امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 5– مشتاق علی شان

64

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 5
مصنف: مشتاق علی شان

PAIGC ,کیبرال کا رزمیہ

امیلکار کیبرال الم نصیب گنی بساؤ کے علاقے ”بافتا“ میں 12 ستمبر 1924 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد جیونل لوپیز ڈی کوسٹا کیبرال کا تعلق جزائر کیپ وردے سے تھا جو گنی بساؤ منتقل ہو گئے تھے۔ یہاں پرتگیزی استعمار نے انھیں خدمات کے عوض کافی زمین عطا کی تھی جس کے باعث ان کا شمار گنی بساؤ کے اچھے خاصے زمینداروں میں ہوتا تھا۔ چونکہ کیبرال کاوالد ایک ”سیاہ فام لاٹ صاحب“ تھا اس لیے کیبرال کا بچپن دیگر افریقی بچوں سے یکسر مختلف تھا۔ اس نے ناز ونعم میں پرورش پائی اور اسے وہ تمام سہولیات میسر تھیں جن کا اس زمانے میں غلام افریقے کے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان دنوں گنی بساؤ میں ایک بھی اسکول نہیں تھا لہٰذا اس نے ابتدائی تعلیم کیپ وردے کے شہر Liceuمیں حاصل کی۔ وفادار خاندان کا فرد ہونے کے باعث بعد ازاں انھیں پرتگال کے شہر لزبن میں واقع Instituto Superior De Agronomiaبھیج دیا گیا جہاں انھوں نے زراعت کی تعلیم حاصل کی۔ شاید پرتگیزی سمجھتے تھے کہ باپ کی طرح بیٹے کو بھی اپنے استعماری راج کو دوام بخشنے کے لیے باآسانی استعمال کیا جا سکے گا، مگر یہ ان کی خیال خامی تھی۔ کیبرال لزبن کی یونیورسٹی سے محض ایک زرعی انجینئر بن کر لوٹنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ انھیں یہاں سے ایک عظیم سامراج مخالف وطن پرست انقلابی بن کر لوٹنا تھا جنھیں نہ صرف گنی بساؤ اور جزائر کیپ وردے کی تحریک آزادی کی قیادت کرنی تھی بلکہ ان کے فکر وفلسفے سے پورے افریقہ کو متاثر ہونا تھا اور ان کی تعلیمات نے دنیا کے دیگر حصوں میں مظلوم اقوام کی جدوجہد کو جلا بخشنی تھی۔

بچپن سے ہی غور فکر کے عادی اور ایک عظیم نظریہ دان بننے کے امکانات لیے ہوئے کیبرال کے لیے لزبن یقیناََ ایک نئی دنیا تھی مگر یہ انھیں مادی لذائذ سے متمتع ہونے کی جانب کبھی راغب نہ کرسکی۔ انھوں نے غلام افریقہ کے کرب کو نہایت ہی گہرائیوں سے محسوس کیا تھا جس نے انھیں ناگزیر طور پر آزادی کا متوالا ہی بنانا تھا۔ ورنہ دیکھا جائے تو کیبرال کو ذاتی طور پر ہر سہولت حاصل تھی اور اگر وہ چاہتے تو اس میں مزید اضافہ بھی کرسکتے تھے مگر انھوں نے سفید سامراج کا سیاہ گماشتہ بننا منظور نہ کیا اور انقلاب و جدوجہد کی پر خار وادیوں میں قدم رکھنے کو ترجیح دی، بعد کے وقتوں نے کیبرال کے اس انتخاب کو بالکل درست ثابت کیا۔

اس زمانے کا لزبن کیبرال ایسے بہت سے افریقی نوآبادیات سے تعلیم کے لیے آنے والے نوجوانوں کا ٹھکانہ تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی محنت کش طبقے کے نوجوان نہیں تھے بلکہ ان کا تعلق مراعات یافتہ طبقات سے تھا، مگر جب صدیوں کی بے زبانی کو زبان ملی تو انہی نوجوانوں میں سے وہ شعلہ نفس نکلے جنھوں نے اپنے اپنے ممالک کے عوام کے سینوں میں شرارے بھر دئیے۔ وہ عظیم مبارز کہلائے اور قومی و طبقاتی جدوجہد کی تاریخ میں امر ہو گئے۔ ہاں جنھوں نے محض چند مراعات کی خاطر سامراجی طوقِ غلامی لٹکانے کو ہی زندگی سمجھا ان خائنوں کا نام ونشان تک باقی نہیں رہا اور تاریخ کی لعنت ہی ان کا مقد بنی۔ لزبن میں کیبرال کی دوستی ایسے ہی انقلابی نوجوانوں سے ہوگئی جو سامراج سے آزادی اور انقلاب کے آرزو مند تھے۔ اب یہ بھلا کیونکر ممکن ہے کہ کوئی آزادی اور انقلاب کا دلدادہ ہو اور وہ مارکس، اینگلز، لینن اور اسٹالین کے افکار سے متاثر نہ ہو جو سامراج کی موت اور انقلاب کی بنیاد ہیں۔ سو یہ نوجوان بھی اسی راہ کے راہی تھے جن میں انگولا کے عظیم کمیونسٹ گوریلا لیڈر آگستینو نیتو، ماریو دی آنداد، فرانسسکو تزئیرو بھی تھے جنھوں نے بعد ازاں MPLAجیسی گوریلا تنظیم کی بنیاد رکھتے ہوئے پرتگیزی سامراج کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور پھر امریکی سامراج اور خطے میں موجود اس کے دیگر گماشتوں کے سامنے بھی سینہ سپر ہو گئے۔ ان نوجوانوں میں موزمبیق سے تعلق رکھنے والے ایڈورڈو مونڈلین اور مارچیلینو دوسنتوس بھی تھے جن کی سعی پہیم کے نتیجے میں موزمبیق کی مشہور عالم گوریلا تنظیم ”فری لیمو“ قائم ہوئی اور اس نے قومی آزادی سے سوشلزم تک کا سفر طے کیا۔

ان تمام دوستوں کے ذہنی وفکری ارتقا اور انقلابی فکر و فلسفہ سے متاثر ہونے میں خود پرتگیزی کمیونسٹوں کا بھی بڑا کردار رہا ہے جو اپنے وطن پر مسلط سالازار کی فاشسٹ آمریت کے خلاف مصروفِ جہد تھے۔ افریقی نوآبادیات کے حوالے سے ان پرتگیزی کامریڈوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ حقیقی معنوں میں اس لیننی اصول پر عمل پیرا تھے کہ ”دنیا بھر کے محنت کشو اور مظلوم قومو ایک ہو جاؤ!“۔ ان پرتگیزی انقلابیوں نے افریقی مقبو ضات کی آزادی کی تحریکوں کی بے پناہ مدد کی اور اس سلسلے میں فاشسٹ حکومت کے لرزہ خیز مظالم برداشت کیے لیکن صرف پرتگیزی کمیونسٹوں پر ہی کیا موقوف کہ دنیا بھر کے سامراجی ممالک کے کمیونسٹوں نے ایسے ہی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ واقعی سوشلزم ایک نئے انسان کو جنم دیتا ہے۔ پرتگیزی انقلابیوں کے یہ گروپ کالج اور یونیورسٹیوں سے لے کر ملوں، کارخانوں اور فوج و پولیس تک میں موجود تھے جنھوں نے بعد میں فاشسٹ آمریت کا تختہ الٹ کر ”کورینشن انقلاب“ کی بنیاد رکھی اور افریقی نوآبادیات کی آزادی کا اعلان کیا۔ یہ اور بات کہ پرتگال کا یہ انقلاب جلد ہی سامراجی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو گیا۔

انہی انقلابیوں کے درمیان کیبرال کی تعلیم کے ساتھ ساتھ نظریاتی تربیت ہوئی۔ انقلابی نظریاتی ہتھیاروں سے لیس امیلکار کیبرال 1952میں پرتگال سے اپنی تعلیم مکمل کر کے گنی بساؤ لوٹے۔ اس وقت تک کیبرال نے اپنے سیاسی عزائم اور مقاصد عیاں نہیں کیے تھے تھے، اس کے لیے انھیں کچھ وقت اور مناسب تیاری درکار تھی۔ یہ موقع بھی پرتگیزیوں نے ہی فراہم کیا کہ وہ اس ماہرِ زراعت کے علم سے ”مستفید“ ہونا چاہتے تھے سو اس بات سے بے خبر کہ کیبرال محض ایک زرعی انجینئر ہی نہیں بلکہ ایک نئے سماج کے معمار بھی ہیں، پرتگیزی حکام نے انھیں ایک پرکشش ملازمت دے کر گنی بساؤ میں زرعی اعداد وشمار جمع کرنے پر معمور کر دیا۔

اس ملازمت کے دوران کیبرال نے گنی بساؤ کے کسانوں کے عسرت زدہ ایام کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کیا۔ اس ملازمت کے دوران کیبرال گنی بساؤ کے کونے کونے میں گئے۔ وہ بظاہر تو زرعی اعداد وشمار اکٹھا کررہے تھے مگر اپنے اصل مقصد یعنی تنظیم سازی اور اور اس کے لیے رابطوں سے بالکل بھی غافل نہ تھے۔ کیبرال بھی کیا خوب تھے کہ پرتگیزی سامراج سے تنخواہ لے کر اسی کے استعماری راج کو بیخ و بن سے ڈھانے کی تیاری کا کام کرتے رہے۔ اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انقلابی کس طرح غیر موزوں اور ناموافق حالات میں اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ کامریڈ لینن نے شاید کیبرال جیسے انقلابیوں ہی کے بارے میں کہا تھا کہ ”وقت پڑنے پر ایک انقلابی کیچڑ میں پیٹ کے بل رینگ کر بھی اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے“۔ کیبرال کی اس حکمتِ عملی اور طریقہ کار سے ان انقلابیوں کے لیے بھی بہت کچھ اخذ کرنے کا ہے جو غیر موزوں معروضی حالات اور کمزور موضوعی قوتوں کا رونا روتے ہوئے اپنی بے عملی اور سستی کے لیے جواز تلاشتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ ان انقلابیوں کو بھی آئینہ دکھاتا ہے جو ”حکمت ِ عملیوں“ کے نام پر انہی دائروں کے اسیر ہو کر رہ جاتے ہیں اور انقلابی مقصد کہیں دور رہ جاتا ہے۔ بہر حال اس وقت پرتگیزیوں کے یہ وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کایہ ”تنخواہ دار ملازم“ ان کے لیے جو ”خدمات“ سرانجام دے رہا ہے اس کے نتیجے میں ایک ایسی گوریلا تحریک جنم لے گی جو نہ صرف ان کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی بلکہ خطے کی دیگر انقلابی تحریکوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گی۔

اب کیبرال سیاسی جدوجہد کے لیے کافی حد تک تیاریاں اور رابطے استوار کر چکے تھے چنانچہ 1955 میں انھوں نے پرتگیزی استعمار کے خلاف جدوجہد کاآغاز کیا۔ اس زمانے میں گنی بساؤ میں ہر قسم کی سیاسی وسماجی آزادی عنقا تھی۔ ظاہر ہے کہ فاشسٹ پرتگیزی آمریت جس نے خود اپنے ملک میں عوام کی تمام تر آزادیاں سلب کر رکھی تھیں وہ اپنی نوآبادیات میں اس کی اجازت کیونکر دے سکتی تھی۔ سیاسی جماعتیں، ٹریڈ یونینز، جلسے جلوس یہاں تک کہ افریقیوں کو ادبی، سماجی و کھیل کود کی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اس ماحول میں جب کیبرال نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو جلد ہی انھیں نہ صرف ملازمت بلکہ گنی بساؤ سے بھی نکال دیا گیا۔ اب کیبرال نے پرتگال اور پھر انگولا کا رخ کیا جہاں ان کے لزبن کے زمانے کے کے ساتھی آگستینو نیتو اور ان کے دیگر رفقاء پرتگیزی راج کے خلاف جدوجہد کا آغاز کررہے تھے۔ پورے افریقہ کو اپنا گھر سمجھنے والے کیبرال انگولا کے انقلابیوں کے ساتھ انقلابی تنظیم بنانے میں جت گئے یوں 1956 میں تحریکِ آزادیِ انگولا (MPLA) وجود میں آئی۔ کیبرال کا شمار اس کے بانیوں میں ہوتا ہے۔
اسی سال کیبرال واپس گنی بساؤ آ گئے اور گنی بساؤ و جزائر کیپ وردے کی آزادی کے لیے تنظیم بنانے میں مصروف ہو گئے، کیبرال غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انقلابی راہنما اور نظریہ دان تھے جنھوں نے اپنے معروض کا درست تجزیہ کرتے ہوئے اس کی روشنی میں انقلابی جماعت تشکیل دینے کا آغاز کیا۔ 19ستمبر 1956 کو امیلکار کیبرال نے اپنے انقلابی، وطن پرست، سامراج مخالف اور آزادی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر (African Party For The Independence And Union Of The People Of Guinie And Cape Verde) کی بنیاد رکھی جو (PAI) کے نام سے معروف ہوئی۔ پرتگیزی استعمار کے جبر و تشدد کے نتیجے میں یہی تنظیم آگے چل کر ”افریقی تنظیمِ آزادی برائے گنی بساؤ و کیپ وردے “(African Party For The Independence Of Guinea And Cape Verde) کی صورت اختیار کر گئی اور دنیا بھر میں PAIGC کے نام سے معروف ہوئی۔
دراصل اس تنظیم کے قیام سے قبل Movemant For The National Independence Of Gunia (MING)کے نام سے پرتگیزی استعمار کے خلاف ایک تنظیم بنائی گئی تھی جس کا مقصد قومی آزادی کا حصول تھا۔مگر اپنے معروض کا درست تجزیہ اور فہم و ادراک کی کمی کے باعث یہ کوئی سیاسی کامیابی یا ہلچل پیدا کرنے میں ناکام رہی اور جلد ہی منظر عام سے غائب ہوگئی۔ گنی بساؤ کا ایک اہم مسئلہ یہاں کی قبائلی ومذہبی تقسیم بھی تھی جسے پرتگیزی استعمار نے ہمیشہ بڑھاوا دیا کہ ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ اہلِ یورپ کا پرانا آزمودہ نسخہ رہا ہے۔ گنی بساؤ کے ان قبائل میں,MANDINGA,MANJACA,FULA, BALANTA اورPAPEشامل تھے جبکہ یہاں کی نصف کے قریب آبادی مسلم تھی دوسرے نمبر پر قدیم افریقی مذہب (مظاہر پرست) کے پیرو کار تھے اور مسیحی بھی اچھی خاصی تعداد رکھتے تھے۔ لیکن گنی بساؤ میں اصل تقسیم مذہب کی بجائے قبائلی بنیادوں پر ہی تھی۔ یہ وجہ تھی یہاں کے عوام کو کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ومنظم کرنا خاصا دشوار کام تھا۔ MING کی ناکامی میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ایک یہ وجہ بھی تھی جس پر وہ قابو پانے میں ناکام رہے۔

پان افریقن ازم کے پرجوش نمائندے امیلکار کیبرال اس مسئلے کو اس لیے بھی باآسانی حل کر سکے کہ ان کا تعلق گنی بساؤ کے کسی قبیلے یا نسلی گروہ سے نہیں تھا بلکہ ان کا خاندان کیپ وردے سے یہاں آکر آباد ہوا تھا اور انھوں نے اپنے عمل سے خود کو اپنی جنم بھومی یعنی گنی بساؤ کا بیٹا ثابت کیا تھا۔ ان کی قیادت اور رہنمائی سے کسی نے اختلاف نہیں کیا اور وہ ان سارے قبائل کو متحد ومنظم کرنے میں کامیاب رہے۔ چونکہ کیبرال ”افریقہ ایک ہے“ کے نعرے پر یقین رکھتے تھے اس لیے انھوں نے گنی بساؤ اور کیپ وردے کی آزادی کے لیے مشترکہ تحریک کی بنیاد رکھی بلکہ افریقہ میں پرتگیزی نو آبادیات سے لے کردیگر قومی آزادی کی تحریکوں سے ان کے ہمیشہ پرجوش تعلقات رہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیبرال محض آزادی کے ہی ایک راہنما نہیں تھے بلکہ وہ ایک عالی دماغ انقلابی مفکر اور نظریہ دان بھی تھے جو حالات کا درست تجزیہ اور اس سے نتائج اخذ کرتے ہوئے اس کی روشنی میں ایسی حکمتِ عملی تشکیل دینے کے اہل تھے جو آخر کار قومی آزادی اور سوشلزم پر منتج ہونی تھی۔ کیبرال کا شمار افریقہ کے کوامے نکرومہ اور فرانز فینن جیسے عہد ساز انقلابی مفکرین اور نظریہ دانوں میں ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف انقلابی نظریات کا تخلیقی اطلاق کیا بلکہ حالات کے مطابق نظریات وضع بھی کیے۔ آج برسوں بعد جب ہم ان افریقی انقلابی مفکرین کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو قومی آزادی اورسوشلزم کے لیے جدوجہد کرنے والے ان راہنماؤں کے طریقہ ہائے کار اور نظریات بہت سے معاملات میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ ایک ہی منزل پر پہنچنے کے لیے انھوں نے اپنے معروض کے مطابق حکمت عملیاں ترتیب دیں اور یہی ان کی عظمت ہے۔

ہر چند کہ تنظیم کی بنیاد رکھنے سے قبل کیبرال نے گنی بساؤ کے کسانوں میں اچھا خاصا کام کیا تھا مگر تنظیم بنانے کے بعد انھوں نے دیہی علاقوں کی بجائے بساؤ شہر کو اس کا مرکز بنایا البتہ دیہی علاقوں کے کسانوں سے مضبوط تعلق اور روابط استوار رکھے۔ الجزائر کے ممتاز انقلابی نظریہ دان اور مسلح جدوجہد کے لیے کسانوں کی قوت (جنھیں وہ”نوآبادیاتی پرولتاری“ کہتے تھے) پر یقین رکھنے ولاے فرانز فینن کے برعکس کیبرال سمجھتے تھے کہ گنی بساؤ کے کسانوں کو جدوجہد میں متحرک کرنے کے لیے مزدور طبقے کا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ جبکہ وہ شہری پیٹی بورژوا طبقے کو بھی قومی آزادی کی تحریک کا اہم عنصر سمجھتے تھے۔ خود کیبرال کے الفاظ میں ”مزدور طبقہ چاہے اس کی شعوری سطح جتنی بھی ہو، نئے نو آبادیاتی دور میں قومی آزادی کی جدوجہد کے حقیقی عوامی راہنما دستے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔“ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کیبرال کسانوں کے انقلاب میں کردار سے انکار کرتے تھے بلکہ وہ انھیں (کسانوں کو) انقلابی نظریات سے لیس کرنے کے سلسلے میں پرولتاریہ اور پیٹی بورژوا طبقے کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ کیبرال پیٹی بورژوا طبقے کے متذبذب، موقعہ پرستانہ اور مصلحت آمیز رحجانات سے واقف نہ تھے بلکہ اس کا بخوبی ادراک رکھتے ہوئے وہ سمجھتے تھے کہ یہ طبقہ اپنے مفادات کو مزدور کسانوں کے مفادات سے جوڑ سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ گنی بساؤ جیسے سماج میں کیبرال کے سامنے اور کوئی متبادل بھی نہیں تھا دوسرا دنیا بھر کے انقلابات اور قومی آزادی کی تحریکوں میں پیٹی بورژوازی کا کردار بھی ان کے سامنے تھا۔سو اس حقیقت کا اظہار کیبرال نے ان الفاظ میں کیا کہ”پیٹی بورژوازی کی ناگزیر حیثیت ہمارے ہاں کی صورتحال میں قومی آزادی کی کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ “یعنی آخری نتیجے میں کیبرال محنت کش طبقے کی قیادت میں قومی آزادی اور سوشلزم کے حصول پر یقین رکھتے تھے جس کی جدوجہد میں پیٹی بورژوازی اور کسانوں کی شمولیت ناگزیر تھی۔ اس لیے ”اتحاد اور جدوجہد“ ہی PAIGCکا نعرہ ٹھہرا۔
PAIGCاپنے قیام سے ہی کوئی گوریلا تنظیم نہیں تھی بلکہ شہر میں اس کے ابتدائی مراکز قائم کرنے کا مقصد جدوجہد کے معروف سیاسی طریقوں کو بروئے کار لانا تھا۔ اس لیے PAIGCکی قیادت نے ابتدا میں محنت کشوں اور پیٹی بورژوازی کو منظم کرتے ہوئے اس امر کے لیے کوششوں کا آغاز کیا کہ کسی طرح یہاں قانونی طور پر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امیلکار کیبرال اور اس کے دیگر ساتھیوں کی کاوشوں سے گودی کے مزدوروں اور دیگر محنت کشوں کی ایک ٹریڈ یونین بھی بنائی گئی لیکن ظاہر ہے کہ اسے بھی خفیہ ہی رکھنا پڑا۔ لیکن پرتگیزی استعمار نے اس کی اجازت بالکل بھی نہ دی بلکہ اس کو دبانے کے لیے انھوں نے جبر وتشدد کے روایتی سامراجی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے۔ PAIGCپرامن طور پر سیاسی آزادی کے لیے تین سال تک جدوجہد کرتی رہی مگر اس کا بظاہر کوئی نتیجہ نہیں نکلا البتہ اس عرصے میں وہ عوام کے اندر اپنی بنیادیں گہری کرنے میں کامیاب رہی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا دائرہ کار پھیلتا چلا گیا۔ اب PAIGCکے کیڈرز نے دیہی علاقوں کا بھی رخ کر لیا تھا جہاں وہ کسانوں میں تیزی سے اپنا اثر بڑھا رہے تھے۔

فرانز فینن نے کہا تھا کہ”استعمار کی شکست ایک متشددانہ عمل ہوتا ہے“ اس لیے اپنی ممکنہ شکست کے تناظر میں پرتگیزی استعمار کے تشدد میں بھی دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 1959تک بساؤ اور دیگر شہروں میں  PAIGCبڑی تعداد میں محنت کشوں کی ہڑتالیں اور مظاہرے کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اگست 1959 میں Pigigiutiنامی شہر میں گودی کے محنت کش ہڑتال پر تھے جسے کچلنے کے لیے پرتگیزی استعمار نے بڑے پیمانے پر کاروائی کا آغاز کیا اور مسلح دستے ہڑتالی مزدوروں کو کچلنے کے لیے روانہ کر دیے۔ پرتگیزی فوج کی اس ظالمانہ کارروائی میں 50 محنت کش سفاکی سے قتل کر دئیے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر کے پرتگیزی اذیت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ Pigigiutiکے قتلِ عام کے نام سے مشہور ہوا جس نے PAIGCکے لیے معروف سیاسی طریقوں اور اس کی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کی بجائے مسلح جدوجہد کا راستہ متعین کیا۔پرتگیزیوں نے اپنے تئیں PAIGCکی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہیں تھی چھوڑی مگر امیلکار کیبرال اور دیگر راہنما ان کے ہتھے نہیں چڑھے اور وہ پڑوسی ملک گنی جانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ملک حال ہی میں فرانس سے آزاد ہوا تھا جس کے صدر احمد سیکو طورے کا شمار افریقہ کے عظیم سامراج مخالف ترقی پسند رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ احمد سیکو طورے نے نہ صرف PAIGCقیادت کو اپنے دارالحکومت کونکری میں پناہ دی بلکہ ان کی ہر ممکنہ مدد بھی کی جس کی بنیاد پر بعدازاں کیبرال مسلح جدوجہد کر سکے۔ اس واقع کے بعد PAIGCنے سنجیدگی سے مسلح جدوجہد کے امکانات پر غور شروع کر دیا۔ ستمبر 1959 کو ہونے والی کانفرنس میں PAIGCنے جدوجہد کا پرانا طریقہ ترک کرنے اور مسلح جدوجہد کی تیاری کا فیصلہ کیا۔کانفرنس میں پارٹی نے دیہی عوام کو حرکت میں لاک مسلح جدوجہد کے لیے تیار کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی اپنے کام کو جاری رکھنے اور مزید بڑھانے کے عزم کا احاطہ کیا گیا۔ اس کانفرنس میں PAIGCکی قیادت نے گنی بساؤ کے تمام نسلی گروہوں کو پارٹی کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ جب کہ افریقہ بھر میں قومی آزادی کی دیگر تحریکوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اس تاریخی کانفرنس میں کارکنوں کو سیاسی اور تکنیکی تربیت دینے اور سرگرم کارکنوں کو ملک کے مختلف حصوں میں روانہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

یوں پرتگیزی سامراج نے اپنے تشدد کے نتیجے میں گنی بساؤ کے انقلابیوں کو جوابی انقلابی تشدد کی راہ اپنانے پر مجبور کر دیا۔ ٹھیک یہی کچھ پرتگیزیوں نے انگولا اور موزمبیق میں بھی کر کے وہاں کے انقلابیوں کے لیے مسلح جدوجہد کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا جس میں بہرحال پرتگیزی استعمار کی خوب پٹائی ہونی تھی۔ اب PAIGCنے بندوق اٹھانے کا فیصلہ کر لیا تھا فرانز فینن کا یہ کہنا بالکل درست ثابت ہوا کہ تشدد کو انقلابی تشدد سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔