یوم شہداء 13 نومبر اور تو تو، میں میں ۔ نادر بلوچ

148

یوم شہداء 13 نومبر اور تو تو، میں میں

تحریر۔ نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اجتماعی تبدیلی کے لیئے ہر سماج کوشش کرتی ہے، اس کیلئے سیاسی و سماجی کارکن ہمیشہ متحرک رہتے ہیں اور مثبت عمل کے زریعے سیاسی شعور اجاگر کرتے ہیں تاکہ سیاسی و سماجی ترقی ممکن ہو۔ یہ سلسلہ کھبی رکتی نہیں بلکہ یہ سلسلہ سماج کی ابتداء سے جاری ہے۔ اسکے ٹہرنے سے سماج و معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ بلوچ قومی تحریک کا جائزہ لیں تو اس میں جدید سائنسی تبدیلیوں کے لیئے ہمیشہ کوشش ہوتی رہی ہے، ان میں انفرادی اور گروہ کی صورت میں ہمیشہ سے مختلف نام نظر آتے ہیں نوری نصیر خان، یوسف عزیز مگسی سے لیکر آزاد بلوچستان کی 1948 کی اسمبلی بننے تک سب ایسی کوششیں تھی جو قومی تشکیل کو سیاسی شعور کے تحت عملی جامہ پہنانے کیلئے تھیں۔

پاکستانی قبضے کے بعد 1962 میں بلوچ طلباء تنظیم بی ایس او کا قیام عمل میں آیا، جس نے بلوچ قومی سیاست کو تنظیمی شکل دیکر قومی سوچ و فکر کو سیاسی عمل و اداروں کے حوالہ کیا۔ بلوچ قومی جہد بلوچ عوام سے منسک ہے۔ بلوچ صدیوں تک قبائلی نظام کے ذریعے اپنی سرزمین کا دفاع کرتی تھیں۔ پاکستانی قبضے کے بعد جب ریاست کو پہلی مزاحمت کا سامنا ہوا تھا تو قبائلی نظام کے تحت ہوا۔ آغا عبدالکریم خان کے بعد بھی اسی نظام ہی سے بلوچ مزاحمت کی دوبارہ بنیاد پڑی۔ ون یونٹ کے خلاف احتجاج ہو یا نیپ کے دور میں آباد کاروں کا انخلاء ہو، اس میں سردارعطاﷲ مینگل، سردار خیر بخش مری اور بی ایس او کی جہد ایک ہی مقصد کے لیے تھی۔ اس دور میں بلوچ قوم کے پاس فوری دستیاب نظام، تنظیمی اور قبائلی نظام ہی تھے، جس نے مشترکہ قومی مفادات کا دفاع کیا۔ نہیں تو جن چیلنجر کا سامنا آج عوام کر رہے ہیں، ریاست کی جانب سے غیر قانونی آباد کاری، وسائل کی لوٹ مار یہ سب ریاست 1970 سے پہلے ہی کرنا چاہ رہی تھی لیکن بلوچ رہنماوں نے اپنے محدود وسائل کے باوجود قومی سوچ کو پروان چڑھایا اور کوہلو و کاہان کے علاقوں سمیت بلوچ قومی وسائل کا دفاع کیا۔ بلوچ جہد کاروں نے ریاست کے خلاف مزاحمت کی وہ داستان چھوڑی جو آج بھی ریاست کے لیئے خوف کی علامات ہیں۔ ان لازوال قربانیوں میں ہزاروں بلوچوں کے گھر اجڑ گئے۔ ماوں بہنوں کو بازاروں میں بیچا گیا سینکڑوں فرزندوں کو کال کوٹھڑیوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بی ایس او کے کافی ساتھی بھی اس مسلح جہد کا حصہ بنے۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو یہ احساس ہوا کہ بلوچ جہد کی بنیادیں تنظیمی و قبائلی نظام میں پیوست ہیں، تو ان انتظامی ڈھانچوں کو کمزور کرنے کے لیئے مختلف طریقہ کار اپنائے۔ تنظیمی و قبائلی نظام کو تقسیم در تقسیم اور منفی پروپگنڈے کے زریعے سے کمزور کیا گیا تاکہ بلوچ قوم کی اہم دفاعی فصیل کو توڑ کر اپنے مزموم مقاصد کو دوام دیا جا سکے۔ سر اٹھا کر چلنے والے سرداروں کو پابند سلاسل کر دیا اور باقیوں کو قبائلی دشمنیوں اور کرپٹ بنا کر ریاستی اداروں کے ذریعے بدنام کردیا یہ آنکھ مچولی ریاست اور قبائلی نظام کے درمیان آج بھی جاری ہیں۔ ایک کردار دوسرے کردار کو شکست دینے کیلئے سرکار کے گود میں بیٹھ جاتی ہے۔ مشرف کے دور میں 72 سردار اب 120 تک پہنچ چکے ہیں لیکن ریاست کے خلاف جو تین سردار تھے انکے جانشین آج بھی بلوچ قومی سوچ کے علمبردار ہِیں۔

انسان کی تخلیق کی ہوئی ہر نظام میں کمی اور کوتاہیاں ہوتی ہیں، چاہے وہ صدیوں پرانا قبائلی نظام ہو یا آج اس دور کی جدید سیاسی تنظیمیں ہوں، ان میں تبدیلی اور ارتقاء کی گنجائش ہمیشہ رہیگی اور جہاں جہاں باشعور افراد ہوں گے وہ اپنے ہر عمل کو مثبت انداز میں آگے بڑھاینگے اور اپنے اداروں کا دفاع کریں گے۔ آج پچھلے 20 سال سے بلوچ قومی جہد میں بے شمار نئی سیاسی و سماجی تنظیموں کا اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشانی ہے کہ بلوچ قوم جدیدیت کو اپنا رہی ہے یہ ایک تاریخی تسلسل ہے۔ اس تحریک کو سیاسی اقابرین اور جہد کاروں نے بے شمار قربانیاں دیکر دوسری سے تیسری نسل تک اس موجودہ شکل میں پہنچایا ہے۔ سنگلاخ پہاڑوں سے نکل کر یہ تحریک ہر گھر میں پہنچ چکی ہے اس کا سہرا صدیوں سے بلوچستان کے ہر کونے میں بلوچ ننگ و ناموس کی حفاظت کیلئے شہید ہونے والے ثپوتوں کو جاتا ہے جنکی لازوال قربانیوں نے بلوچ قومی شعور کو پختہ کیا ہے۔

جہد آزادی کی تحریکیں نسل در نسل اور کڑی بہ کڑی ایک دوسرے سے جڑ کر اپنی ایک تاریخ بناتی ہیں، کوئی ایک نسل یا تنظیم یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ یہ سب اسکے دور میں ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ جہد کی تاریخ 70 سال سے پاکستانی قبضے میں جاری ہے۔ آغا عبدالکریم کے جراتمندانہ فیصلے سے لیکر بابا خیربخش مری اور بزرگ بلوچ رہنما عطاﷲ مینگل اور شہید نواب اکبر بگٹی و بالاچ و اسد مینگل کی شہادتوں کو بلوچ تاریخ میں ایک اثاثے کی حثیت حاصل ہے ان سے انحراف اپنے تاریخ سے انحراف ہوگی اور ان جہد کاروں کی قربانیوں کو بے قدر شمار کرنے جیسا ہوگا۔ کسی ایک جہد کار کے کردار و عمل کا موازنہ کسی دوسرے جہد کار سے قطعی طور پر درست عمل نہیں ہوگا اور کسی ایک نسل سے تحریک کو جوڑنا بھی ناانصافی ہوگی۔

بلوچ قومی تحریک کھبی بھی علاقائی نمائندگی کا محتاج نہیں رہی، اسکی مثالیں 1970 سے لیکر آج کی تحریک میں بھی ملتی ہیں، تحریک میں ہر قبیل اور ہر علاقے کے باشعور افراد ہمیشہ شامل ہوتے رہے ہیں جو ہنوز جاری ہے۔ ریاستی ظلم و جبر کے باوجود بابا خیربخش مری اور انکے ساتھیوں نے اگلی نسل تک اس تحریک کو تنظّیمی شکل میں منتقل کی ہے اور حق توار جیسی محدود مگر مثبت سرکلز کے زریعے بلوچ قوم کو واضح اہداف دیئے گئے، جو آج مختلف تنظیموں کی صورت اختیار کرکے بلوچ قوم کو منزل کی طرف بڑھنے میں مدد دے رہی ہیں۔ ریاست نے کھبی بھی بلوچ رہنماوں اور سیاسی کارکنوں کو ایک جگہ ٹکنے کا موقع نہیں دیا، جیل کی سلاخوں سے لیکر جبری جلاوطنیوں تک کارکن ہمیشہ مشکلات کا شکار رہیں لیکن اسکے باوجود بلوچ جہد کار کھبی ریاست کے سامنے سربہ سجود نہیں ہوئے۔ بلکہ ہر بار مزید مظبوط انداز میں ریاست کے لیے مشکلات کا سبب بنتی رہی ہیں۔ ریاست اپنی تمام قوت کو تحریک کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے، سرکاری سردار اور سرکارِی پارٹی جیسے الفاظ بھِی لغط کا حصہ بنے اور آج تک یہ عمل جاری ہے۔ چور ڈاکو سے لیکر سیاسی تماشبینوں تک کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ہزاروں کے حساب سے سیاسی کارکن وفاقی پارٹیوں کے نرغے میں ہیں ان تمام چیلنجز کو مد نظر رکھ کر ہمیں اتحاد و یکجہتی کے ساتھ لائحہ عمل طے کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔

آج اچانک کیوں پھر واپسی اور پستی کی جانب لوٹ رہے ہیں، جب قومی تحریک سے تعلق رکھنے والے کارکن اتحاد و یکجہتی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ تو رہنما کیوں اس غلطی کے درپے ہیں یہی نقصان ریاست نے ہمیں 1970 کی تحریک میں دی تھی فرق صرف یہ ہے کہ اسوقت تحریک کی بنیاد کو قبائلی ڈھانچے کی وجہ سے نقصان دیا گیا۔ آج کیا جانے انجانے میں سرکار کی ان کوششوں کا حصہ نہیں بن رہے، جو تحریک کو کبھی قبائلی اور کبھی اداروں یا تنظیم کے نام پر تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔ آج ہرجہد کار کو یہ معلوم ہے کہ تحریک میں سیاسی اداروں سے لیکر قبائلی نظام سے تعلق رکھنے والے سب یکجا ہیں اور ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق مصروف عمل ہے۔ عمل آزادی سے پہلے بھی جاری ہے اور آزادی کے بعد بھی جارہی رہے گی۔

آج جتنی آزادی پسند تنظیمیں ہیں اس سے زیادہ سرکار نے سینکڑوں وفاقی اور نام نہاد قوم پرست یا مذہبی جماعتوں کو بلوچ قومی تحریک کے سامنے رکاوٹ بناکر کھڑی کر رہی ہے۔ اس تقسیم کو روکنا ہوگا جو وقت کا تقاضہ اور قومی ضرورت ہے ۔ بلوچ قومی جہد سے منسلک ساتھیوں کو کروڑوں بلوچوں تک قومی یکجہتی اور آزادی کی اس آواز کو پہنچانا ہے۔ اسکیلئےجہد کار اپنے تمام موجودہ حاصل وسائل کا استعمال کریں، جہد کار نہ قبائلی بنیاد پر تقسیم ہونگے نہ علاقائی اور نہ تنظیمی غرور کا شکارہونگے بلکہ جہد آزادی کو تاریخی تسلسل سمجھ کر آزادی کے حصول کو ممکن بنائینگے اور آزادی کے بعد بھی یہ جہد جاری رہیگی۔ جب تک بلوچ بحثیت قوم ترقی یافتہ اور مہذہب اقوام کی صفوں میں شامل نہیں ہوتی۔ آج بھی ایسے لا تعداد جہد کار اس تحریک کا حصہ ہیں جو ایک دوسرے کے علاقوں اور قبائلی حیثیت اور سیاسی تنظیموں سے وابستگی کو نہیں جانتے پر وہ سب یہ جانتے ہیں کہ بلوچ قوم کو آزادی کی منزل تک پہنچا کے رہینگے۔ آج جو بھی اس تحریک سے تعلق دار ہیں وہ قبائلی ہوں یا سیاسی و مسلح تنظیمیں ہوں، سب بلوچ قوم کے اثاثہ ہیں اور ایک دن آئیگا کہ ان سب اثاثوں کو اپنے آنیوالی نسلوں کو منتقل کرنا ہے۔ کوئی علاقائی سیاست یا تنظیمی اور قبائلی سیاست الگ رہ کر اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ 13 نومبر کا یوم شہداء ہو یا الگ الگ قومی رہنماوں کی یوم شہادتیں ہوں سب قابل قدر اور محترم دن شمار کیئے جائیں۔ بلوچ قوم، نوجوان اور جہد کار اپنی بنیادوں اور تحریک سے معمولی تفریق سے الگ نہیں ہونگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔