اقوام متحدہ و ذیلی ادارے راشد حسین کے بازیابی کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں – فریدہ بلوچ

124

انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین بلوچ کے ہمشیرہ فریدہ بلوچ نے اقوام متحدہ کے بیالیسویں سیشن کے موقعے پر اپنا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ریفیوجیز نے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے راشد حسین کے کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے میرے بھائی کو کسمپرسی کی حالت میں انسانی قوانین کی دھجیاں اڑا کر متحدہ عرب امارات سے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کا کیس یو این ایچ سی آر ابوظہبی میں آج بھی جمع ہے لیکن اس پر شروع دن سے آج تک یو این ایچ سی آر ابوظہبی نے کوئی توجہ نہیں دی۔

فریدہ بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ راشد حسین کا کیس سات جنوری دو ہزار انیس کو یو این ایچ سی آر ابوظہبی میں جمع کرایا گیا تھا اور اسی حوالے سے چوبیس جنوری دو ہزار انیس کو ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے یو این ایچ سی آر ریاض سعودی عرب کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا جس میں انہیں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے یاد دہانی کرائی گئی مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متعلقہ ادارے کی جانب سے پھر بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے اس سنگین عمل کو روکنے کی خاطر کوئی قانونی و انسانی طریقہ اپنا کر راشد حسین کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقعہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا راشد حسین کو چھبیس دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو متحدہ عرب امارات سے لاپتہ کیا گیا چھ مہینے خفیہ سیل میں رکھ کر پھر بائیس جون دو ہزار انیس کو پاکستان کے حوالے کرکے کہا گیا کہ انٹرپول کے ذریعے راشد حسین کو پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے۔

فریدہ بلوچ نے سوال اٹھایا کہ کیا اس تمام دورانیے میں خود کو عالمی انسانی حقوق کا چمپیئن ادارہ کہنے والے اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی اداروں نے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرکے ایک انسانی حقوق کے کارکن کی زندگی کو شدید خطرے میں مبتلا نہیں کردیا؟

انہوں نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے کونسل کے بیالیسویں سیشن میں راشد حسین کی گمشدگی پر متحدہ عرب امارات اور پاکستانی حکومتوں سے سوال کیا جائے گا اور راشد کو بازیاب کرانے میں اہل خانہ کی مدد کی جائیگی۔