بھارت کو پتہ ہونا چاہیے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی – پاکستان آرمی

232

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خطے میں نئی جنگ کے بیج بو رہا ہے۔

جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

بھارتی حکومت کے حوالے سے  انہوں کہ بھارت کے اندر آر ایس ایس نظریہ ہے جس نے گاندھی کو قتل اور اسی نظریے نے بابری مسجد کو شہید کیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت چاہتا ہے کہ ابھی وہ کوئی ایسا کام کر دے جس کا پاکستان جواب نہ دے سکے۔ بھارت کو پتہ ہونا چاہیے کہ جنگ صرف ہتھیاروں اورمعیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جس کے خطے کے بڑے پلیئرز کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے شمال میں دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین ہے، جس کے بھارت کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے مغرب میں افغانستان ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا مرکز رہا ہے جبکہ جنوب مغرب میں ایران موجود ہے جس سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ماحول کی وجہ سے اس ملک کو مسائل درپیش ہیں۔

بھارت کی بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور انہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔

 فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے اور دنیا اس معاملے کو اپنے سامنے رکھ رہی ہے۔

آرمی چیف کی توسیع پر ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کبھی توسیع نہیں چاہتے تھے۔ جو سیکیورٹی کی صورتحال ایسی تھی جس کے پیش نظر یہ فیصلہ وزیراعظم کا استحقاق تھا۔