جنیوا میں بی این ایم کا مظاہرہ، اقوام متحدہ میں یاد داشت پیش

113

بلوچ نیشنل موومنٹ کینجانب سے ہیومین رائٹس کونسل اجلاس کے دوران مظاہرہ کیا گیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو یاد داشت پیش کی گئی۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بروکن چیئر کے قریب اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے بیالیسویں اجلاس کے موقع پر ایک احتجاجی مظاہرے کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک دستاویزی یاد داشت پیش کی گئی جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق بالخصوص لاپتہ افراد کے سنگین انسانی بحران کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس مظاہرے میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے علاوہ پشتون اور سندھی رہنماؤں نے شرکت کی۔

مظاہرے کی انتظام بی این ایم ڈائسپورہ کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر نسیم بلوچ کے سپرد تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بی این ایم تین دہائیوں سے بلوچ قومی آزادی کی جد و جہد میں بر سر پیکار ہے۔ یہ پہلی دفعہ بھی نہیں کہ ہم یہاں اکھٹے ہوئے ہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی ہم نے کئی دفعہ یہاں آکر اپنی آواز اقوام متحدہ کے اختیار داروں اور عالمی ایوانوں میں پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

ورلڈسندھی کانگریس کے رہنما ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”آج یہاں محکوم بلوچ، سندھی اور پختون ایک امید لے کر اکھٹے ہوئے ہیں کہ گزشتہ ستر سال سے بلوچ، سندھی اور پشتون ایک آگ میں جل رہے ہیں۔ پاکستان نے یہاں بے شمار جنگی جرائم کئے ہیں۔ پاکستان نے ہزاروں معصوموں کی لہو بہائی ہے اور آج تک بہارہا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف بلوچ اور سندھیوں کو غلام بنایا ہے بلکہ اس نے پوری دنیا میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔

ڈاکٹر لکھو لوہانہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ہندوستان پاکستان (کی دہشت گردی) سے محفوظ ہے، کیا ایران محفوظ ہے کیا افغانستان محفوظ ہے کیا پوری دنیا پاکستان کی دہشت گردی سے محفوظ ہے تو جواب ہے ”نہیں“۔ بلوچ سرزمین، سندھی سرزمین اور پختون سرزمین کی آزادی میں دیر ہوسکتی ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔

انٹرنیشنل فرینڈز آف سندھ کے سربراہ سلیم ثنائی نے کہا پاکستان اور اس کی فوج نے ستر سال سے کشمیر کے ڈرامے پر تجارت کی ہے۔ دہشت گردی پالی ہے۔ حافظ سعید جیسے پیدا کئے اور پالے ہیں۔ آج سندھ کا میامٹو حافظ سعید ہے جو سول ڈریس میں فوجی جنرل ہے۔ ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ سندھ کے حافظ سعید یعنی میامٹھو کو گرفتار کرکے اس پر انسانی بحران کا مقدمہ چلائے۔

سلیم ثنائی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ہم سندھی بلوچستان کی آزادی تک اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بلوچوں کے ساتھ صدیوں پرانے تاریخی اور فطری رشتے ہیں۔ بلوچستان کی آزادی سندھ کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ آج ہم یہاں بلوچ بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں جن پر انگریزوں کی ناجائز تخلیق پاکستان اپنے قیام کے چند مہینے کے بعد قابض ہے۔ اس قبضے کے دن سے آج تک بلوچ اپنی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں۔ بلوچ بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر یہاں (یورپ) تک لڑرہے ہیں۔ ہم یہاں اکھٹے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کو بتا دیں کہ انگریزوں کا ستر سال پہلے کیا ہوئے گناہ کی سزا لاکھوں انسان بلوچستان، پشتونستان اور سندھودیش میں بھگت رہے ہیں۔ اس کی مثال بلوچستان میں، پشتونستان اورسندھودیش میں بمباری کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ہماری عزتیں محفوط نہیں۔ پاکستان سندھ میں کشمیر کا انتقام سندھیوں سے لے رہاہے۔ سندھی سرزمین کے اصل مالک ہندوؤں پر مظالم کرکے ان کے مندروں کو جلایاجارہاہے۔ انہیں (ہندو عورتوں کو) زبردستی مسلمان کراکے ان کی شادیاں کرائی جارہی ہیں۔ گھوٹکی دو دن سے کربلا کا میدان ہے۔ سندھ سندھی ہندوؤں کے لئے جہنم بنایا جاچکا ہے۔ ہم یہاں اس لئے جمع ہوئے کہ مہذب دنیا اور اقوام متحدہ سے ان مظالم کے خلاف نوٹس لینے کی اپیل کریں اور ہم ہمارے تاریخی پڑوسی ملک ہندوستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہند کا ترانہ سندھ کے لفظ کے بغیر مکمل نہیں ہے۔ سندھی ہندو سندھ کا مالک ہیں۔ ان کی مالکی ہندوستان پر فرض بھی ہے اور سندھ کا تاریخی قرض بھی۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا ہے ہندوستان نے کشمیر پر کبھی بمباری کی ہے۔ میں ہندوستان کی جانب سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے ہندوستانی سرکار کی موقف کو سلام پیش کرتا ہوں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابقہ چیئر پرسن بانک کریمہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لئے سال میں دو دفعہ یہاں ضرور جمع ہوتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا اور ہمیں یہاں آکر انہیں یاد دلانے کی ضرورت نہ پڑتی، مگر ہم سندھی، بلوچ، پختون اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے یہاں کھڑے ہیں جن پر سوالیہ نشان ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

کریمہ بلوچ نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ اقوام متحدہ بلوچوں کی طرح پاکستان کے کسی ٹارچر سیل میں لاپتہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ شاید ہماری آواز سن سکے کیونکہ بلوچستان، سندھ اور پشتونستان میں انسانیت کے خلاف جو جنگی جرائم ہورہے ہیں وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں ہورہے ہیں۔ اس پر اقوام متحدہ کی خاموشی یقینا ایک سوالیہ نشان ہوگی۔

پی ٹی ایم کے رہنما رؤفی خان نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج پشتون ہو، سندھی ہو یا بلوچ ہم سب ایک ہیں۔ پاکستان کی آرمی ہم پر ظلم و تشدد کررہی ہے۔ ہمارے ہزاروں بلوچ نوجوان، ہزاروں پشتون نوجوان، ہزاروں سندھی نوجوان لاپتہ ہیں۔ آج ہم بلوچوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتون، بلوچ اور سندھی کا دشمن ایک ہی ہے اور ہم مل کر اس دشمن کے خلاف لڑیں گے۔ جو لوگ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم کی بات کرتے ہیں تو میں انہیں وزیرستان دکھاتا ہوں۔ آج خڑکمر میں دو مہینے سے کرفیو ہے۔ وہاں لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستانی فوج کی دہشت گردی سے ہم سب واقف ہیں۔ پاکستان نازی ہٹلر سے بدترین ظلم کررہا ہے۔ میں بلوچ بھائی بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس جنگ میں اکیلے نہیں ہیں۔ ہم پشتون، سندھی اور بلوچوں کا ایک ہی مقصد ہے اور ہم اپنی آزادی تک قربانی دیتے رہیں گے۔ ایک دن ہم اپنی آزادی لے کے رہیں گے۔

مظاہرے کے آخر میں بی این ایم ڈائسپورہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر نسیم بلوچ نے تمام شرکاء، صحافیوں، فوٹو گرافروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ مظاہرہ اقوام متحدہ سے بلوچستان، سندھودیش اور پختونستان میں انسانیت کے خلاف پاکستان کے جنگی جرائم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔