امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 10 – مشتاق علی شان

47

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

امیلکار کیبرال | جدوجہد اور افکار | قسط 10
مصنف: مشتاق علی شان

انقلاب پر کیا گزری ؟ – حصہ اول

آزادی کے بعد گنی بساؤ نے لوئس کیبرال کی قیادت میں سوشلسٹ نظامِ معیشت اپناتے ہوئے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ تعمیر و ترقی کے اس سفر میں گنی بساؤ کو سوویت یونین، کیوبا اور دیگر سوشلسٹ ممالک کی معاونت حاصل تھی۔ 21فروری 1975کو گنی بساؤ اور سوویت یونین کے درمیان بڑے پیمانے پر اقتصادی، ثقافتی، تکنیکی اور سائنسی تعاون کے ساتھ ساتھ ایک تجارتی اور فضائی خدمات کے معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے باعث گنی بساؤ کے انقلاب کا سفر تیز ہوا۔ آزادی کے بعد پرتگال کی نئی حکومت سے بھی گنی بساؤ کے تعلقات اچھے رہے کہ فاشسٹ حکومت اور اس کی سامراجی پالیسیوں کا خاتمہ ہو چکا تھا۔

گنی بساؤ سمیت افریقہ کے متعدد ممالک نے آزادی تو حاصل کرلی مگر اب وہ امریکی سامراج کے مقابل تھے جس نے اپنے استعماری مقاصد کے لیے دنیا کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی سازشوں کے جال پھیلانا شروع کر دیئے تاکہ ان ممالک کو اپنے تسلط میں رکھ کر یہاں کے وسائل لوٹے جاسکیں اور سوشلزم کا راستہ روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے امریکی سامراج نے کہیں مسلح دہشت گرد فاشسٹ گروہوں کو استعمال کیا جیسے انگولا میں ”یونیٹا“ اور موزمبیق میں ”رینامو“ تو کہیں اس نے فوجی طالع آزماؤں کو ان ممالک پر مسلط کیا جیسے کانگو میں۔ یوں افریقہ جو پانچ سو سال تک سفید سامراج کے زیر تسلط رہا وہ گزشتہ نصف صدی سے یانکی درندے کی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ لاطینی امریکا اور ایشیا کے کتنے ہی انقلابات کی طرح افریقہ کے انقلابات کو بھی یہ عفریت ہڑپ کرگیا اور کتنی ہی قومی آزادی کی سامراج مخالف تحریکیں اسی موذی کی ڈسی ہوئی ہیں۔ آج بھی صومالیہ، مالی اور کانگو وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں جبکہ لیبیا کا ایک بہادر بیٹا معمر قذافی جس دہج سے مقتل کو گیا اور پھر لیبیا کا جو حشر کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ سو گنی بساؤ کے انقلاب پر شب خون مارنے کے لیے امریکی سامراج نے فوج ہی کا سہارا لیا جو دنیا بھر میں اس کا خاص داؤ رہا ہے۔ بھلا امریکی سامراج کے پروردہ فوجی آمروں سوہارتو، پنوشے، مبوتو اور ضیاء الحق وغیرہ کو کون بھول سکتا ہے؟

گنی بساؤ کے انقلاب پر شب خون مارنے والے خائن کا نام جو برنارڈو وی آئیرا تھا جسے 28 ستمبر 1978 کو گنی بساؤ کا وزیراعظم منتخب کیا گیا تھا۔ فوجی پس منظر کے حامل اس غدار نے 14 نومبر 1980 کو فوج کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نام نہاد 9 رکنی ”فوجی انقلابی کونسل“ کا چیئرمین بن بیٹھا۔ لوئس کیبرال کو گرفتار کر کے حوالہی زندان کر دیا گیا۔ سامراجی لٹیروں کے ہاتھوں بکنے والے اس غدارِ وطن نے اپنے غاصبانہ قبضے کو جائز اور درست قرار دینے کے لیے پہلے تو لوئس کیبرال کے خاندان کا کیپ وردے سے تعلق ہونے کی وجہ سے کیپ وردے کے باشندوں کا پارٹی پر حاوی ہونے کا واویلا کیا لیکن یہ بات اتنی بے بنیاد تھی کہ اس پر کسی نے یقین نہ کیا۔ پھر اس نے لوئس کیبرال کے ہاتھوں ملک کی ”تباہی“ (جو اصل میں وی آئیراکے قبضے سے شروع ہوئی) کی دہائیاں دینا شروع کی مگر جب اس سے بھی کام نہ چلا تو 28نومبر1980کو پارٹی کے ترجمان اخبار No Pintchaمیں یہ خبر شائع کی گئی کہ ”گنی بساؤ کی آزادی کے بعد وہ مقامی فوجی جو پرتگیزی افواج کے ساتھ PAIGCکے خلاف لڑے تھے ان کا اور پرتگیزی افواج کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام لوئس کیبرال کے حکم سے ہوا تھا جن کی اجتماعی قبریں دریافت کر لی گئی ہیں۔“ (مزے کی بات یہ ہے کہ وی آئیرا ان دنوں خود PAIGCکا ڈپٹی سیکریٹری جنرل تھا) وی آئیرا لوئس کیبرال پر تو کوئی الزام نہ ثابت کرسکا البتہ اس کی اس بغاوت کے نتیجے میں گنی بساؤ اور کیپ وردے کی یونین ختم ہوگئی اور کیپ وردے کی PAIGCشاخ نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یوں وہ مشترکہ جدوجہد اور اتحاد جو امیلکار کیبرال کی انتھک کاوشوں سے وجود میں آیا تھا ختم ہوگیا۔

لوئس کیبرال 13 ماہ تک جیل میں رہے لیکن ان پر کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا اور نہ چاہتے ہوئے بھی وی آئیر انھیں رہا کرنے پر مجبور ہوا اور کامریڈ فیڈل کاسترو کا خصوصی طور پر بھیجا گیا کیوبن ائیر لائین کا طیارہ کامریڈ لوئس کیبرال کو ہوانا لے گیا جہاں وہ 1984 تک مقیم رہے اور بعد ازں اپنے خاندان سمیت پرتگال چلے گئے۔

اب ذرا وی آئیر کا احوال سنیں کہ یہ اچانک کہیں سے نہیں تھا ٹپکا بلکہ آستین کا یہ سانپ برسوں PAIGCکے اندر ہی پنپتا رہا اور موقع ملتے ہی اس نے انقلاب کو ڈس لیا۔ گنی بساؤ کےPapeقبیلے سے تعلق رکھنے والا وی آئیرا 1960میں PAIGCکا رکن بنا اور بعد ازاں فوجی تربیت حاصل کی۔ گوریلا جنگ کے زمانے میں کئی ایک عہدوں پر رہا۔ 1961میں Catioنامی علاقے کا کمیسار اور آرمی چیف مقرر ہوا۔ 1964میں جنوبی محاذ کا کمانڈر اور 1965 میں پولٹ بیورو کا سیاسی مندوب بنا جبکہ 1970 سے 71 تک PAIGCکی وار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن رہا۔ 1973 میں PAIGCکے مستقل سیکریٹریٹ کا رکن اور اسی سال بننے والی قومی اسمبلی کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل بنایا گیا۔28ستمبر 1978کو وزیراعظم بنایا گیا اور محض ڈیڑھ ماہ بعد اس نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وی آئیرا جیسا شخص اتنے عرصے تک پارٹی کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہا مگر اس کے عزائم کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکا۔ جبکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ گنی بساؤ میں پارٹی کے اندر وی آئیرا کے اس اقدام کے خلاف کوئی مؤثر اور توانا آواز یا مزاحمت کیوں سامنے نہ آ سکی؟ آئیے ان سوالات کے جوابات ڈھونڈتے ہیں۔

دراصل اس کی ایک وجہ تو پیٹی بورژوا طبقے کی روایتی موقع پرستی ہے کہ جب یہ اقتدار کے اتنے قریب پہنچتا ہے تو پھر اس کے لیے خود پر قابو پانا دشوار ہو جاتا ہے اور یہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے فوراََ ہی کسی سازش کا حصہ بننے یا خود اس کا خالق بننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قومی آزادی اور انقلابی تحریکوں میں اس طبقے کی شمولیت کے بارے میں ہم پچھلے صفحات پر امیلکار کیبرال کا یہ خیال پیش کرچکے ہیں کہ یہ ان تحریکوں کی ناگزیر کمزوریوں میں سے ایک ہوتی ہے لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے سارے افراد آخری نتیجے میں ردِ انقلابی کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ خود عالمی کمیونسٹ تحریک اور قومی آزادی کی تحریکوں سے ایسی لاتعداد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ پیٹی بورژوا طبقے سے تعلق رکھنے والے انقلابیوں نے نہ صرف انقلابات میں بھرپور اور فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ بعد ازاں اس کے دفاع اور تعمیر کے لیے بھی اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں صرف کر دیں۔ دراصل اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ انقلابی نظریات کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور یہ کس حد تک قبول کیے گئے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔