امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 13 – مشتاق علی شان

68

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 13
مصنف: مشتاق علی شان

کیبرال کے افکار | جڑوں کی بازیافت

دیہی علاقوں کے عوام پر اور شہری آبادی کے خاصے بڑے حصے پر نوآبادکار ملک کی ثقافت کا یا تو کوئی اثر ہوتا ہی نہیں یا بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ سامراجی تسلط مقامی ثقافت کو حقارت سے دیکھتا اور دباتا ہے اور عوام میں کسی طرح کی بھی ثقافت عام کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ عوام اس کے لیے یا تو استحصال کے لیے ایک شے ہوتے ہیں یا مجبور محنت کا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں۔ عوام کی طرف سے ثقافتی مزاحمت بھی ہوتی ہے کیونکہ سیاسی غلبے اور معاشی استحصال کے جواب میں عوام کو نظر آتا ہے کہ اُن کا تشخص برقرار رکھنے میں ان کی اپنی ثقافت ایک فصیل بن جاتی ہے جس کے پیچھے وہ پناہ لے سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا خیالات کامطلب یہ ہے کہ بالعموم ثقافت یا روایت کو بہت بڑا کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور تباہی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ثقافت دبائی جاتی ہے، عقوبت اٹھاتی ہے، تضحیک کا نشانہ بنتی ہے، جن سماجی گروہوں نے غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے ان کے ہاتھوں فریب کھاتی ہے مگر جنگلوں میں دیہات میں اور سامراجی غلبے سے بچھاڑ کھائے ہوئے عوام کے دل وجان میں رچ کے پناہ لیتی ہے۔ ثقافت ان تمام حملوں کا مقابلہ کرتی ہے اور پھر آزادی کے لیے جدوجہد کے دوران دوبارہ کِھل اٹھتی ہے۔ چنانچہ ”ثقافتی احیا“ یا ”جڑوں کو دوبارہ پالینے“ کا سوال ان عوام کے لیے نہ اٹھتا ہے اور نہ اٹھ سکتا ہے کیونکہ ثقافت کا گہوارہ یہی عوام ہوتے ہیں اور سماج کا یہ واحد حصہ ہے جو ثقافت کو زندہ رکھتا ہے، ترقی دیتا ہے اور یوں تاریخ مرتب کرتا ہے۔

یہ تمیز کرنا ضروری ہے کہ ایک طرف تو یہ عوام ہوتے ہیں جو دراصل ثقافت کو محفوظ رکھتے ہیں اور دوسری طرف وہ سماجی گروہ ہوتے ہیں جو سامراج کی ثقافت قبول کرچکے ہوتے ہیں یا اس میں داخل ہوچکے ہوتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے معاشرے سے کٹ کر اپنی ثقافت سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔

نوآبادکاری کی دوایک نسلیں گذرتے گذرتے ایک سماجی طبقہ ابھرتا ہے جس میں انتظامیہ کے افسر ہوتے ہیں، وہ لوگ ہوتے ہیں جو معاشی نظام کے مختلف شعبوں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔ بالخصوص تجارت پیشہ لوگ ہوتے ہیں، دیگر شہری پیشوں سے متعلقہ افراد ہوتے ہیں، کچھ دیہاتی زمیندار ہوتے ہیں اور کچھ شہری جائیدادوں کے مالک ہوتے ہیں، یہ مقامی نچلی بورژوازی شہروں اور دیہات میں بسے ہوئے محنت کش عوام اور غیر ملکی حکمران طبقے کے معدودے چند مقامی کارندوں کے بیچوں بیچ کھڑی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ انتظام رکھنا چاہتی ہے کہ عوام کے ساتھ اس کا رابطہ کم سے کم ہو اور سامراج کے نمائندوں میں اپنے آپ کو ضم کر دینے کی کوشش میں اکثر اوقات اپنے خاندانی اور نسلی رشتے کھوبیٹھی ہے اور ذاتی طور پر بلا امتیاز ہمیشہ بہت بھاری قیمت ادا کرتی ہے لیکن چند افراد کے علاوہ بالعموم یہ لوگ پورے نظام کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹیں دور کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس طبقے کے لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں سماجی اور ثقافتی تضادات کے اسیر ہوتے ہیں۔ایک اضافی طبقے یا ”اضافی بنائے ہوئے“ طبقے کی حیثیت سے ان کا جو کردار بنتا ہے اس کردار سے فرار کے لیے ان کے سامنے کوئی رستہ نہیں ہوتا۔

سماج اور ثقافت سے متعلق نچلی بورژوازی کے یہ تضاد اور خلفشار ہمیشہ اپنے اپنے مادی حالات اور اپنے اپنے نجی ثقافتی معیار کے مطابق طے ہوتے ہیں، مگر نمایاں اور مشترک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ سارا کھیل انفرادی سطح پر کھیلا جاتا ہے اور اجتماعی عمل نہیں بن پاتا۔ ایک طرف نجی زندگی کا یہ ناٹک ہوتا ہے دوسری طرف عوام الناس اور نوآبادکار حکمران طبقے کے مابین تشدد بھرے تصادم ہوتے ہیں۔ ان ہر دو قوتوں کے درمیان مقامی بورژوازی میں تلخی اور محرومی کا احساس جنم لیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے لوگوں کی سمت بڑھتی ہے، انہی لوگوں کی سمت جو سماج اور ثقافت کے اس ٹکراؤ کے بالکل دوسرے سِرے پر ہوتے یعنی اپنے ملک کے عوام کی سمت۔ اسی وجہ سے ”جڑوں کی طرف پلٹ آنے“ کا سوال پیدا ہوتا ہے اور جتنی اس نچلی بورژوازی (یا مقامی اشراف) میں اپنے معاشرے سے علیحدگی ہوتی ہے، اتنا ہی یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے لیکن ”جڑوں کی بازیافت“ از خود غیر ملکی غلبے کے خلاف جدوجہد کا عمل نہ ہوتا ہے نہ ہو سکتا ہے اور اس کے معنی یہ بھی ہونے ضروری نہیں کہ واقعی روایات کی جانب ہی پلٹ جائے۔ مُدعا فقط یہ ہوتا ہے کہ اقتدار میں آئی ہوئی طاقت کی مفروضہ ثقافتی برتری سے مقامی نچلی بورژوازی انکار کرسکے۔

جب ”جڑوں کی بازیافت“ افراد سے آگے بڑھ جائے اور اپنا اظہار ”گروہوں“ یا تحریکوں کی صورت میں کرنے لگے تو تضاد جدوجہد میں تبدیل ہو جاتا ہے (یہ جدوجہد چاہے خفیہ رہے چاہے سرِ عام ہو) اور غیر ملکی تسلط سے آزادی کے لیے جدوجہد کی بشارت بن جاتا ہے۔ اس طرح ”جڑوں کی بازیافت“ اس وقت تک از خود کوئی تاریخی اہمیت نہیں رکھتی جب تک کہ یہ نہ صرف آزادی کی جدوجہد میں واقعی شرکت کا وسیلہ نہ بن جائے بلکہ عوام کی اُمیدوں، اُمنگوں کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط ہم آہنگی کی شکل نہ اختیار کر جائے کیونکہ عوام نہ صرف خارجی ثقافت کے خلاف پیکار کرتے ہیں بلکہ ان کی مزاحمت خارجی غلبے کے ہر حصے اور ہر اظہار کے خلاف ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ”جڑوں کی بازیافت“ وقتی قسم کے فائدے اٹھانے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتی اور شعوری یا غیر شعوری طور پہ ایک قسم کی سیاسی موقع پرستی ہوتی ہے۔

(مضمون سے اقتباس)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔