جھاؤ فوجی آپریشن میں لوگوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے – بی این ایم

97

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں پاکستانی فوج لوگوں کو بدترین اجتماعی سز ا کا نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ چار روز سے جاری آپریشن کی حالیہ لہر میں اب تک سینکڑوں لوگ حراست بعد فوجی کیمپوں اور ٹارچر سیلوں میں منتقل کئے جاچکے ہیں جہاں ان پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے۔ اب تک جتنے لوگ رہائی پاچکے ہیں ان میں اکثریت کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جھاؤ کے اکثرعلاقے دمب، گزی، سوادان، کریم گوٹھ، دمب گزی، ملاگزی، کوٹو، سستگان، ملان، بگاڑی زیلگ اور باگ فوجی بربریت سے دوچار ہیں۔ جاری آپریشن اور بربریت کی وجہ سے نظام زندگی معطل ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نام و نشان نہیں، گھروں اور دکانوں سے راشن ختم ہوچکا ہے، فوجی تشدد سے زخمی تڑپ رہے ہیں۔ دوسری طرف آپریشن میں مزید شدت لائی جارہی ہے مزید تازہ دم فوجی دستے علاقے میں پہنچ رہے۔ علاقے میں ایسی ناکہ بندی ہے کہ چار دنوں سے اب تک کوئی ایک شخص نہ جھاؤ میں داخل ہوسکا ہے اور نہ ہی باہر نکلا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جھاؤ میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔ آمد و رفت کے تمام راستے بند کرکے قابض فوج علاقے میں وحشت کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنے بڑے علاقے کے تمام لوگوں کو بیک وقت حراست میں لے کر کیمپوں میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ لوگوں کو مال مویشیوں کی طرح ٹرکوں میں بھر کر فوجی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ان پر دن رات تشدد کیا جا رہا ہے۔ انسانیت سوز تشدد کے بعد قریب المرگ لوگوں کو کیمپوں سے رہا کیا جارہا ہے تاکہ نئے لوگوں کے لئے جگہ اور افرادی قوت کی کمی نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ غیر اعلانیہ کرفیو اور جاری وحشت ناک بربریت کی وجہ سے زخمیوں کو گھروں ہی میں دیسی طبی امداد دی جارہی ہے۔ آج بگاڑی زیلگ سمیت مختلف علاقوں کے جن جن افراد کو زخمی حالت میں رہا کیا گیا، ان میں محمد حسن ولد شیر محمد، امتیاز ولد عید محمد، صوالی ولد خیربخش، عبدالقدیر ولد ولیداد، شکیل احمد ولد دلمراد، جمعہ ولد دلمراد، سبزل ولد روزی، محمد حیات ولد نیک محمد ابھی تک بے ہوش ہیں۔ ان کے علاوہ اس وقت سینکڑوں لوگ کیمپوں میں تشدد سہہ رہے ہیں۔ بے شمار لوگوں کے پاؤں توڑ دیئے گئے ہیں۔ سروں پر گہری چوٹ ہیں۔ اگر علاج کے لئے راستے نہیں کھولے گئے تو متعدد لوگ شہید ہوسکتے ہیں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا پاکستان کی بربریت کا حالیہ لہر بلوچ قوم کو اجتماعی سز ا کا نشانہ بنانے کی بھیانک پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ریاستی دہشت گردی سے بلوچ قوم کو اپنی قومی تحریک کی حمایت اور شمولیت سے روک سکے گا لیکن حق و باطل کے درمیان جنگوں کی تاریخ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ قوموں کو عسکری بربریت سے نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھکایا جاسکتا ہے۔