راشد حسین کو فری ٹرائل کا موقع دیا جائے، بے گناہی ثابت کرنے کیلئے ثبوت موجود ہے – والدہ

80

راشد کا میڈیا ٹرائل کیا گیا، بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور اب بھی یہی گمان ہے کہ راشد پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت کو گمراہ کیا جائے گا – والدہ راشد حسین

میرا لخت جگر، میرا 23 سالہ بیٹا راشد حسین سال 2017 کے ستمبر کے مہینے میں ملازمت کی غرض سے متحدہ عرب امارات میں ایک تعمیراتی کمپنی کے ویزے پر کراچی ایئرپورٹ سے گیا اور وہاں محنت مزدوری کرتا رہا اور وقت موقتآ ہمارے ساتھ رابطہ کرتا رہتا تھا، گذشتہ سال 26 دسمبر 2018 کی صبح 9 بجے کے وقت وہ اپنے کزنوں کے ہمراہ شارجہ میں اپنے کام کی طرف جارہے تھے کہ دو گاڑیوں میں، جن میں سے ہر ایک گاڑی میں ایک ایک بندہ سوار تھا، نے ابوظہبی کے حفیہ اداروں کے اہلکاروں کے طور پر اپنی شناخت کرنے کے بعد میرے بیٹے راشد حسین کو اپنے ساتھ گاڑی میں سوار کرکے لے گئے۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ عرب امارات سے جبری گمشدگی کے شکار راشد حسین بلوچ کی والدہ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

پریس کانفرنس کے موقعے پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، انسانی حقوق کے کارکن حوران بلوچ سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

راشد حسین کے والدہ کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ حضرات کے سامنے بحیثیت ایک ماں کے اپنی فریاد لیکر آئی ہوں اس امید کے ساتھ کہ آپ محترم صحافی حضرات اپنی قلم، جرائد، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے میری آواز کو حکام بالا تک پہنچائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے بیٹے راشد حسین کو زبردستی بغیر کسی وارنٹ کے چار افراد کے سامنے شناخت کے بعد اغواء کیا گیا، چھ ماہ تک حبس بیجا میں رکھ کر ان کو وکیل اور خاندان والوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور بغیر پاسپورٹ کے پرائیویٹ جہاز میں چھپکے سے 22 جون 2019 بروز ہفتہ چھٹی والے دن پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

راشد حسین کے والدہ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی راشد کا میڈیا ٹرائل کیا گیا، بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور اب بھی یہی گمان ہے کہ راشد پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگا کر عدالت کو گمراہ کیا جائے گا۔ اگر راشد پر کوئی جرم تھا تو شارجہ پولیس نے ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر کیوں درج کی، اسے امارات کی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا، انٹرپول کا بہانہ کیوں بنایا گیا حالانکہ راشد کے اوپر انٹرپول میں بھی کوئی کیس نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تین جولائی کو دوپہر ایک بجے کے وقت ملک کے تمام معروف ٹی وی چینلز جن میں جیو، اے آر وائی، آج ٹی وی سمیت تمام چینلز پر نیوز بریک کی گئی کہ راشد حسین کو خلیجی ریاست سے گرفتار کرکے پاکستان منتقل کیا گیا اور میڈیا کے مطابق اس خبر کی باقاعدہ سرکاری و عسکری ذرائع سے تصدیق کے بعد خبر چلائی گئی لہٰذا میرے بیٹے پر جو غیر حقیقی و من گھڑت بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہے تو ملکی قوانین کے تحت اس کو عدالت میں پیش کرکے عالمی و ملکی قوانین کے تحت انہیں اپنے دفاع کا موقع دیا جائے اور ان الزامات کو ثابت کیا جائے۔

راشد حسین کے والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے پر جو بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہے اگر انہیں عدالت میں پیش کرکے فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے تو میں یقین دلاتی ہوں کہ ہمارے پاس اتنے مواد اور ثبوت موجود ہے جو راشد حسین کی بے گناہی کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے

آخر میں انہوں نے صدر پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان اور انسانی حقوق کے تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ راشد حسین کی بازیابی میں کردار ادا کرکے انہیں عدالت میں پیش کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔