امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 6 – مشتاق علی شان

42

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 6
مصنف: مشتاق علی شان

PAIGC بندوق بدست – حصہ اول

مسلح جدوجہد کا فیصلہ کرنے کے بعد PAIGC کی قیادت نے تنظیم کا مرکز شہروں سے دیہی علاقوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا کہ گوریلا جنگ کے اصولوں کے مطابق دیہی علاقوں سے ہی اس کی ابتدا کی جاتی ہے۔ کیبرال ایک دور اندیش راہنما تھے جنھوں نے گوریلا جنگ کے امکانات بہت پہلے ہی بھانپ لیے تھے لہٰذا جب مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا تو اس موقع پر دیہی علاقوں میں ان کے کیے گئے کام نے ان کو ضروری بنیادیں فراہم کیں۔ گنی بساؤ میں مسلح جدوجہد شروع کرنے سے قبل کیبرال وہاں کے تقریباََ تمام قبائلی راہنماؤں کو اعتماد میں لے چکے تھے جو ان کا بھرپور ساتھ دینے کے لیے تیار تھے۔البتہ کیبرال نے یک دم ہی مسلح جدوجہد کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس کے لیے بھی انھوں نے بھرپور تیاریاں کیں۔ پہلا مرحلہ گوریلوں کے انتخاب اور تربیت کا تھا جو دیہاتوں میں مصروف ِ کار کیڈرز نے بخوبی مکمل کیا۔

PAIGC کا تنظیمی ہیڈ کوارٹر سیکوطورے کے گنی میں تھا تو گوریلا تربیت کے لیے انھوں نے گھانا کا رخ کیا جہاں کوامے نکرومہ برسرِ اقتدار تھے۔ نکرومہ جن کی قیادت میں گھانا 1956 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والا پہلا افریقی ملک تھا۔ نکرومہ کو اگر افریقہ کا سب سے بڑا دماغ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عظیم مدبر، نظریہ دان، پان افریقن ازم کے نمائندے، استعمار کے عظیم دشمن اور افریقی آزادی پسند انقلابیوں کے مؤید جنھیں استاد کا درجہ حاصل تھا۔ شاید ہی کوئی افریقی آزادی پسند راہنما یا تحریک ہو جس نے انکرومہ سے کچھ سیکھا نہ ہو۔ گوریلا جنگ کے حوالے سے نکرومہ کی کتاب ”انقلابی مسلح جدوجہد“ کو تو افریقی گوریلا تحریکوں کی بائیبل کا درجہ حاصل تھا۔ سوشلزم کی طرف مرحلہ وار جانے والے نکرومہ نے قومی آزادی کا مرحلہ تو بخوبی طے کر لیا مگر سوشلزم کے مرحلے میں داخل ہونے سے قبل ہی 1966 میں جب وہ چین اور ویت نام کے دورے پر تھے امریکی سامراج کی ملی بھگت سے کچھ غدار فوجی جرنیلوں نے ان کا تختہ الٹ دیا۔ یہی نکرومہ PAIGC کے گوریلوں کے پہلے استاد بنے جن کی بھرپور مدد و نگرانی میں گنی بساؤ کے گوریلوں نے اپنی تربیت مکمل کی۔نکرومہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد PAIGC نے گنی میں اپنے گوریلا مراکز قائم کیے۔ اس سارے عرصے میں امیلکار کیبرال سکون سے نہیں بیٹھے رہے بلکہ ان تمام امور کے ساتھ ساتھ انھوں نے دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے راوبط استوار کیے جن کا دائرہ افریقہ، لاطینی امریکا سے لے کرسوشلسٹ ممالک تک پر محیط تھا۔ کیبرال نے امریکا کے سیاہ فام باشندوں کی تنظیموں اور یورپ کے بہت سے ممالک سے بھی تعلقات استوار کیے۔ پرتگال کے کمیونسٹ فوجی افسران اور دیگر کامریڈ بھی PAIGC کی مدد کرتے رہے۔ کیوبا اور اس کے انقلابی راہنما فیڈل کاسترو سے کیبرال کے نہایت پرجوش تعلقات تھے۔ باقی سوویت یونین کا جہاں تک تعلق ہے توگنی بساؤ کے انقلابیوں کو پہلے دن سے ہی اس کی بھرپور مدد حاصل رہی۔ کیبرال نے متعدد بار سوویت یونین کے دورے کیے افریقہ میں سوویت یونین کا جو کردار تھا اس کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے ہی مترادف ہو سکتا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی واقع سوویت یونین سوویت یونین ہی تھا۔ دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوم اقوام کا مخلص و بے غرض دوست اور شفیق استاد جس نے ان سے کبھی کچھ نہیں لیا بلکہ اپنی پیداوار کا بڑا حصہ ان کی مدد پر خرچ کیا جس کے باعث ان کی آزادی ممکن ہو سکی۔

صرف یہی نہیں بلکہ 18 اپریل 1961 کو کیبرال کی کوششوں سے مراکش کے شہر کاسا بلانکا میں پرتگیزی سامراج کے زیر تسلط ممالک انگولا، موزمبیق، گنی بساؤ اور ساؤتوم کی قومی آزادی کی نمائندہ تنظیموں کا اجلاس ہوا جس میں انگولا سے MPLA ،موزمبیق سے فری لیمو، گنی بساؤ سے PAIGC ،ساؤتوم اور پرنسپے سے KLSTPکے انقلابی راہنماؤں نے مل کر CONCP کی بنیاد رکھی۔

یوں کیبرال کی قیادت و راہنمائی میں PAIGC کے گوریلے اس قابل ہو سکے کہ پرتگیزی استعمار پر حملہ کر سکیں۔ یہ 3 اگست 1961 کا دن تھا پرتگیزی سامراج کے ہاتھوں Pidjiguiti کے محنت کشوں کے قتل عام کو پورے دو سال ہو چکے تھے اپنے ان گنت جرائم کی طرح یہ واقعہ بھی پرتگیزیوں کے اذہان سے محو چکا تھا مگر ٹھیک اسی دن گنی بساؤ میں کئی ایک پرتگیزی فوجی اڈے اور تنصیبات دھماکوں سے گونج اُٹھے۔ یہ گنی بساؤ میں PAIGC گوریلوں کی پہلی کارروائی تھی۔ یہ اس امر کا اعلان تھا کہ گنی بساؤ کے بہادر انقلابیوں نے اپنے پچاس محنت کش ساتھیوں کا خون بھلایا نہیں تھا، اب نہ صرف ان پچاس شہیدوں بلکہ پانچ صدیوں پر محیط مظالم کے بدلے اور انتقام کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اب ہر ظلم اور وحشت کا جواب طاقت اور بندوق کے ذریعے دیا جائے گا۔ گنی بساؤ کے عوام کو غلام بنانے والے سفید سامراج کے ایوانوں میں زلزال بپا تھا کہ اب انھیں تشدد کا جواب انقلابی تشدد سے مل رہا تھا۔ اب گنی بساؤ کے سرباز فرزند بندوق بدست تھے۔ یہ بندوق نہتے اور کمزور انسانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کی علامت نہیں تھی نہ ہی یہ بندوق سامراجی لٹیروں اور سرمایہ دار طبقے کے مکروہ مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھی تھی بلکہ یہ محنت کش طبقے اور مظلوم قوم کی بندوق تھی جو نظریے کے تابع اور آزادی و انقلاب کی علامت تھی۔یہ وہی بندوق تھی جس کے بارے میں جنوبی افریقہ کی کمیونسٹ بیٹی وینی منڈیلا نے کہا تھا کہ ”سامراج صرف بندوق کی زبان ہی سمجھتا ہے“، وینی منڈیلا کا یہ قول حرف بحرف درست ثابت ہو رہا تھا اور اس کی صداقت میں آج بھی شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بندوق محض گنی بساؤ کی بندوق بھی نہیں تھی بلکہ یہ مارشل اسٹالین، ماؤزے تنگ، ہوچی منھ، جنرل جیاپ، کم ال سنگ، فیدل کاسترواورچے گویرا ایسے بے شمار کمیونسٹ مجاہدوں کی بندوق کا تسلسل تھی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔