سی پیک کو بلوچ قوم نے پہلے قبول کیا اور نا آئیندہ کریگا – بلوچ نیشنل لیگ

134

ڈاکٹر مالک صرف اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کی خاطر سی پیک کو لیکر ایک مرتبہ پھر ریاستی وفاداریاں سمیٹنے کی کوشش کررہا ہے – ترجمان بی این ایل

بلوچ نیشنل لیگ کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے سابقہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور موجودہ کٹ پتلی نام نہاد صوبائی گورنمنٹ کی طرف سے بھیجی جانے والی وفد نے چین جاکر سی پیک کی کامیابی کے لئے نئے منصوبہ بندیاں کیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈاکٹر مالک سمیت وہ تمام افراد بلوچ قوم کی نسل کشی کو سی پیک کے ذریعے مزید دوام بخشنے کی کوشش میں لگے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو فعال بنانے کیلئے فوجی جارحیت تیز کر دی گئی ہیں گذشتہ دو ہفتوں سے کئی عام بلوچوں کو گوادر اور قرب و جوار کے علاقوں سے جبری طور پر اغوا کیا گیا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے چین نے باقاعدہ طور پر یہی بات کہی تھی کہ کوریڈور کے سامنے مستقبل میں جو بھی رکاوٹیں حائل ہونے والی ہیں انہیں کسی بھی صورت ہٹایا جائے اور پاکستان گذشتہ کئی سالوں سے اسی کام میں لگا ہوا ہے اور ڈاکٹر مالک جیسے بلوچ دشمن جو کہ صدیوں سے قوم پرستانہ سیاست کے نام پر بلوچ نسل کشی میں ریاست و چائنا کے شانہ بشانہ ہیں، ڈاکٹر مالک صرف اپنی گرتی ساکھ کو بچانے کی خاطر سی پیک کو لیکر ایک مرتبہ پھر ریاستی وفاداریاں سمیٹنے کی کوشش کررہا ہے لیکن انہیں اور ان جیسے دوسرے پارلیمنٹرینز کو یہ جان لینا ہوگا کہ بلوچستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت بلوچ قوم کے ذمے ہیں اور ریاستی زر خرید نام نہاد قوم پرستوں کا حشر بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے پاک نواز دہشت گردوں جیسا ہوگا۔

بی این ایل کے ترجمان نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین اکنامک کوریڈور اکیسویں صدی کا ایک ایسا سامراجی استحصالی منصوبہ ہے جس کی تباہی سے بلوچ سمیت دیگر اقوام بھی نہیں بچ سکتے ہیں۔ چین جو بیسویں صدی کے آخر تک سوشلزم کا داعی مانا جاتا تھا، سوویت یونین کی انہدام کے بعد باقاعدہ طور دنیا پر اپنی مضبوط گرفت حاصل کرنے کے لیئے مختلف سامراجی منصوبوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شرکت کر رہی ہے اور اب گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بلوچ خطے میں جاری انسانی نسل کشی میں براہ راست شریک ہو گیا ہے، اکنامک کوریڈور دوہزار تیرہ کو پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والا ایک ایسا استحصالی منصوبہ ہے جس کی وجہ سے بلوچ ساحل سمندر بلاشرکت غیرے چین کو دیا گیا جس کے بدلے چین پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو بیساکھی دے گا۔ بلوچ جو گذشتہ ستر سالوں سے اپنی قومی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، آج چینی سفاکیت کا بھی نشانہ بن رہے ہیں، چین پاکستانی توسط سے سمندری راستوں کو اپنی معاشی اور فوجی نقل و عمل کیلئے استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگا ہوا ہے، دنیا میں ابھرتی ہوئی قومی تحریکوں سے پیشگی نبرد آزما ہونے کیلئے چین اپنی استعماری عزائم کو حاصل کرنے کیلئے براہ راست بلوچ سرزمین کو استعمال میں لائے گا۔

انہوں نے کہا سی پیک اور اس سے منسلک منصوبوں کے ذریعے بلوچ قوم کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے پاکستان اور اس کے باجگزار ملک چین کا دیرینہ خواہش رہا ہے، جس کی اظہار پاکستانی وزارت عظمیٰ میں رہنے والے شوکت عزیز نے دوہزار دو کو کیا تھا کہ گوادر پورٹ کے منصوبے کے اختتام پر 2.5 ملین باہر کے لوگوں کو گوادر میں بسایا جائے گا جس کی شروعات اُسی وقت کیا گیا مگر بلوچ قومی تحریک آزادی سے منسلک سیاسی و عسکری قوتوں نے ان سامراجی عزائم کو خاک میں ملا دیا اور اب کی بار پاکستان چینی مدد و کمک سے اپنے منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے، سی پیک کے سیکیورٹی کے نام پر بلوچستان میں ایک بریگیڈ قائم کیا گیا ہے، سی پیک کے راستے میں پڑنے والے بلوچ آبادیوں کو زبردستی اٹھایا جا رہا ہے، گوادر سے لیکر تربت، آواران، پنجگور، خاران، خضدار، مستونگ سمیت بلوچستان کے ایک بھی علاقہ پاکستانی غضب سے نہیں بچ سکا ہے، بلوچستان میں جوانوں سے لیکر بچوں، بوڑھوں اور خواتین بھی پاکستانی ریاستی استعماریت سے محفوظ نہیں رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ نیشنل لیگ یورپ، اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر بلوچ قوم کی نسل کشی اور سی پیک کے خلاف دوسرے بلوچ پارٹیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریگی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کچھ مدت کے بعد ہم اپنے باقاعدہ کابینہ کا اعلان کرکے بلوچ نیشنل لیگ کے آئین و منشور کو بلوچ قوم کے سامنے رکھ کر اپنا جدوجہد بلوچستان کی آزادی تک جاری رکھیں گے۔