امان اللہ زہری اور ساتھیوں کو بلوچ سیاسی عمل کو مضبوط کرنے کی سزا دی گئی – بی ایس او

48

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ نے کہا ہے 22 ستمبر کا جلسہ عام بلوچ شہداء کے فکر اور کاز کو مضبوط کرنے کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، بی ایس او کے کارکن جلسہ عام میں بھرپور انداز میں شرکت کریں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جلسہ عام کے سلسلے میں بی ایس او کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں کوئٹہ زون کے سابقہ صدر عاطف بلوچ، پریس سیکرٹری عزیز اللہ بلوچ، کوئٹہ زون کے آرگنائزئنگ کمیٹی کے ممبر نزیر بلوچ، بلوچستان یونیورسٹی کے یونٹ آرگنائزر ایوب بلوچ، صدام بلوچ اور مقبول بلوچ سمیت کارکنوں کے کثیر تعداد موجود تھے، اس موقعے پر جلسہ عام کے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور لائحہ عمل طے کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواب میر امان اللہ خان زہری، میر مردان خان زہری اور ان کے ساتھیوں کو صرف بلوچستان اور بلوچ قوم سے حقیقی وابستگی، سیاسی عمل کو مضبوط کرنے کی سزا دی گئی تاکہ بلوچستان کے قد آور سیاسی شخصیات کو راستے سے ہٹا کر جعلی طرز سیاست اور وسائل کے لوٹ مار کو جاری رکھا جاسکے۔

ناصر بلوچ نے کہا کہ شہید نواب امان اللہ زہری اور ان کے خاندان کی قربانیاں بلوچ قوم کے تمام سیاسی کارکنوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے،بی ایس او کے نظریاتی کارکن شہدا کے فکر و فلسلفے اور قربانیوں کو مشعل راہ بناتے ہوئے قومی یکجہتی کے لئے بھرپور مہم چلائیں گے تاکہ تقسیم در تقسیم کا رستہ روک کر حقیقی سیاسی عمل کو پروان چڑھائی جاسکے۔ انہوں نے کہا بی ایس او کے کارکن جلسہ عام میں بھرپور انداز میں شرکت کریں گے۔