جنیوا : بلوچ وائس ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ

59

بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے آگاہی دینے کےلیے جنیوا میں مظاہرہ ۔

 ٹی بی پی رپورٹر کے مطابق سترہ ستمبر کو جنیوا بروکن چئیر کے سامنے بلوچ وائس ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک مظاہرہ کیا گیا جس میں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بلوچ خواتین کی عصمت دری کی شدید مذمت کی گئی۔

بلوچ وائس ایسوسی ایشن کے صدر منیر مینگل نے مظاہرے میں شریک پشتون، سندھی، اور کشمیریوں سمیت یورپی لوگوں سے کہا کہ گذشتہ ہفتے سے جھاؤ میں پاکستانی فوج لوگوں کو بدترین اجتماعی سز ا کا نشانہ بنا رہا ہے۔

گذشتہ چار روز سے جاری آپریشن کی حالیہ لہر میں اب تک سینکڑوں لوگ حراست بعد فوجی کیمپوں اور ٹارچر سیلوں میں منتقل کئے جاچکے ہیں جہاں ان پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے،اب تک جتنے لوگ رہائی پاچکے ہیں ان میں اکثریت کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان آرمی کی بربریت کا حالیہ لہر بلوچ قوم کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنانے کی بھیانک پالیسی کا حصہ ہے، پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ ریاستی دہشت گردی سے بلوچ قوم کو اپنی قومی تحریک کی حمایت اور شمولیت سے روک سکے گا لیکن حق و باطل کے درمیان جنگوں کی تاریخ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ قوموں کو عسکری بربریت سے نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی جھکایا جاسکتا ہے۔

مظاہرے میں موجود بلوچ سیاسی کارکن عبدالواجد بلوچ نے کہا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی شیطانیت و فرعونیت سے بلوچ قوم ایک بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ  میں گذشتہ ہفتے پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی منافقت بھری تقریر سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ وہ بلوچستان، گلگت بلتستان پختونخوا سندھ میں بلوچ، سندھی پشتون اور کشمیریوں کی نسل کشی کرکے انجان بن کر ہندوستان کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ گذشتہ بھتر سالوں سے پاکستان نے ان مظلوم اقوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان میں تمام مظلوم اقوام سے مل کر پاکستانی بربریت کو آشکار کریں۔

مظاہرے میں پشتون لیڈر پیر ریاض، سندھی لیڈر میر سلیم ثنائی،جرمن وکیل انسانی حقوق کے کارکن کلاؤڈیا وائڈلش،مہاجر کارکن عارف اجاکیہ، یو کے پی این پی کے جمیل مقصود نے بھی خطاب کیا۔

بلوچ وائس ایسوسی ایشن کے صدر منیر مینگل نے آخر میں کہا کہ وقت کا یہی تقاضا ہے کہ یو این او سمیت دنیا کے تمام مہذب اداروں میں ہمیں بلوچ قوم کا آواز پہچانا ہوگا تاکہ اس خطے میں مظلوم اقوام انسانی بحران سے بچ سکے۔