امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 8 – مشتاق علی شان

88

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 8
مصنف: مشتاق علی شان

PAIGC بندوق بدست – آخری حصہ

1967تکPAIGC کے تمام گوریلے عوامی انقلابی فوج کا حصہ بن چکے تھے جن کی قیادت سوویت یونین کی ریڈ آرمی اور کیوبن مجاہدین کے تربیت یافتہ افسران کر رہے تھے۔ ملک کا بڑا حصہ آزاد ہو چکا تھا جبکہ باقی جگہوں پر پرتگیزی افواج ان کی زد پر تھی۔ گنی بساؤ میں اس سال عوامی انقلابی فوج نے پرتگیزی فوجی بیرکوں پر 147 حملے کیے جن میں ایک انقلابی کی شہادت کے بدلے دس پرتگیزی فوجی جہنم رسید کیے گئے۔ اتنے بڑے جانی نقصان نے پرتگیزی راج کی حالت پتلی کر دی۔ پرتگیزی قابض علاقوں میں نظم ونسق کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ہر شے گوریلوں کے نشانے پر تھی اور پرتگیزی حکام میں سخت سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی اس پر طرفہ تماشا کہ آزاد علاقوں میں PAIGC نے نہ صرف زبردست انتظام سنبھالا ہوا تھا بلکہ یہاں چھوٹی موٹی صنعتیں بھی قائم کی جا چکی تھیں، ایک موثر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے متعدد اسکول بنائے جا چکے تھے پرتگیزی اپنے پانچ سو سال میں صرف 11 اسکول بنا سکے تھے وہ بھی سفید فام آباد کاروں کے لیے لیکن اپنی دس سالہ جدوجہد کے دوران PAIGC نے آزاد علاقوں میں 550 کے قریب اسکول بنائے اور چار بڑے اسپتال بنائے گوریلا جنگ کے دوران گشتی اسپتالوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی جو جنگ کے دوران فوری طور پر زخمیوں اور بیماروں کا علاج کرتے تھے۔ رہائش، روڈ راستوں کا معقول بندوبست کیا گیا تھا، یعنی گنی بساؤ کے اس آزاد علاقے میں ایک نئی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی وجود میں آ چکی تھی۔ 1972میں مسلح جدوجہد کے دس سال پورے ہونے پر کیبرال نے اس صورتحال کو ان لفظوں میں بیان کیا کہ ”دس سالہ مسلح جدوجہد کے دوران عظیم کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت مادرِ وطن کا 75فیصد حصہ آزاد کرا لیا گیا ہے جہاں موثر اور ٹھوس انتظامات کیے گئے ہیں اور اس علاقے میں عوام کی ایک مضبوط اور توانا سیاسی تنظیم موجود ہے۔ انتظامیہ کا ایک عوامی ڈھانچہ تشکیل پاچکا ہے اور ایک عدالتی نظام قائم ہے۔ عوام کی محنت کے استحصال سے جدا اور آزاد ایک نئی معیشت وجود میں آ چکی ہے اور صحت، صفائی اور تعلیم وغیرہ کی سماجی اور ثقافتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ادارے موجود ہیں۔ عوامی سپوتوں پر مشتمل ایک فوجی تنظیم ہے، قومی فوج جس کی ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی سامراجی سپاہی ہوں ان پر حملہ کرے۔“ہماری جدوجہد کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہے کہ ہم نہایت کٹھن اور دشوار حالات میں پرتگیزی افواج کے خلاف فتح مند ہوئے ہیں بلکہ ہماری بڑی کامیابی یہ ہے کہ لڑائی کے دوران ہی ہم نے آزاد علاقوں میں ایک نئی سیاسی، سماجی اور ثقافتی بنیاد رکھنا شروع کی۔“

کامریڈ امیلکارکیبرال مزید کہتے ہیں کہ ”ہمارا سر فخر سے بلند ہے کہ ہم اپنی قومی بیداری اور اتحاد کی بنیاد پر یہ سب کچھ کرسکے۔ ہمیں اس بیداری اور اتحاد پر فخر ہے جسے کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکتا کہ ہم جنگ کی بھٹی سے فولاد بن کر نکلے ہیں۔ ہمیں فخر ہے اپنے مختلف ثقافتی اور نسلی گروہوں کی ہم آہنگی، ترقی اور باہمی بقا پر، اپنے اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر اداروں پر پرتگیزی سامراجیوں کے بموں، آتش و آہن کی بارشوں اور دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں کے باوجود بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ہمیں فخرہے اپنی عوامی منڈیوں پر جو عوام کی ضروریات بخوبی پوری کر رہی ہیں اور اپنی زرعی پیداوار پر بھی جو خوب سے خوب تر ہوئی ہے۔ ہمیں فخر ہے اپنے بچوں اور عورتوں کے وقار، حسن، امنگ اور جذبے پر کہ عورتیں ہی ہماری آبادی کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا حصہ ہیں۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اب بالغ افراد کو پڑھنا لکھنا سکھا دیا گیا ہے اور دیہاتوں کے وہ لوگ جنھیں ہمیشہ ادویات اور اسپتالوں سے دور رکھا گیا تھا انھیں اب یہ ساری سہولیات حاصل ہیں۔ بالائی اوردرمیانی سطح کے 497 حکومتی ملازمین تربیت حاصل کرچکے ہیں اور دوست ممالک کے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں ہمارے 495 نوجوان زیر تعلیم ہیں جبکہ 15156 پرائمری اسکولوں اور رہائشی و نیم رہائشی ہائی اسکولوں میں 251 اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ عوام کی ایک مکمل ریاست ہے جو پارٹی کی راہنمائی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط اور توانا ہوتی جا رہی ہے۔“

PAIGC کی ان شاندار کامیابیوں میں سوویت یونین اور کیوبا کا بہت بڑا حصہ تھا جنھوں نے نہ صرف انھیں ہتھیار اور تربیت دی بلکہ صحت اور تعلیم سے لے کر دیگر اقدامات تک میں بھی خوب مدد کی۔ PAIGC سوئیڈن کی حکومت کے ساتھ بھی ان علاقوں میں ایک جامع تعاون پر پروگرام کا آغاز کرنے والی پہلی افریقی جماعت تھی۔ اس ساری صورتحال نے پرتگیزیوں کو انتہائی خوفزدہ کر کے رکھ دیا وہ نہ تو عوام سے گوریلوں کے روابط ختم کرنے میں کامیاب ہو سکے تھے اور نہ ہی گوریلوں کے خلاف کسی کارروائی میں انھیں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی تھی بلکہ حالت یہ ہو گئی تھی کہ پرتگیزی سپاہی اب زمینی جنگ کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔

1968میں گنی بساؤ میں نئے پرتگیزی گورنر اسپینولا نے ایک طرف تو اپنے زیر قبضہ علاقے میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکولوں، اسپتالوں، ٹیلی کمیونکیشن اور روڈ راستے بنانے کے لیے ایک مہم شروع کی مگر ظاہر ہے کہ اب اس کا وقت گزر چکا تھا۔ دوسری طرف زمینی جنگوں میں پے درپے شکستوں کے بعد افواج کا مورال بلند کرنے اور انھیں گوریلوں کے ہاتھوں عبرت کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیےPAIGC کے زیر کنٹرول علاقوں پر بڑے پیمانے پر فضائیہ کو استعمال کرنے کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں دنیا بھر کے سامراجیوں کے منہ بولے باپ یعنی امریکی سامراج نے پرتگیزیوں کو نہ صرف بے پناہ فضائی قوت فراہم کی بلکہ پرتگیزیوں کو اس کی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماہرین بھی گنی بساؤ روانہ کر دیے۔ لیکن امریکی سامراج سے خیرات میں ملنے والے نیپام بم اور جراثیمی، زہریے و دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بھی عوامی انقلابی فوج کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔امریکی سامراج کی سرپرستی میں پرتگیزی وہ سارے حربے گنی بساؤ کے عوام پر آزماتے رہے جو ان کا گرو گھنٹال ویتنام میں آزادی کے پروانوں کے خلاف استعمال کر رہا تھا۔ مگر یہاں بھی اسے منہ توڑ جواب دینے کے لیے PAIGC کے شانہ بشانہ عظیم سوویت یونین موجود تھا۔سوویت یونین اور کیوبا سے ایک بار پھر جدید ترین ہتھیاروں سے لدے ہوئے جہاز گنی بساؤ کے حریت پسندوں کے لیے پہنچنا شروع ہوگئے۔ جنگ اپنے زوروں پر تھی جس میں سامراجیوں کی بری طرح پٹائی ہو رہی تھی کہ یہ ہالی وڈ کے فلموں کا میدان نہیں بلکہ قومی آزادی اور انقلاب کی رزم گاہ تھی جو کامریڈ امیلکار کیبرال کے رجز ناموں سے گونج رہی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انگولا، موزمبیق اور دیگر مقامات پر بھی انقلابی پرتگیزی استعمار کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے ہوئے اس کے کس بل نکال رہے تھے اور ان گوریلا تنظیموں کا آپس میں مضبوط رابطہ اور تعلقات تھے جو ان سامراجیوں کے لیے کسی مصیبت سے کم نہ تھے۔

1970تک ملک کا 70 فیصد حصہ پرتگیزیوں سے آزاد کرایا جا چکا تھا اور باقی ماندہ علاقے بالخصوص شہروں کا گھیراؤ کیا جا چکا تھا جو گوریلا حملوں کی زد پر تھے۔ اگلے دو برسوں میں آزاد علاقہ گنی بساؤ کے 80فیصد علاقے پر مشتمل تھا جس نے ایک خود مختار انقلابی ریاست کی شکل اختیار کر لی تھی جہاں حالتِ جنگ میں ہونے کے باوجود انتخابات کے ذریعے ایک قومی اسمبلی بھی وجود میں آ چکی تھی۔ یہ انتخابات دشمن کے زیر تسلط علاقے میں بھی خفیہ طور پر کرائے گئے جس کے باعث اس میں صرف وہاں موجود پارٹی کی کمیٹیاں ہی حصہ لے سکیں۔ آزاد علاقے کی انتظامیہ کی دعوت پر اقوامِ متحدہ کے ایک وفد نے 1972 میں ان علاقوں کا دورہ کر کے اس امرکی تصدیق کی کہPAIGC گنی بساؤ کے 80 فیصد علاقے کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔ اس زمانے میں پرتگیزیوں کے کنٹرول میں بساؤ، بفاتا اور پلاما شہروں کے علاوہ کچھ فوجی اڈے ہی باقی تھے۔

یوں امریکی سامراج کی بھرپور مدد کے باوجود بھی پرتگیزی گنی بساؤ کے انقلاب کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انھوں نے اپنی پوری قوت اس جنگ میں جھونک دی تھی جس کے نتائج ان کے حق میں نہیں تھے۔ جہاں تک امریکی سامراج کا گنی بساؤ کے معاملے میں پرتگال کی بے پناہ مدد کرنے کا تعلق ہے تو یہ سب امریکا نے خطے میں اپنے مفادات اور سرد جنگ کے تناظر میں کیا تھا۔ امریکی سامراج بخوبی جانتا تھا کہ گنی بساؤ افریقہ میں ایک ویتنام بنتا جا رہا ہے جس کی نظریاتی قیادت پورے افریقہ کو متاثر کر رہی ہے جس کا مطلب سامراج کی موت قومی آزادی اور سوشلزم ہے۔ بحیرہ اقیانوس کے ساحل پر واقع گنی بساؤ اور جزائر کیپ وردے سفید سامراج کے اس نئے نمائندے کے خطے میں استعماری جنگی مقاصد کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ امریکا کو گنی بساؤ سے زیادہ انگولا اور موزمبیق میں اپنے مفادات کی پڑی ہوئی تھی بالخصوص انگولا کے تیل کے ذخائر اور دیگر وسائل کی جسے وہ ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔ ان پرتگیزی نوآبادیات میں بھی کمیونسٹ ہی مسلح جدوجہد کر رہے تھے اور گنی بساؤ کا انقلاب ان کی آزادی اور انقلاب کو مہمیز کر دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گنی بساؤ کی آزادی کے بعد امریکی سامراج نے انگولا میں ”یونیٹا“ اور موزمبیق میں ”رینامو“ نامی فاشسٹ مسلح تنظیموں کے ذریعے برسوں خانہ جنگی اور قتل وغارت گری مسلط رکھی مگر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ گنی بساؤ کے انقلاب کو بھی ایک سازش کے ذریعے ہی ناکام بنایا گیا جس کا ہم آگے ذکر کریں گے ۔

دوسری اہم بات یہ تھی کہ پرتگیزی استعمار جو کسی زمانے میں سفید سامراج کا ہر اول دستہ ہوا کرتا تھا صنعتی ترقی میں دیگر یورپی ممالک سے پیچھے رہ جانے کے باعث اور بعد کی ابھرتی ہوئی یورپی سامراجی طاقتوں ہالینڈ و برطانیہ سے ہارنے کے بعد خود انتہائی پسماندہ تھا جہاں نہ تو کوئی خاص صنعتیں تھیں اور نہ ہی وہ کسی خاص میدان میں ترقی کر پایا تھا۔ پرتگال کی اس صورتحال پر کیبرال نے یوں طنز کیا تھا کہ ”یہ تو کھلونا بندوقیں بھی نہیں بنا سکتا“۔ فاشسٹ آمریت کے زمانے میں تو اس کی اپنی 40 فیصد آبادی ناخواندہ تھی ۔ لہٰذا پرتگال پہلے تو برطانوی سامراج کے عروج کے زمانے میں اس کا دم چھلا بنا رہا بعد میں جب اس کی جگہ امریکی سامراج نے لے لی تو پرتگال نے اس کے چرنوں میں سر رکھنے میں دیر نہیں کی۔ لہٰذا پرتگال کی افریقی نو آبادیات میں آزادی کے تحریکوں کے آغاز سے قبل یہاں 60 فیصد سرمایہ کاری امریکا نے ہی کی تھی اور یہاں سے تقریباََ اتنی فیصد برآمدات امریکا ہی جاتی تھی۔ 1970 تک جب گوریلا جنگوں نے اس کی حالت خراب کر دی تو اس کے لیے ان نوآبادیات میں اپنی ایک لاکھ پچھتر ہزار فوج رکھنا بھی مشکل ہو گیا تھا تب امریکا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اسے بھاری قرضے ملے اور اس کے علاوہ مفت فوجی تربیت کے ساتھ ساتھ پانچ تباہ کن بحری جہاز اور بہت سا جنگی ساز و سامان بھی ملا۔ نیٹو کے جنگی معاہدے کا رکن ہونے کے ناتے بھی پرتگال نے خوب امداد سمیٹی مگر شکست اس کا مقدر تھی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔