کی منزل حقیقی رشتوں سے کہیں آگے تھا، جب وطن کی بات ہوتی ہے تو سب کچھ لٹانے کو تیار تھے، پھر جان کیا چیز تھی, اپنے عالیشان گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں میں رہنا, اپنے ابو اور امی جان سے دور رہنا، اپنے بیوی اور بچوں سے دور رہنا, اپنے اوپر مسلسل مصیبتیں سہنا، ہر روز موت کا سامنا کرنا۔ وہ ان سب چیزوں سے گذر چکے تھے، ان کا فکر اور نظریہ ان سے کہیں آگے تھا، وہ اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے وطن کے لیئے جی رہے تھے۔ انہیں صرف اپنے گھر کی نہیں بلکہ پورے قوم کی پرواہ تھی۔

شہید رزاق جان بلوچ اور شہید محراب جان بلوچ نے ہمیشہ ڈٹ کر دشمن کا سامنا کیا, کئی بار اپنی جان کی پرواہ کے بغیر دشمن پر حملہ کیا اور دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات دیئے۔ دشمن کے اندر اپنا ڈر جمایا اور اس کو یہ احساس دلایا کہ بلوچ ایک زندہ قوم ہے اور اپنے آزادی کیلئے ہر ایک قدم اٹھا سکتا ہے اگر بلوچ مر سکتا ہے تو بلوچ مار بھی سکتا ہے۔

شہید رزاق جان نے پہلے بھی ایک بار موت کو قریب سے دیکھا تھا، اس نے اپنے جان پر گولیاں لیں، پر اپنے شان پر آنچ تک آنے نہیں دی. شہیدوں نے ہمیشہ اپنے لوگوں کا دفاع کیا، اپنے جہد کا پرچار کیا، لوگوں کو سمجھایا کہ ہمارے اصلی حقوق کیا ہیں، اور جوانوں کی دلوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا، تنظیم کو مضبوطی دی، تنظیم کے لیے قربانیاں دیں، دن رات پہاڑوں میں رہے، کئی مشن انجام دیں۔

شہید رزاق جان بلوچ اور شہید محراب جان بلوچ کا سب سے دوستانہ تعلق تھا، وہ سب کو ہنس کر گلے لگایا کرتے تھے، پر شہیدوں کی دوستی اپنے آپ میں بھی بے مثال تھا، شاید یہی ایک وجہ تھی کہ لوگ ان کی دوستی کی قسم کھایا کرتے ہیں کہ جینا اور مرنا ساتھ میں، کیونکہ یہی ایک وجہ تھی کہ جب رزاق جان زخمی ہوا تو موت اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا کیونکہ اسے محراب جان کے ساتھ جینا تھا اور اس کے ساتھ ہی مرنا تھا، شہیدوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ایسے اثرات چھوڑ جاتے ہیں کی دل کو توڑ جاتے ہیں، ہر ایک شہید ایک زخم بن کر دلوں میں رہ جاتا ہے، بلوچ ریپبلکن گارڈز نہ صرف اپنے شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے بلکہ یہ بھی یقین دہانی کرتا چلوں کہ ہر ایک شہید کا شہادت بدلہ ہوگا اور بلوچستان آزاد ہو کر رہے گا.

16 اکتوبر 2015 کو جب شہید رزاق جان بلوچ اور شہید محراب جان بلوچ، اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تنظیم کی کسی مشن پر جارہے تھے تو وہاں ان کا سامنا فوج سے ہوا, دونوں ہی باتجربہ شہیدوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فوج سے جنگ شروع کی، ڈٹ کر دشمن کا سامنا کیا، اپنے بہترین ہنر اور ٹریننگ سے اپنے ساتھیوں کو وہاں سے باحفاظت نکالا اور خود دشمن کا سامنا کیا، گھنٹوں تک دشمن کو روک کر رکھا اور شام کے وقت آپ دونوں نے اپنی جان کی قربانی دی، دشمن کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ انہوں نے آپ کو مار دیا پر انہیں یہ نہیں پتہ کہ جسم سے جان نکلنے کے بعد روح امر ہوجاتا ہے، اور دونوں شہید، شہید رزاق جان بلوچ اور شہید محراب جان بلوچ, جام شہادت نوش کرنے کے باوجود بھی اپنی سوچ اور فکر کی وجہ سے زندہ ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔