جنیوا: بی ایچ آر سی کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سیمینار کا انعقاد

54

سیمینار میں بی ایچ آر سی کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

بلوچ ہیومن رائٹس کونسل نے بروکن چیئر جنیوا میں “70 سالہ محکومی؛ بلوچستان میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک مقدمہ” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا، بی ایچ آر سی کے قمبر مالک بلوچ نے سیمینار کی نظامت کی جبکہ بی ایچ آر سی کے نائب صدر حسن ہمدم نے پورے سیشن کی صدارت کی۔

مقررین میں نمایاں Unrepresented Nations and Peoples organizations (یو این پی او) کے سکریٹری جنرل رالف بنچ، ورلڈ سندھی کانگریس کے نائب صدر ڈاکٹر ہدایت بھٹو، انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان اسٹڈیز واشنگٹن ڈی کے صدر سنگے ایچ سیرنگ، امریکہ میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما نبی بخش بلوچ، بی ایچ آر سی-یو ایس کے آرگنائزر رزاق بلوچ اور یوکے پی این پی کے چیئرمین شوکت کشمیری تھے- قمبر مالک بلوچ نے اپنے ابتدائی ریمارکس میں سیکورٹی فورسز کی کچھ حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا جسے پاکستانی حکام بلوچستان میں بلوچ قومی تحریک کے خاتمے کے لیے استعمال عمل میں لاتے رہے ہیں اور جس کے نتیجے میں ماورائے عدالت قتل اور بلوچستان سے ہزاروں افراد کو لاپتہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا بعض اوقات زیادہ تر قلم بند مقدمات میں سیکورٹی اہلکار دن کی روشنی میں مصروف عوامی علاقوں میں متعدد گواہوں کی موجودگی میں کھل کر بغیر کسی تشویش کے یہ جرم کرتے رہے ہیں- موجودہ تصادم کے آغاز سے ہی سیکیورٹی اداروں اور ان کے پراکسی ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے متعدد مصنفین، گلوکار اور شاعر و ادیب ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنائے گئے۔

انہوں نے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2006 میں 80 سال کے نواب نواب اکبر بگٹی، جو بگٹی قبیلے کے سردار تھے، کو اپنے 38 ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔ تعاقبی کارروائیوں میں 2006 اور 2007 کے دوران فوج یا اس کے ڈیتھ اسکواڈ گروپوں نے بگٹی قبیلے کے 349 افراد کو ہلاک کیا۔ 2008 میں ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق اور اس وقت کے وزیر داخلہ پاکستان رحمان ملک کے ذریعے تصدیق شدہ لاپتہ ہونے والوں کی فہرست میں کم از کم 1،100 افراد شامل تھے۔ بلوچ ذرائع کے مطابق سن 2008 کے دوران 1635 بلوچ کارکنوں کو یا تو سیکیورٹی فورسز، انٹیلیجنس ایجنسیوں یا ان کے پراکسی ملیشیاؤں اور ڈیتھ اسکواڈوں نے ہلاک کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2009 میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کی شائع کردہ ایک ڈوزیئر نے دعویٰ کیا تھا کہ 9000 افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جارہا ہے۔ 2009 کے دوران 1104 افراد ہلاک ہوئے جن میں مشہور سیاسی شخصیات اور دانشور شخصیات شامل تھیں۔ 22 فروری 2009 کو ممتاز دانشور، مصنف اور بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین میر جان محمد دشتی کی زندگی پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی۔ 9 اپریل 2009 کو سیکیورٹی ایجنسیوں نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے صدر غلام محمد بلوچ، نائب صدر لالہ منیر بلوچ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) کے جوائنٹ سکریٹری کو سیکیورٹی ایجنسیوں نے تربت شہر سے اٹھایا بع میں ان کو شہید کیا گیا اور مبینہ طور پر ان کی لاشیں ہیلی کاپٹروں سے پھینک دی گئیں۔

انہوں نے مزید اعداد شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 14 جولائی 2010 کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سکریٹری حبیب جالب کو ریاست کے ایک ڈیتھ اسکواڈ نے قتل کردیا۔ یکم جون 2011 کو ممتاز ادیب شخصیت پروفیسر صبا دشتیاری کو ڈیتھ اسکواڈ میں سے ایک نے قتل کردیا۔ 27 اپریل 2016 کو حکومت بلوچستان میں وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے 12234 افراد کو گرفتار کیا اور 334 کو ہلاک کیا۔ 30 اگست 2016 کو ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے جنوری اور اگست کے درمیان 549 افراد کو اغوا کیا ہے۔ ان افراد کی اکثریت کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ 2017 میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالمنان کو اپنے چار دوستوں کے ہمراہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں تحویل میں لیا گیا تھا اور چند گھنٹوں کے بعد ان کی لاشیں تشدد اور گولیوں کے زخموں کے ساتھ پائی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سردار بختیار ڈومکی کی اہلیہ، جو ریپبلکن پارٹی کے رہنما میر براہمداغ بگٹی کی بہن بھی تھیں، کو 2012 میں ملٹری انٹیلیجنس نے ان کی نوعمر بیٹی کے ساتھ قتل کردیا۔ ڈاکٹر اللہ نذر جو بلوچ قومی مزاحمت کے ممتاز رہنما ہے، کے کنبے کے افراد کو حالیہ برسوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے ان کا قتل کیا۔ بی این ایم کے سیکرٹری اطلاعات کے مطابق صرف اگست 2016 کے مہینے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ذریعے بلوچ کارکنوں کی 157 مسخ شدہ لاشیں پھینک دی گئیں۔ 2019 کے پہلے نصف حصے کے دوران 97 افراد کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف مقامات پر پھینک دی۔

واضح جنیوا میں  یو این ہیومن رائٹس کونسل کی 42 ویں سیشن کے موقع پر بلوچستان کے حوالے بی ایچ آر سی اور دیگر تنظیمیں پروگرام منعقد کررہے ہیں جبکہ اس موقعے آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہے۔