امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 14 – مشتاق علی شان

39

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 14
مصنف: مشتاق علی شان

کیبرال کے افکار | ثقافت کا ہتھیار

جب نازی جرمنی کے معروف پروپیگنڈا وزیر گوئبلز نے کچھ لوگوں کو ثقافت کے بارے میں گفتگو کرتے سنا تو غصے میں آکر پستول نکالا اور ان سب کو قتل کر ڈالا۔ یعنی کہ نازی اس امر سے بخوبی واقف تھے کہ سامراج کے خلاف مزاحمتی عمل میں ثقافت کا کردار کتنا کلیدی ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ مخصوص حالات میں ایک بالا دست قوت کے لیے کسی دوسرے ملک پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا بہت مشکل نہیں ہوتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بالادستی کی مادی بنیادیں چاہے جتنی بھی مضبوط اور مستحکم ہوں اسے برقرار رکھنے کے لیے زیر دست لوگوں کی ثقافت کو کچلنا ضروری ہے۔ کسی بھی سماج پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کا مطلب اس سماج کی ثقافت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا بھی ہوتا ہے۔ اگر اس سماج کی ثقافتی زندگی کسی نہ کسی حوالے سے چلتی رہے تو سامراجی قوتوں کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا۔ یقیناً ثقافتی مزاحمت یکدم سے سیاسی یا معاشی بغاوت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونی تجاوز کار یا بالادست کوئی بھی قوت عمومی طور پر دو قسم کی حکمتِ عملیاں تشکیل دیتی ہیں۔

(۱) مقامی آبادی کا مکمل طور پر صفایا کردینا تاکہ ثقافتی مزاحمت کے امکانات ہی ختم ہو جائیں۔
(۲) مقامی ثقافت کو تسلیم کرتے ہوئے بالا دستی کے ایسے سیاسی و معاشی کو قائم رکھنا جسے مقامی آبادی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو۔

اس سلسلے میں پہلی حکمت عملی کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مقامی آبادی کے وجود کے خاتمے کے ساتھ بالادستی کا مقصد اور اور اس کی حاصلات کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جبکہ دوسری حکمتِ عملی تاریخ میں آج تک کامیاب ہی نہیں ہوسکی ہے۔ یعنی کہ یہ ناممکن ہے کہ ایک سماج کے لوگوں کو سیاسی و معاشی طور پر غلام بھی بنایا جائے اور ان کی ثقافت کو بھی زندہ رکھا جائے لہٰذا سامراجی بالادستی عملی طور پر ایسے اصولوں پر مبنی رہی ہے جونسل پرستی پر مبنی ہوتی ہے اور اس میں سیاسی نمائندگی محض ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال وقت کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کا سامراجی ثقافت کو اپنانے کی پالیسی ہے۔ اس طریقہ کار یا حکمتِ عملی میں سِرے سے مقامی ثقافت کے وجود سے ہی انکار کر دیا جاتا ہے۔ پرتگال کے آمر سالا زار نے ایک یادگار جملہ کہا تھا کہ ”افریقہ ہے ہی نہیں۔“ جنوبی افریقہ میں موجود نسل پرستانہ نظام بھی اسی طرح کی ایک کوشش ہے جس میں سفید فام اقلیت نے سیاہ فام اکثریت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اور دعویٰ یہ کیا جارہا ہے کہ ان کو ”مہذب“ بنانے کے عمل میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔

یہ چند اس طرح کے تماشے ہیں جو سامراجی قوتیں مقامی آبادی کی ثقافت کو قابو میں رکھنے کے لیے کرتے ہیں۔ ان مثالوں سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ عوام کی معاشی زندگی ان کی ثقافتی زندگی سے کس طرح جڑی ہوئی ہے۔ بنیادی طور پر ثقافت کو معیشت اور سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سماج ان سب کا مجموعہ ہے اور یہ تعلق انسان کے انسان کے ساتھ اور انسان و قدرت کے درمیان رشتے میں واضح ہوتا ہے۔ ثقافت بیرونی بالادستی کے خلاف مزاحمت کا ستون اس لیے بھی ہے کہ سماج کے مادی حقائق کا اظہار نظریاتی یا تصوراتی سطح پر ثقافت کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ ثقافت بیک وقت عوام کی جدوجہد کا ثمر اور تاریخ کا نتیجہ بھی ہے۔ جو بالادست قوت اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکی اس کے منصوبوں کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اس طرح بین الاقوامیت کے اصولوں پر استوار کچھ مزاحمتی تحریکوں نے بھی ثقافتی جدلیات کو مدِ نظر نہ رکھ کر اپنی قبر کھودی ہے۔

اب ہم قومی آزادی کی طرف آتے ہیں جسے سامراجی بالادستی کے تناظر میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ سامراجی بالادستی کی بنیاد زیر دست سماج کی پیداواری قوتوں کو پسماندہ رکھنا ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے عوام کو اپنی مخصوص تاریخی ترقی کے عمل سے روکا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں پیداواری قوتوں کی ترقی کو سمجھنا دراصل اس سماج کے تمام پہلوؤں کو سمجھنے کا نام ہے اور جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ پیداواری قوتوں کی ترقی کا تعلق ثقافت سے بھی ہے۔ یعنی تاریخ اگر پیداواری قوتوں کی ترقی کا نام ہے تو ثقافت بھی اس تاریخ کی تخلیق اور خود اس تاریخ کو بدلنے کا نام ہے جو کہ طبقاتی جدوجہد میں ظاہر ہوتی ہے۔

قومی آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ابتدا ثقافتی سطح پر ہوتی ہے۔ یعنی اس طرح کے ثقافتی مواد میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا ہے جو کہ سامراجی بالادستی کے خلاف عوام کو اُبھارتا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ مقامی ثقافت سامراجی ثقافت کے نہ صرف یہ کہ تابع نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے اس سے بالاتر ہے کہ مقامی ثقافت ترقی پسند اور آزادی پسند ہے جبکہ سامراجی ثقافت نسل پرستی پر مبنی اور غلامی پسند ہے۔ یہ ابتدائی سطح بنیادی نوعیت کی حامل اس لیے ہے کہ اس سے قبل مقامی آبادی نے سیاسی و معاشی بالادستی کو کسی نہ کسی وجہ سے تسلیم کیا ہوا ہوتا ہے اور اس بالادستی کے خلاف بغاوت کا پہلا عَلم ثقافتی سطح پر بلند ہوتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ قومی آزادی بنیادی طور پر ایک سماج میں رہنے والے لوگوں کا اپنی تاریخ تخلیق کرنے کی خواہش کا نام ہے۔ قومی آزادی کا مقصد ان پیداواری قوتوں کو ترقی دینا ہے جن پر سامراج نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یعنی کہ قومی آزادی صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب سماج کی پیداواری قوتیں ہر قسم کی بیرونی بالا دستی سے آزاد ہو جاتی ہیں۔

سامراجی بالادستی سے آزادی حاصل کرنے والی قوم ہی خود فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ کس قسم کے سماجی نظام کے اندر رہنا چاہتی ہے اور اس کے پیداواری رشتے کیا ہوں گے۔ یہی وہ فیصلے ہوتے ہیں جو کہ اس قوم کی ثقافتی ترقی کو بھی طے کرتے ہیں۔ مزید برآں ایک قوم ثقافتی حوالے سے اس وقت مکمل طور پر آزاد ہوگی جب وہ اپنی ان مخصوص ثقافتی بنیادوں کو قائم کر لے جو کہ سامراج نے تباہ کر دی تھیں۔ یہ ماضی کی طرف مراجعت کا نام نہیں بلکہ آج کے معروضی حالات کی روشنی میں اپنے سماج کے اندر منفی ڈھانچوں اور روایات کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرونی ثقافت کی بالادستی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دینے کا نام ہے۔ یعنی سامراجی بالادستی کے لیے اگر مقامی ثقافت کو کچل دیا جانا ضروری ٹھہرتا ہے تو پھر قومی آزادی ایک ثقافتی عمل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی تحریکوں کی قیادتوں کو ثقافت کی اہمیت اور اپنے عوام کی ثقافتی سطح سے آگاہی انتہائی ناگزیر ہے۔ ثقافت کسی ایک قوم یا تہذیب کی اجارہ داری نہیں ہے۔ ہر سماج ایک ثقافت کو لیکر چلتا بھی ہے اور خود ثقافت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ قومی آزادی کی تحریک کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ثقافت کے ذریعے عوام کی تحریک کو بنائے۔ یہاں ثقافت سے ہماری مراد چند بااثر حلقوں کی ثقافت نہیں ہے بلکہ ہماری مراد عوامی ثقافت ہے۔

ہماری جدوجہد کے لیے ضروری ہے کہ مروجہ سماجی ڈھانچوں کا ادراک کیا جائے۔ اس حوالے سے سماج میں موجود مختلف طبقات اور گروہوں کی ثقافت کو سمجھنا ہوگا یعنی کہ سماج کے ہر حلقے میں ایک ثقافت نہیں ہے۔ قومی آزادی کی تحریک کی جانب مختلف حلقوں کے رویے کا تعین یقیناََ طبقاتی مفادات کی روشنی میں ہوتا ہے لیکن یہ اس حلقے یا طبقے کی ثقافت کا بھی سوال ہے۔ یہ بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ ایک طبقے کے مختلف افراد کا قومی آزادی کی جانب رویہ مختلف ہوتا ہے جو کہ بنیادی طور پر ان کے ثقافتی اقدار کو ظاہر کرتا ہے۔ افریقہ میں انگنت ثقافتی رویے اور تصورات ہیں جنھیں سمجھنا تحریک کا فرض اور ضرورت ہے۔ بے شمار لسانی، مذہبی گروہ موجود ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ایک طبقے میں افراد مختلف انداز میں سوچتے اور عمل کرتے ہیں اس لیے ان تمام پیچیدگیوں کی وجہ سے تحریک کو منظم کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اس مشکل سے انکار کرنا بھی انتہائی درجے کی حماقت ہوگی۔

اس سلسلے میں سب سے نمایاں مسئلہ وہ سامراجی حکمتِ عملی ہے جس کے تحت مقامی آبادی میں قصداََ ثقافتی تفریق قائم کی جاتی ہے۔ مقامی آبادی میں سامراجیوں کی زبان بولنے والے اور ان کی عادات و اطوار اپنانے والی اشرافیہ بالا دستی کے اس نظام کی ستون ہے۔ ”پڑھا لکھا“ دانشور قومی آزادی کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے تاوقتیکہ وہ اپنی ثقافتی غلامی کو تسلیم کر کے اس سے خود کو آزاد نہیں کر لیتا۔ یعنی کہ اس دانشور کو اپنے عوام کی ثقافت اور اقدار کو اپنے سے کم تر سمجھنے کی بجائے ان سے سیکھنے کے لیے خود کو تیار کرنا پڑتا ہے۔ بہر کیف قومی آزادی کی تحریک میں اس طرح کی اشرافیہ کے بہت سے لوگ آئیں گے جو کہ اپنے سامراج پرست ماضی سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ یہی وہ حلقہ ہے جو قومی آزادی کی تحریک کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرتا ہے جس کے ذریعے سامراج اپنے مفادات کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس لیے قومی آزادی کی تحریک میں ان طبقات پر ہمیشہ گہری نظر رکھنی چاہیے جو تاریخی طور پر سامراج کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی بالادستی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کے طبقاتی مفادات ہی ہوتے ہیں جو انہیں اس امر پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ قومی آزادی کی تحریک کے اندر مشکوک کردار ادا کرتے رہیں۔

یہ ہیں وہ تمام مسائل جو کہ ایک حقیقی قومی ثقافت کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تاہم اگر ثقافت کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے حقیقی آزادی کی جدوجہد میں اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو نہ صرف قومی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ ایک ایسی دنیا کی تعمیر بھی کی جاسکتی ہے جس میں تمام انسان اور قومیں تاریخ کو از سرِ نو تخلیق کریں گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔